Thursday , October 19 2017
Home / مضامین / مفتی سعید کے بعد کشمیر کا سیاسی منظر نامہ

مفتی سعید کے بعد کشمیر کا سیاسی منظر نامہ

جگدیش سنگھ کشواہا
مفتی محمد سعید کی موت سے ملک نے ایک قائد کھودیا ہے ، جس نے ملک کی تہذیبی ، لسانی اور مذہبی کثرت کو وحدت کے دھارے میں لانے کے چیلنج کو آگے بڑھ کر قبول کیا تھا ۔ انھوں نے محض جموں و کشمیر کو ملک کے ساتھ جذباتی طور پر جوڑے رکھنے کی کوشش کی بلکہ یہ یقینی بنایا کہ اس منفرد اور متنازعہ ریاست کے تینوں حصے ، حموں ، کشمیر اور لداخ اپنے یہاں اٹھنے والی لگاتار مخالف آوازوں کے باوجود ایک دوسرے کے قریب آئے ۔ اس بیحد مشکل کام کو انجام دیتے ہوئے نہایت نرم دلی کے ساتھ خود کو قابو میں رکھے رہے ۔ بیحد حساس رہے کہ کسی شخص کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچنے پائے ۔ قومی قائد سے ایک علاقائی پارٹی کے قومی لیڈر بننے تک کا ان کا سفر نہایت دلچسپ رہا ۔ سال 1999 میں پیپلس ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی تشکیل کے بعد انھیں ایک شخصیت اور ایک قائد کی شکل میں نئے روپ میں دیکھا گیا ۔

پی ڈی پی نام سے علاقائی پارٹی بنانے کے ساتھ ہی انھیں احساس ہوگیا کہ ان کے وطن کے تمام طبقات کے لوگوں کی امیدوں کو پورا کرنے کے لئے اس پارٹی کو بنایا جانا کتنا ضروری ہے ۔ ان کا ماننا تھا کہ ملک کی دیگر ریاستوں سے تعلقات بہتر بنانے میں علاقائی پارٹی بہتر رول ادا کرسکتی ہے ۔ انھوں نے محسوس کیا ان کی ہارٹی بعد میں سہی سماج خاص طور پر وادی میں الگ تھلگ پڑے طبقات کا دل جیتنے میں مددگار ہوسکتی ہے ۔ پی ڈی پی کا قیام عمل میں لانے کے ساتھ ہی انھوں نے یہ ہدف مقرر کیا کہ وہ اسے اتنی مضبوطی فراہم کریں گے کہ یہ 2002 میں ریاست  میں برسراقتدار آسکے۔ انھوں نے بیٹی محبوبہ مفتی کو پارٹی سے جوڑا ۔ انھیں سیاست کے داؤ پیچ سکھائے ۔ سیاسی تجربہ حاصل کرنے اور منظم طور پر پارٹی کو رکھنے کے گُر سیکھنے کے بعد وہ پارٹی میں ان کی قابل اعتماد معاون بن گئیں ۔ ان کے ناقدین نے ان پر شدت پسند جماعت اسلامی اور اس کی ہمنوا پارٹی حزب المجاہدین کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کرنے کے گمبھیر الزام لگائے ۔ باپ بیٹی اس طرح کی تنقیدوں میں نہیں الجھے ، اپنے اس اصولی رخ پر قائم رہے کہ انتہا پسندوں اور  عسکریت پسندوں سے بات چیت کی جانی چاہئے ۔ اگر وہ حزب المجاہدین سے بھی اس تعلق سے بات چیت کرتے ہیں تو اس لئے کہ وادی کے جنوبی حصوں میں دہشت گردوں کا دبدبہ تھا ۔ یہ کسی بھی طریقے سے ملک مخالف نہیں تھا بلکہ اس سے باپ بیٹی کی ہمت کا پتہ چلا کہ وہ اپنے دلائل پر قائم رہنے والے قائد ہیں ۔ مفتی ہمیشہ یہ بات کہتے تھے کہ ہندوستان کا عوامی ڈھانچہ کافی مضبوط ہے ۔ اس میں آپسی بھائی چارہ کی خمیر شامل ہے ۔ نئی دہلی میں بیٹھے سیاسی قائدین اور آبزرور جب سرینگر یا جموں یا لیہہ میں وقوع پذیر حادثات پر حقیقت کا علم نہ ہونے کے باعث ہائے توبہ مچاتے تھے تو بھی مفتی صاحب کافی ہمت کا مظاہرہ کرتے تھے  ۔

سیاست دانشمندی کا کھیل ہے ۔ انھیں سیاستدانوں ، سماج اور ملک سے اس کام میں بھرپور حمایت حاصل ہوئی ۔وہ نہایت مہذب اور بااخلاق تھے ۔ انھوں نے جموں و کشمیر کے قد آور  قائد شیخ عبداللہ کا سیاسی سامنا کیا ۔ قومی دھارا کی سیاست میں شیخ کے سامنے آنے کی ہمت کسی میں تھی ۔ یہ ہمت مفتی صاحب نے دکھائی نہ صرف اتنا بلکہ انھوںنے شیخ عبداللہ کے جانشین فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ سے بھی جم کر لوہا لیا ۔ حالانکہ انھیں کئی بار چناوی شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا ۔ لیکن ایک بار بھی انھوں نے شیخ کے رول اور رواداری کے اصول کو کم تر نہیں بتایا ۔ ایک بار تو ایسا ویسا بھی ہوا جب انھوں نے نئی دہلی کے ساتھ 1952 میں ہوئے شیخ کے سمجھوتے کی حمایت تک کی تھی ۔ انھوںنے فاروق عبداللہ کو ہمیشہ ہی کشمیر کی سیاست میں اہم رول ادا کرنے والا قائد قرار دیا۔ پی ڈی پی وادی میں نیشنل کانفرنس کے مدمقابل سیاسی طاقت بن گئی ہے ، جو ریاست کی اہم سیاسی پارٹی ہے ۔ نیشنل کانفرنس کی طرح ہی پی ڈی پی میں بھی پڑھے لکھے مہان قائدین کی پوری قطار ہے ۔ مفتی کی قیادت میں 2002 میں پہلی بار ریاست میں اقتدار میں آئی پی ڈی پی نے 2014 میں دوسری بار اقتدار سنبھالا ۔
البتہ دوسری مرتبہ اقتدار میں آنے کے لئے اسے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنا پڑا ۔ اس طرح کے اتحاد کے بارے میں سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کیونکہ دونوں پارٹیوں میں کچھ بھی ایسا نہیں ہے جسے ساجھا بتایا جاسکتا ہو ۔بدقسمتی سے ان کی دوسری میعاد ان کی موت کے باعث ادھوری رہ گئی ۔ سال 2005 میں بھی انھیں اقتدار میں تین سال رہ لینے کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا تھا ۔ کیونکہ پی ڈی پی اور کانگریس نے تین تین سال اقتدار میں رہنے کا سمجھوتہ کرلیا تھا ۔ جموں و کشمیر اسمبلی کی میعاد چھ سال کی ہوتی ہے ۔ مفتی کا خواب تھا کہ ان کے جیتے جی ان کی سیاسی جانشین محبوبہ مفتی ریاست کی وزیراعلی بنیں ، لیکن یہ خواب پورا نہ ہوسکا حالانکہ اس کے لئے اب حالات سازگار بن چکے ہیں ۔ پی ڈی پی کو معاون بی جے پی کی یہ حمایت حاصل ہے ۔ مفتی اپنے پیچھے ایک تجربہ کار جانشین چھوڑ گئے ہیں جسے لوگوں اور ان کے مسئلوں کی بیحد اچھی سمجھ ہے ۔ سیاست میں مفتی دوستوں کے دوست مانے جاتے تھے ۔ سیاست میں اونچے عہدے پر پہنچنے کے بعد بھی وہ اپنا ساتھ دینے والوں کو نہیں بھولے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT