Thursday , May 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / مقصود و مطلوب صرف معرفت ِالہٰی ہے

مقصود و مطلوب صرف معرفت ِالہٰی ہے

ایک سائنس داں نے لکھا ہے کہ کائنات کو تم ایک مثال سے سمجھو۔ وہ بیان کرتا ہے کہ ایک سفید کاغذ لو، جو چار میل لمبا اور چار میل چوڑا ہو، پھر اس پر تم اپنے قلم کی نوک سے ایک باریک نقطہ لگادو۔ اس کے بعد اس کاغذ کو کائنات اور نقطہ کو زمین تصور کرو۔ پھر کہتا ہے یہ مثال بھی میں نے صرف سمجھانے کے لئے دی ہے، ورنہ حقیقت یہ ہے کہ کائنات اس سے بھی بہت بڑی ہے۔ آئزک نیوٹن، جس کا شمار دنیا کے بڑے سائنس دانوں میں ہوتا ہے، اپنے علم و عقل کی انتہا کو پہنچ کر بے اختیار بول اٹھا: ’’میری حیثیت اس بچے سے زیادہ نہیں ہے، جو سمندر کے کنارے چند گھونگے جمع کرکے خوش ہو رہا ہو‘‘۔
کائنات کی اس بے پایاں وسعت کا تصور کرکے آیۃ الکرسی پڑھئے تو حق تعالی کی تخلیق حکمرانی اور انتظام کا شاید آپ کو کچھ اندازہ اور ادراک ہوسکے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’’اللہ تعالی، وہ زندہ جاوید ہستی ہے، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ نہ سوتا ہے اور نہ اسے اونگھ لگتی ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے؟۔ جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف ہے۔ اور اس کے علم میں سے کوئی چیز ان کے احاطۂ ادراک میں نہیں آسکتی، الا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے۔ اس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لئے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے، بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے‘‘۔ (ترجمہ آیۃ الکرسی)
یہ نہ سمجھ لیں کہ اللہ تعالی نے کائنات بس ایک مرتبہ بنادی اور فارغ ہو گیا، بلکہ جب بھی اس کی مشیت ہوتی ہے اور جب بھی وہ مزید تخلیق کا ارادہ فرماتا ہے تو حکم دیتا ہے ’’کن‘‘ تو وہ شے پردہ عدم سے بزم وجود میں آجاتی ہے۔ دراصل یہ کائنات بنی ہی اس لئے ہے کہ اس میں تجلیات جلالیہ اور تجلیات جمالیہ کا ظہور ہو اور تجلی کا معاملہ یہ ہے کہ جو تجلی جس آن ہو جاتی ہے، وہ پھر ابد الآباد تک دوبارہ نہیں ہوتی، یعنی ’’وہ ہر یوم اک نئی شان میں ہے‘‘ (سورہ رحمن) یوم سے مراد یہاں وقت ہے۔ عارفوں کا متفقہ بین ہے کہ تجلی میں تکرار نہیں، ہر وقت اس کی تجلی نئی ہے۔
انسان کی تخلیق تو خاص طورپر اسی لئے ہوئی ہے کہ وہ اللہ تعالی کے جلال و جمال کا مشاہدہ کرتا رہے اور مدارج معرفت طے کرتا جائے۔ کائنات کے ذرے ذرے میں اس کی تجلی ہے۔ یہ معرفت تو رہی اس کے افعال کے حوالے سے اور جو معرفت اس کی صفات کے حوالے سے حاصل ہوتی ہے، اس کے تذکرے سے بھی قرآن بھرا ہوا ہے۔ اپنے صفات اس نے خود بیان فرمادی ہیں:
٭ خوب سمجھ لو! تخلیق بھی اسی کی ہے اور حکومت بھی اسی کی۔ (سورۃ الاعراف۔۵۴)
٭ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (سورۃ البروج۔۱۶)
٭ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۃ البقرہ۔۲۰)
٭ بے شک اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ (سورۃ البقرہ۔۱۸۱)
٭ خوب سمجھ لو! اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (سورۂ محمد۔۱۹)
٭ اور خوب سمجھ لو! وہی تمہارا آقا ہے۔ (سورۃ الانفال۔۴۰)
٭ وہی احد ہے، وہی صمد ہے، نہ اس کا کوئی بیٹا، نہ باپ اور نہ اس کا کوئی ہم پلہ۔ (سورۃ الاخلاص)
٭ اس جیسی کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ (سورہ شوری۔۱۱)
٭ اچھے اچھے نام اسی کے ہیں۔ (سورۃ الحشر۔۲۴)
اسمائے حسنی کیا ہیں، یہی اسمائے صفات تو ہیں، ورنہ اسم ذات تو بس ایک ہی ہے اور وہ ہے ’’اللہ‘‘۔ اگر کوئی خدا کو پہچاننا چاہتا ہو تو ان ہی صفات و افعال کے حوالے سے پہچان سکتا ہے۔
ایک نکتہ اور ذہن میں رکھنا چاہئے کہ علم اور معرفت میں بڑا فرق ہے۔ جاننے اور پہچاننے میں بڑا فرق ہے۔ علم سے پہلے جہل ہوتا ہے، یعنی آدمی کسی چیز سے واقف ہی نہ تھا، یہ جہل ہے۔ جب علم آیا تو جان گیا۔ اس کے برخلاف معرفت سے پہلے نسیان ہوتا ہے، یعنی آدمی کسی چیز سے واقف تھا، جانتا تھا، پھر بھول گیا۔ نسیان دور ہوا تو پہچان گیا، معرفت آگئی۔ یہاں خدا کو پہچاننے کی بات ہو رہی ہے، جاننے کی نہیں، کیونکہ خدا کو انسان شروع سے جانتا ہے، اس سے مکالمہ ہوا تھا۔ تمام انسانوں سے خدا نے پوچھا تھا ’’کیا میں تمہارا رب نہیں؟‘‘ تو سب نے برملا جوا دیا تھا ’’کیوں نہیں‘‘۔ وہاں آپ بھی تھے، میں بھی تھا، یہ عالم ارواح کی بات تھی۔ پھر جب عالم اجسام میں آئے تو بات پرانی ہونے کی وجہ سے بھول گئے۔ اس منزل میں ہم خدا کو جان نہیں رہے ہیں، پہچان رہے ہیں۔ یہ ہے معرفت، عرفان۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اہل کتاب نے جانا نہیں پہچانا تھا، یعنی جانتے تو پہلے سے تھے، مگر اب پہچان گئے۔ اسی طرح طریقت کی اس منزل میں جب کوئی خدا کو پہچان جاتا ہے تو عارف ہو جاتا ہے۔
سالکین کا مقصود و مطلوب صرف معرفت الہی ہے، کشف و کرامات حاصل نہ ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ معرفت کے مقابلے میں کشف و کرامات کی کوئی حیثیت نہیں، اس لئے معرفت ہو کو اپنا مقصود بنانا چاہئے۔ اگر کشف و کرامت من جانب اللہ عطا ہو جائے تو سر آنکھوں پر۔ اس صورت میں یہ اللہ تعالی کی طرف سے انعام ہوگا، لیکن اگر خود حاصل کرنے کی کوشش کریں گے یا اس کے طالب رہیں گے تو یہ گھٹیا پن ہوگا۔ معرفت آپ کو اس وقت حاصل ہوگی، جب آپ کو اللہ تعالی کے اس کائنات میں کارساز حقیقی ہونے کا عین الیقین ہو جائے اور خیالات ماسویٰ اللہ سے پاک ہو جائیں اور دل و زبان سے اس کو یاد کرنے لگ جائیں۔ (اقتباس)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT