Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / مقاماتِ مقدسہ پر حاضری کے آداب

مقاماتِ مقدسہ پر حاضری کے آداب

کے این واصف
اپنے آپ کو اور اپنے اطراف کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے سے ایک صحتمند ماحول بنا رہتا ہے جو انسانی صحت کیلئے ضروری ہے۔ دین اسلام بھی صفائی اور پاکیزگی پر زور دیتا ہے بلکہ اسلام میں صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔ صفائی سے مراد صرف نماز کی ادائیگی اور دیگر عبادات کیلئے اپنے آپ کو پاک و طاہر رکھنا نہیں ہے بلکہ صفائی اور پاکیزگی کو اپنے مزاج کا حصہ بنانا ہے۔جب آدمی مزاجاً صفائی پسند ہوگا تو نہ صرف اپنے آپ کو پاک و صاف رکھے گا بلکہ وہ اپنے اطراف کے ماحول کو بھی ہمیشہ صاف ستھرا رکھے گا۔ آپ تصور کیجئے کہ اگر انسان جہاں رہتا ہے، اُٹھتا بیٹھتا ہے وہاں کے ماحول کو صاف ستھرا رکھے تو ہر طرف ایک خوشگوار ماحول بنا رہے گا جو انسانی صحت کیلئے بھی مفید و معاون رہتا ہے۔ لیکن عام طور پر دیکھا یہ جاتا ہے کہ لوگ اپنے اطراف کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے پر کم ہی توجہ دیتے ہیں۔ حضرات ! یہ ساری تمہید ہم نے یہ بات کہنے کیلئے باندھی کہ لوگ مقاماتِ مقدسہ کی حاضری کیلئے جاتے ہیں اور وہاں پہنچ کر تک صفائی کا خیال نہیں رکھتے۔
قارئین کرام ! پچھلے ہم عمرہ کی ادائیگی کیلئے گئے ہوئے تھے، یہی وجہ تھی کہ پچھلے اتوار میں ہمارا کالم ناغہ رہا۔ سعودی عرب میں ہر شہر سے ٹورز آپریٹرز ایک بڑی آرام دہ اور صاف ستھری بس کے ذریعہ مناسب دام پر عمرہ پیاکیج پر لوگوں کو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ لے جاتے ہیں۔ لوگ ہفتہ کے اختتام پر اس پیاکیج سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بڑی تعداد میں عمرہ و زیارت مدینہ منورہ پر جاتے ہیں جس سے ہم نے بھی فائدہ اُٹھایا۔

بس میں جب سارے مسافر اپنی نشستوں پر بیٹھ چکے تو ملک شام سے تعلق رکھنے والے بس کے ڈرائیور نے درمیان میں کھڑے ہوکر کہا : ’’ دوستو!  آپ دیکھ رہے ہیں یہ بس بالکل نئی اور صاف ستھری ہے، میں آپ تمام سے گذارش کرتا ہوں کہ خالی بوتلیں، شربت کے ڈبے، غذائی اشیاء وغیرہ بس کے فرش پر نہ پھینکیں۔‘‘ اس نے مزید کہا کہ دین اسلام نے صفائی کو نصف ایمان قرار دیا ہے۔آپ تمام جذبۂ ایمانی سے سرشار ہیں اور عمرہ کے سفر پر ہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ آپ بس میں صفائی کا خیال رکھیں گے۔ لیکن جب بس اپنی منزل مقصود پر پہنچی تو یہ دیکھ کر بے حد دُکھ ہوا کہ بس کا پورا فرش کچرے سے بھرا ہوا تھا۔ عمرہ کیلئے جانے والے ان مسافرین نے ڈرائیور کی درخواست کی پروا کی اور نہ دین اسلام میں صفائی سے متعلق دی گئی اس کی دہائی کا پاس رکھا۔ لاپرواہی اور صفائی سے عدم دلچسپی کا یہ سلسلہ میقات پر حمامات استعمال کرنے اور اس سے آگے بھی چلتا رہا۔ جب طواف بیت اللہ کیلئے پہنچے تو ہمیشہ کی طرح مطاف میں موجود معتمرین کی اکثریت اپنے ہم نفسوں کی پروا کئے بغیر کعبہ کے چکر لگارہے تھے اور حجر اسود کو بوسہ دینے میں وہی نفسا نفسی اور دھکم پیل کا عالم تھا۔ حالانکہ حجر اسود کو بوسہ دینے والوں کو منظم اور کنٹرول کرنے کیلئے ایک پولیس اہلکار 24گھنٹے متعین رہتا ہے، یہ بیچارہ ایک رسی کے سہارے لٹک کر بالکل غیر آرام دہ طریقے سے اپنی ڈیوٹی انجام دیتا ہے۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا حجر اسود کو بوسہ دینے والوں کو کنٹرول کرنے کیلئے کیا پولیس اہلکار متعین ہونا چاہیئے ؟ ۔ ہم ایک بڑی عبادت کیلئے خانہ کعبہ میں ہیں۔ طواف، سعی اور حجر اسود کا بوسہ ان اعمال کی انجام دہی کے وقت اگر ہمارے اندر خوف خدا نہیں، احترام خانہ کعبہ نہیں اور حجر اسود کو بوسہ دینے کا سلیقہ اور اس کے تقدس کا خیال نہیں۔ کیا ہمیں ہماری بنیادی اخلاقی ذمہ داری یاد دلانے اور خانہ کعبہ میں ہمارے رویہ اور مناسک کی ادائیگی کا سلیقہ سکھانے ہمیں پولیس اہلکار چاہیئے۔؟
کچھ عرصہ قبل ایک مرتبہ یہ رسی پر لٹک کر ڈیوٹی انجام دینے والے پولیس اہلکار نے سہواً کعبہ کی دیوار کو پیر لگادیا۔ کسی نے فوراً موبائیل کیمرے پر اس کی تصویر بنالی اور سوشیل میڈیا پر جاری کردی، یہ بات مکہ مکرمہ کے گورنر تک پہنچی اور گورنر نے فوری طور پر اس اہلکار کے خلاف کارروائی کا حکم جاری کردیا۔ ہم نے تو اس گستاخانہ عمل کے مرتکب پولیس اہلکار کو تو کیفر کردار تک پہنچادیا۔ کیا کبھی ہمارے ذہن میں یہ بات بھی آئی کہ خانہ کعبہ میں ہم مناسک کی ادائیگی میں کس قدر نازیبا اور گستاخانہ عمل اور غلط رویہ سے گزرتے ہیں۔ اپنا طواف جلد از جلد مکمل کرنے اور حجر اسود کا بوسہ لینے میں کس قدر ہم خود غرض ہوجاتے ہیں کہ ہم وہاں موجود خواتین، ضعیفوں اور اپنے ہم نفسوں کا خیال کئے بغیر صرف اپنا طواف اور حجراسود کا بوسہ لینے کیلئے اسلامی اقدار اور اخلاقی قدروں کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ کیا ہم احترام کے اس مقام پر اس طرح پیش آکر گستاخی کے مرتکب نہیں ہورہے ہیں؟۔ کیوں وہ لوگ جن کی نظریں سماجی اور اخلاقی برائیوں پر رہتی ہیں ان افراد کی نگاہیں ان لوگوں کی گستاخی، بد اخلاقی اور نازیبا رویہ پر پڑتی اور وہ کیوں سوشیل میڈیا میں اس کا اظہار نہیں کرتے۔ انہیں کیوں نہیں بتاتے کہ حرمین شریفین کے تقدس اور ان مقامات پر کس طرح کا رویہ رہنا چاہیئے، ہمیں کس طرح عجز و انکساری کا نمونہ بنے رہنا چاہیئے۔

کعبتہ اللہ کے تقدس کا خیال نہ رکھنے کی دوسری مثال معتمرین کا دورانِ طواف ویڈیو بنانا، ہجوم میں سیلفی بنانا وغیرہ۔ یہ سچ ہے کہ ہر شخص کے دل میں یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ حرمین شریفین میں اپنی حاضری کو یادگار کے طور پر اپنے کیمرے میں کچھ تصویر قید کرلیں۔ مگر یہ کام مناسک کی ادائیگی اور عبادتوں سے فارغ ہوکر حرمین کے باہر جاکر حرمین کو بیاک گراؤنڈ میں رکھ کر دوچار تصویریں بنالیں۔ بجائے اس کے کہ دورانِ طواف اور روضہ اقدس پر حاضری کے موقع پر مسلسل ویڈیو بناتے رہیں یا سیلفی اور فوٹو گرافی کرتے رہیں۔
حجاج کرام، معتمرین اور زائرین کو ہر لمحہ یہ احساس رہنا چاہیئے کہ ہم کس مقام پر کھڑے ہیں اور ہمیں یہ یاد رہنا چاہیئے کہ ہم مدینہ منورہ میں نبی کریم محمد حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اور خانہ کعبہ میں اللہ رب العزت کے مہمان ہیں۔ ان مقامات پر پہنچ کر اہل ایمان خوف خداوندی سے لرزہ بر اندام ہوجاتے ہیں کیونکہ اول تو یہ بیت اللہ ہے، دوسرے یہ کہ حجر اسود جسے آقائے دو جہاں نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے بوسہ دیا تھا اور ہم اس حجراسود کا بوسہ لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس مقام پر ہمیں حد درجہ محتاط اور عجز و انکساری کا نمونہ بنے رہنا چاہیئے۔ ان لمحات میں ہمیں دنیا اور دنیا کے معاملات سے بے خبر ہوجانا چاہیئے۔

ہم ہزاروں، لاکھوں کا پیسہ خرچ کرکے اور طویل مسافتیں طئے کرکے یہاں پہنچتے ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ یہاں حاضری کے آداب کا مطالعہ کریں کیونکہ ہر جگہ جانے کے کچھ آداب ہوتے ہیں۔ آج کل ہر ملک سے بڑی تعداد میں لوگ عمرہ و حج، زیارت مسجد نبویؐ کیلئے یہاں آتے ہیں۔ ائمہ اور علماء کو چاہیئے کہ وہ اپنے خطبات میں ان مقامات مقدسہ پر حاضری کے آداب سے لوگوں کو واقف کرائیں۔ اپنی روز مرہ کی زندگیوں میں اسلامی تعلیمات، اخلاقی قدروں، احکامات قرآن و سنت پر زندگی بسر کرنے کی تلقین کریں۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT