Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / مقامی جماعت کی طرح اے آئی یو ڈی ایف بھی بی جے پی کا آلۂ کار !

مقامی جماعت کی طرح اے آئی یو ڈی ایف بھی بی جے پی کا آلۂ کار !

آسام میں سیکولر ووٹوں کی تقسیم ، بی جے پی کا 30.1% ووٹ حاصل کرکے اقتدار پر قبضہ
حیدرآباد 19 مئی (سیاست نیوز) ملک کے جمہوری نظام میں مسلم سیاسی جماعتیں کس حد تک مسلمانوں کی نمائندہ ثابت ہورہی ہیں، اِس بات پر سیاسی مبصرین میں تشویش پیدا ہوچکی ہے۔ ریاست آسام کے اسمبلی انتخابات کے نتائج نے ملک بھر میں مسلم تنظیموں اور ذمہ داران ملت اسلامیہ کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے کیوں کہ جس طرح کہا جارہا تھا کہ بالواسطہ طور پر آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد میں مصروف ہے، یہ بات حقیقت ثابت ہوئی۔ اِن خدشات کا اظہار گزشتہ کئی ماہ سے کیا جانے لگا تھا کہ کہیں اے آئی یو ڈی ایف بھی حیدرآباد کی مقامی جماعت کی طرز پر بی جے پی کی آلہ کار بن کر فائدہ تو نہیں پہنچائے گی۔ یہ خدشات آج اُس وقت یقین میں تبدیل ہوگئے جب آسام جیسی ریاست میں ووٹوں کی تقسیم کا راست فائدہ بی جے پی کو ہوا۔ ریاست مہاراشٹرا میں مقامی جماعت کی جانب سے 24 نشستوں پر مقابلہ کرتے ہوئے جو ووٹ حاصل کئے گئے تھے، وہ مجموعی اعتبار سے مہاراشٹرا کے جملہ رائے دہی میں ایک فیصد بھی نہیں تھے بلکہ 24 نشستوں پر 0.93 فیصد ووٹ مقامی جماعت کو حاصل ہوئے تھے۔ اِس فیصد کے ساتھ دو نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی لیکن اُن کے انتخابات میں حصہ لینے کا اثر ساری ریاست میں بی جے پی کو فائدہ کی شکل میں ہوا جہاں ووٹ مذہبی خطوط پر منقسم ہوگئے اور سیکولر ووٹ مختلف جماعتوں کے حصے میں آئے۔ اِسی طرح آسام میں ہوئے انتخابات میں جہاں بی جے پی اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ اِس ریاست میں ووٹوں کی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ کانگریس اور اے آئی یو ڈی ایف نے جو ووٹ حاصل کئے ہیں وہ مجموعی اعتبار سے 44 فیصد سے تجاوز کرچکے ہیں۔ جبکہ بی جے پی نے 29.5 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے آسام میں اقتدار حاصل کیا ہے۔ تفصیلات کے بموجب بھارتیہ جنتا پارٹی کو 30.1 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ کانگریس نے 31 فیصد ووٹ حاصل کئے ہیں

اور اے آئی یو ڈی ایف کو 13 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ آسام گنا پریشد کو 8.1 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ آسام میں اسمبلی انتخابات سے قبل پیدا شدہ ماحول کے دوران ہی سیاسی مبصرین نے یہ خیال ظاہر کیا تھا کہ اگر سیکولر اتحاد کی تشکیل عمل میں نہیں آتی ہے تو ایسی صورت میں بی جے پی کو زبردست فائدہ حاصل ہوگا اور آسام میں بدرالدین اجمل کی موجودگی پر مقامی جماعت نے یہ کہتے ہوئے حصہ لینے سے انکار کیا تھا کہ وہاں ’’اجمل بھائی کی قیادت‘‘ موجود ہے۔ آسام میں بدرالدین اجمل نے 71 نشستوں پر مقابلہ کیا تھا جہاں اُنھیں 11 نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ اُن کے دو اتحادی ارکان اسمبلی بھی منتخب ہونے کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ ریاست مہاراشٹرا میں ہوئے انتخابات کے دوران مقامی جماعت کی جانب سے حصہ لئے جانے کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اُس کے نتیجہ میں بی جے پی کو مہاراشٹرا اسمبلی میں 122 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی جبکہ شیوسینا نے 63 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اسی طرح کانگریس کو 42 اور نیشنل کانگریس پارٹی کو 41 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ مقامی جماعت نے 24 نشستوں پر انتخابات میں حصہ لیا تھا جس کے اثرات ریاست کے تمام اسمبلی حلقوں پر مرتب ہوئے۔ آسام میں بدرالدین اجمل نے پہلی مرتبہ 2006 ء میں 69 نشستوں پر مقابلہ کرتے ہوئے 10 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ 2011 ء میں 76 نشستوں پر مقابلہ کرتے ہوئے 18 نشستوں پر کامیابی درج کروائی تھی۔ اس مرتبہ 71 نشستوں پر مقابلہ کیا گیا لیکن صرف 11 نشستوں پر کامیابی ممکن ہوپائی۔ جبکہ اے آئی یو ڈی ایف اور بی جے پی ایک دوسرے کو اپنے کٹر حریف کے طور پر پیش کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ مسلم سیاسی جماعتوں کی پالیسیوں اور حکمت عملی پر حقیقی ہمدردان ملت حیرت اور تشویش کا شکار ہوچکے ہیں اور وہ اِس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے جارہے ہیں کہ حقیر مفادات کی خاطر جمہوری انداز میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کی مرتکب بن رہی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT