Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مفقود ہوتی ہوئی دستکاری صنعتوں پر ریسرچ اور ڈاکومنٹیشن کی ضرورت

مفقود ہوتی ہوئی دستکاری صنعتوں پر ریسرچ اور ڈاکومنٹیشن کی ضرورت

اُردو یونیورسٹی میں ’دستکاری میلہ‘ سے ایم جے اکبر، ثریا حسن اور اقبال احمد کے خطابات
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( پریس نوٹ ) : محمد جلال الدین اکبر‘ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود نے آج بتایا کہ حکومت تلنگانہ ‘مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ساتھ مل کر مفقود ہوتی ہوئی صنعتوں پر ریسرچ ‘ ڈاکیومنٹیشن اور اُن کے دوبارہ زندہ کرنے کے پراجیکٹ پر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے اردو یونیورسٹی سے خواہش ظاہر کی کہ اس سلسلے میں وہ پراجیکٹ تیار کرے، اُن کا محکمہ یونیورسٹی سے بھرپور تعاون کرے گا۔وہ آج یہاں ’یوم آزاد تقاریب ‘ کے سلسلے میں منعقدہ ’’دستکاری میلہ‘‘ کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمانِ خصوصی خطاب کررہے تھے۔اس میلے میں خواتین کی تیار کردہ اشیاء کی نمائش اور سیل کا اہتمام کیا گیا تھا۔ میلے میں دستکاری سے وابستہ شہر حیدرآباد کی متعدد خاتون صنعت کاروں اور تنظیموں نے حصہ لیا۔ جناب اکبر نے کہا کہ ہندوستان ایک وسیع و عریض ملک ہے جس طرح یہاں الگ الگ کلچر‘ تہذیب اور زبانیں پائی جاتی ہے اُسی طرح یہاں دستکاری کے الگ الگ خوبصورت نمونے پائے جاتے ہیں۔ اُن کا تحفظ ہمارا فریضہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی دستکاری دنیا بھر میں مشہور ہے۔ حکومت ہند اور دیگر ریاستی حکومتوں نے اس فن کو قائم رکھنے کے لیے مختلف اسکیمات شروع کی ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اس فن کی نہ صرف حفاظت کریں بلکہ اسے نئی نسل تک منتقل کریں۔ انہوں نے کہا محکمۂ اقلیتی بہبود، اردو یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی اگر پروجیکٹ تیار کرتی ہے تو ریاستی حکومت، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ مختلف قسم کی دستکاریوں پر ریسرچ کرنے اور مہارتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ جناب اکبر نے کہا کہ تمام طرح کی دستکاری کے فنون کو فہرست بند کیا جانا چاہئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ کون کون سے فنون بند ہو چکے ہیں اور کونسے جاری ہیں۔ ان کا جائزہ لیا جانا چاہئے۔ حیدرآباد کی معروف خاتون صنعت کار اور مختلف فلاحی کاموں سے وابستہ محترمہ ثریا حسن نے کہا کہ دستکاری کے ایسے بہت سے فنون جو اب ختم ہوتے جارہے ہیں‘ وہ ان پر کام کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تنظیم نہ صرف خواتین کو بااختیار بنانے اور بچوں کی بہبود کے لیے کام کررہی ہے بلکہ بیوہ خواتین کو ہنرمند بنانے پر زیادہ سے زیادہ توجہ دے رہی ہے۔پروفیسر کے آر اقبال احمد، انچارج وائس چانسلر نے اقلیتی بہبود، حکومتِ تلنگانہ کی جانب سے یونیورسٹی کے ساتھ تعاون پر خوشی کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT