Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / مقدس کتاب کی بے حرمتی کے خلاف پنجاب میں پرامن بند

مقدس کتاب کی بے حرمتی کے خلاف پنجاب میں پرامن بند

شدت پسند تنظیموں کے احتجاجی مظاہروں سے ٹریفک درہم برہم،کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں
چندی گڑھ ۔ 15 ۔ اکٹوبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : پنجاب کے مختلف مقامات پر آج تجارتی اور تعلیمی ادارے بند اور ٹرانسپورٹ خدمات متاثر ہوئی تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا جبکہ ایک مقدس کتاب کی مبینہ بے حرمتی پر احتجاج کے دوران پولیس کارروائی میں 2 نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف سکھ تنظیموں نے بند منانے کا اعلان کیا تھا ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ریاست کے بیشتر مقامات پر اضطراب آمیز سکون دیکھا گیا جہاں پر احتجاجیوں نے سڑکوں پر دھرنا دیتے ہوئے ٹریفک روک دی ۔ لدھیانہ میں احتجاجی مظاہرہ کرنے پر 150 افراد کو حراست میں لے لیا گیا ۔ اضلاع فرید کوٹ ، موگا اور سنگور میں کل پرتشدد جھڑپوں کے دوران 2 نوجوان ہلاک اور دیگر 75 افراد بشمول ایک انسپکٹر جنرل پولیس رتبہ کے عہدیدار زخمی ہوگئے تھے جس کے بعد حساس علاقوں میں امن و قانون کی برقراری کے لیے پولیس کے مسلح دستوں کو متعین کردیا گیا ۔ پولیس کی مبینہ زیادتیوں اور فائرنگ میں 2 نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف شدت پسند تنظیموں بشمول دمدمی ٹکسال اور گرمت سدھانت پرچارک سنت سماج نے آج پنجاب بند منانے کا اعلان کیا تھا ۔ جس پر پنجاب کے بیشتر مقامات بالخصوص فرید کوٹ ، موگا ، مکتسر اور ترن تارن میں تجارتی اور تعلیمی ادارے بند رکھے گئے تاہم بینکس اور میڈیکل شاپس کھلے دیکھے گئے ۔ کوٹکاپور ٹاون میں بھی مکمل بند منایا گیا ۔ جہاں پر کل پولیس اور احتجاجیوں میں گھمسان لڑائی ہوئی ۔ احتجاجیوں کی سنگباری کے جواب میں سیکوریٹی فورس نے فائرنگ اور آنسو گیس شیل کا استعمال کیا تھا ۔ تاہم آج بند کے دوران اضلاع موگا ، فرید کوٹ اور مکتسر کے کسی بھی مقام سے پرتشدد واقعات کی اطلاع نہیں ہے ۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ خانگی بس آپریٹرس نے اپنی گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹا دیاتھا جب کہ ریاست کے کئی ایک مقامات پر خانگی تعلیمی ادارے بند رکھے گئے ۔ دریں اثناء آل انڈیا سکھ اسٹوڈنٹس فیڈریشن بھی احتجاج میں شامل ہوگئی اور مذہبی معاملہ پر سکھوں کے جذبات سے کھلواڑ کا شرومنی اکالی دل ۔ بی جے پی مخلوط حکومت پر الزام عائد کیا ۔ فیڈریشن کے سربراہ کرینل سنگھ نے بتایا کہ حکومت سکھوں کے مذہبی معاملت میں مداخلت کررہی ہے ۔ علاوہ ازیں شدت پسند تنظیموں کے کارکنوں نے آج موگا ٹاون میں احتجاجی جلوس نکال کر بے حرمتی واقعہ کے خاطیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ۔ ہوشیار پور میں احتجاجیوں سے اظہار یگانگت کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے والینٹرس نے اپنے بازوں پر سیاہ پٹیاں لگائیں تاہم صنعتی ٹاون لدھیانہ میں سکھ تنظیموں کے بند پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا گیا ۔ جہاں پر شرومنی اکالی دل ( امرتسر ) سے وابستہ تقریبا 150 احتجاجیوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ۔ تاہم پھگواڑ میں مکمل بند منایا گیا ۔ سکھ تنظیموں کے کارکنوں نے یہاں اسکوٹر اور موٹر سیکلوں پر ایک احتجاجی ریالی نکالی ۔ دریں اثناء حکومت پنجانب نے مقدس کتاب کی بے حرمتی واقعہ کے خاطیوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے پر ایک کروڑ روپئے کے انعام کا اعلان کیا ہے ۔ جب کہ چیف منسٹر پرکاش سنگھ بادل نے بتایا کہ ضلع فرید کوٹ میں کل پیش آئے پرتشدد واقعات کی جوڈیشل تحقیقات کروائی جائے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT