Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / مقامی جماعت سے انتخابی اتحاد کے مسئلہ پر ٹی آر ایس کیڈر میں ناراضگیاں

مقامی جماعت سے انتخابی اتحاد کے مسئلہ پر ٹی آر ایس کیڈر میں ناراضگیاں

حیدرآباد۔/17ڈسمبر، ( سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات میں شاندار کامیابی کی جدوجہد کرنے والی برسراقتدار پارٹی کو شہر کی سیاسی جماعت سے انتخابی مفاہمت کے مسئلہ پر پارٹی کیڈر کی شدت سے مخالفت کا سامنا ہے۔ ٹی آر ایس اگرچہ عوام میں یہ اعلان کررہی ہے کہ وہ تنہا مقابلہ کرے گی اور کسی بھی جماعت سے مفاہمت نہیں ہوگی تاہم شہر کی مقامی جماعت سے پسِ پردہ مفاہمت کے امکانات روشن ہیں اور اس سلسلہ میں دونوں پارٹیوں کے قائدین کی کئی بار مشاورت ہوچکی ہے۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے شہر کی مقامی جماعت سے بات چیت کیلئے اپنے فرزند کے ٹی آر کو مجاز گردانا ہے جو پرانے شہر کی نشستوں پر مقابلہ کے سلسلہ میں مقامی جماعت سے بات چیت کررہے ہیں۔ خفیہ مفاہمت کی صورت میں مقامی جماعت کے مضبوط حلقوں میں ٹی آر ایس کمزور امیدواروں کو میدان میں اُتارے گی جبکہ اس کے بدلے مقامی جماعت ٹی آر ایس کی کامیابی کے امکانات والے وارڈز میں اپنے کمزور امیدوار اُتارے گی۔ پارٹی کے ایک سینئر قائد نے اعتراف کیا کہ گریٹر انتخابات میں بعض حلقوں پر دونوں جماعتوں کا دوستانہ مقابلہ ہوگا۔ چیف منسٹر کسی بھی طرح گریٹر حیدرآباد پر ٹی آر ایس پرچم لہرانا چاہتے ہیں اور کانگریس و تلگودیشم کا صفایا ان کا اہم مشن ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس دوستانہ مقابلہ کی تجویز کی پارٹی کیڈر کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے۔ کیڈر کو شکایت ہے کہ اس طرح کی کسی بھی مفاہمت کی صورت میں ان کارکنوں اور قائدین کا نقصان ہوگا جو گزشتہ 14برسوں سے اپنے علاقوں  میں پارٹی کے استحکام کیلئے کام کررہے ہیں۔ ایسے وقت جبکہ پارٹی اقتدار میں ہے اور مجالس مقامی کے انتخابات میں کامیابی کے امکانات روشن ہیں مقامی سیاسی جماعت سے مفاہمت کی صورت میں وہ ٹکٹ سے محروم ہوجائیںگے۔ بتایا جاتا ہے کہ پرانے شہر کے 35سے زائد بلدی وارڈز ایسے ہیں جہاں ٹی آر ایس مضبوط مقابلہ کے موقف میں ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران مقامی قائدین نے پارٹی کے استحکام کیلئے کافی محنت کی۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ورنگل میں پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کی اس کا اثر گریٹر انتخابات پر پڑے گا۔ حکومت نے غریبوں کی بھلائی اور شہر کی ترقی کے جو اقدامات کئے ہیں اس سے عوام کافی خوش ہیں اور وہ ٹی آر ایس کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ ایسے میں مقامی سیاسی جماعت سے مفاہمت پارٹی کیڈر میں مزید مایوسی کا سبب بن سکتی ہے۔ پارٹی اعلیٰ کمان اگرچہ مفاہمت کے حق میں ہے تاہم بنیادی سطح پر کیڈر کی جانب سے مخالفت نے اعلیٰ قیادت کو اُلجھن میں مبتلاء کردیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسمبلی اور وارڈز کے انچارجس نے مقامی جماعت سے مفاہمت کے خلاف اپنی رائے شہر کے وزراء کو پیش کی ہے۔ ٹی آر ایس کی قیادت نے گریٹر حیدرآباد کے حدود میں پارٹی موقف کا جائزہ لینے کیلئے ابھی تک دو سروے منعقد کئے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ دونوں سروے بھی ٹی آر ایس کے حق میں حوصلہ افزاء ثابت ہوئے۔ پہلے سروے کے مقابلے دوسرے  سروے میں ٹی آر ایس کو زائد نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والے بعض خانگی اداروں کو مزید سروے کی ذمہ داری دی گئی ہے اور اس رپورٹ کی بنیاد پر مقامی جماعت سے نشستوں پر دوستانہ مقابلہ کا فیصلہ منحصر ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی جماعت نے ابتداء میں 70نشستوں پر دعویداری پیش کی تاہم مذاکرات کے بعد وہ 50نشستوں تک آچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹی آر ایس 40 نشستوں پر دوستانہ مقابلے کیلئے تیار ہے۔ اگر تازہ ترین سروے میں ٹی آر ایس کا موقف مزید مستحکم دکھائی دے گا تو پارٹی 40سے زائد نشستوں کیلئے تیار نہیں ہوگی۔ شہر سے تعلق رکھنے والے وزراء اور قائدین کی جانب سے چیف منسٹر پر دباؤ بنایا جارہا ہے کہ وہ مقامی جماعت سے کوئی مفاہمت نہ کریں اور تمام نشستوں پر اپنی طاقت پر مقابلہ کیا جائے۔ انہیں اندیشہ ہے کہ مقامی جماعت سے کسی مفاہمت کی صورت میں اکثریتی طبقہ کے ووٹ سے محروم ہونا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT