Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / مقامی سیاسی جماعت کے تعلیمی ٹرسٹ کے عطیات کا بیجا استعمال

مقامی سیاسی جماعت کے تعلیمی ٹرسٹ کے عطیات کا بیجا استعمال

قائدین کے اثاثوں کی تحقیقات کروائی جائے، شیخ عبداللہ سہیل گریٹر حیدرآباد کانگریس مائناریٹی صدر کا بیان

رقومات دارالسلام ایجوکیشنل ٹرسٹ کی ملکیت
گریٹر حیدرآباد کی سیاست میں ایک نیا بوال مچاتے ہوئے گریٹر حیدرآباد مائناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدر نے کہا کہ شہر کو سیاسی جماعت کے قائدین کے اثاثوں کی تحقیقات کروائی جائے۔ صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی مسٹر شیخ عبداللہ سہیل نے شہر کی سیاسی جماعت پر الزام لگایا ہیکہ وہ اپنی پارٹی کی جانب سے چلائے جارہے تعلیمی ٹرسٹ میں جمع ہونے والے ڈونیشن عطیات کا بیجا استعمال کررہے ہیں اور ٹرسٹ کی ملکیت سے ذاتی ملکیت میں تبدیل کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نامپلی میں قائم ٹرسٹ کے دفتر کو اپنے ذاتی اغراض و مقاصد کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے شہر کی جماعت پر قابض ایک خاندان پر ٹرسٹ کی رقم کیلئے استعمال کا الزام لگایا اور کہا کہ 1974ء میں قائم یہ ٹرسٹ اقلیتوں بالخصوص مسلم اقلیت کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے قائم کیا گیا تھا۔ تاہم ایک خاندان نے اس ٹرسٹ ہی کو پسماندہ کردیا اور خود معاشی طور پر طاقتور بن گئے۔

حیدرآباد ۔ 30 جولائی (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے صدر شیخ عبداللہ سہیل نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے شہر کی سیاسی جماعت کی پول کھول دی۔ انہوں نے دارالسلام کوآپریٹیو بینک میں بے نامی کھاتے کھولنے کا مجلسی قائدین پر الزام لگایا اور کہا کہ وہ کروڑہا روپئے کا بیجا استعمال کررہے ہیں۔ شیخ عبداللہ سہیل نے صدر مجلس و رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسدالدین اویسی کے انتخابی حلفنامہ کی کاپیاں بتاتے ہوئے کہا کہ صرف 10 سال میں اسد کے اثاثہ جات میں 10 گنا اضافہ ہوا ہے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ سال 2004ء میں اسدالدین اویسی نے اپنے انتخابی حلفنامہ میں 39 لاکھ روپئے کے اثاثہ جات کو پیش کیا تھا جبکہ سال 2009ء میں اس میں اضافہ ہوکر اثاثہ جات 93 لاکھ ہوگئے اور اس کے بعد انتخابات میں اسدالدین اویسی نے اپنے حلفنامہ میں اپنے اثاثہ جات کی ملکیت 4 کروڑ بتائی۔ اس طرح رکن اسمبلی چندرائن گٹہ اکبرالدین اویسی قائد مقننہ نے سال 2009ء کے انتخابات میں 8 کروڑ ملکیت بتائی اور سال 2014ء میں بڑھ کر 17 کروڑ ہوگئے۔ شیخ عبداللہ سہیل نے سوال کیا کہ 10 سال اور 5 سال کی قلیل مدت میں دونوں اویسی برادران کس طرح اتنی خطیر رقم کے مالک بن گئے۔ انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ یہ تمام رقم دارالسلام ایجوکیشن ٹرسٹ کی ملکیت ہے جو قائدین اپنے اغراض و مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ شیخ عبداللہ سہیل نے کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا سے رجوع ہوتے ہوئے یہ درخواست کئے ہیں کہ دارالسلام بینک کے انتظامی امور میں مداخلت کریں۔ ایک اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے اویسی برادران کے پاس جمع غیرمحسوب اثاثہ جات کی تحقیقات کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کانگریس پارٹی عدالت سے رجوع ہوگی تاکہ دارالسلام ایجوکیشن ٹرسٹ میں ہونے والی مالی دھاندلیوں کی تحقیقات کا حکم صادر کرے۔

TOPPOPULARRECENT