Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / مقننہ کمیٹی اقلیتی بہبود میں مسلم تحفظات نظر انداز

مقننہ کمیٹی اقلیتی بہبود میں مسلم تحفظات نظر انداز

ٹی آر ایس و مجلس کے دعوے بے نقاب ، سید عظمت اللہ حسینی
حیدرآباد ۔ 21 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی مسٹر سید عظمت اللہ حسینی نے اسمبلی اور کونسل کی اقلیتوں سے متعلق مقننہ کمیٹی کے اجلاس میں 12 فیصد مسلم تحفظات کو موضوع بحث نہ بنانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹی آر ایس اور مجلس کا مسلم چمپئن ہونے کا دعویٰ بے نقاب ہوگیا ہے ۔ مسلم ارکان کی مجرمانہ خاموشی سے تلنگانہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہونچی ہے ۔ مسٹر سید عظمت اللہ حسینی نے ٹی ار ایس کے ارکان سے استفسار کیا کہ وہ اپنی پارٹی کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں یا اپنی حلیف مجلس کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں ۔ 2014 کے انخابی منشور میں ٹی آر ایس نے مسلمانوں کو 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ شاد نگر میں منعقدہ جلسہ عام میں چیف منسٹر کے سی آر نے اقتدار حاصل ہونے کے 4 ماہ مسلمانوں سے کئے گئے وعدے کو پورا کرتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ۔ حکومت کی افطار پارٹی میں بھی چیف منسٹر نے مسلم تحفظات سے متعلق عہد کے پابند ہونے کا وعدہ کیا ۔ مگر اسمبلی اور کونسل سے متعلق اقلیتی بہبود کی کمیٹی میں صدر نشین کے بشمول حکمران جماعت کے 5 ارکان ہونے کے باوجود 12 فیصد مسلم تحفظات کو کمیٹی کے اجلاس کا ایجنڈہ نہیں بنایا گیا اور نہ ہی اس پر قرار داد منظور کرتے ہوئے حکومت کو سفارش کرنے کی جرات کی گئی ہے ۔ ٹی آر ایس پارٹی کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے معاملے میں ٹی آر ایس کے ارکان ڈر و خوف محسوس کررہے ہیں اور اپنی حلیف جماعت سے خوفزدہ نظر آرہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ 12 فیصد مسلم تحفظات کی تحریک ہے ۔ ٹی آر ایس نے ایس ٹی طبقات کو بھی 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ جب کہ ایس ٹی طبقات کی کوئی تحریک نہ ہونے اور نہ ہی حکومت پر کوئی دباؤ ہونے کے باوجود ریاستی وزیر ایس ٹی بہبود مسٹر چندو لعل کی قیادت میں ایس ٹی طبقات سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ ارکان اسمبلی اور رکن کونسل نے محکمہ ایس ٹی طبقات کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک اجلاس طلب کیا جس میں ایس ٹی طبقات کی معاشی سماجی پسماندگی کا جائزہ لینے والی کمیٹی کے صدر نشین بھی شرکت کی ہے ۔ ایس ٹی طبقات کے لیے تحفظات کا جائزہ لینے کے بعد تلنگانہ میں ایس ٹی طبقات کو 9.5 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی قرار داد منظور کرتے ہوئے حکومت کو سفارش کی گئی ہے ۔ افسوس کے مسلم ارکان نے ایس ٹی طبقات کے منتخب عوامی نمائندوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ۔ مسٹر سید عظمت اللہ حسینی نے کہا کہ ٹی آر ایس اور مجلس کی مسلم دوستی بے نقاب ہوگئی ہے ۔ دونوں جماعتیں ووٹ بنک کی سیاست کی خاطر مکھوٹے استعمال کررہے ہیں دونوں ہی جماعتوں کے ارکان بالخصوص مسلم ارکان کی معنی خیز خاموشی ناقابل معافی ہے ۔ ایس ٹی طبقات کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے بھی اپنی رپورٹ پیش نہیں کی مگر ایس ٹی طبقات کے عوامی منتخب نمائندوں نے اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے قرار داد کے ذریعہ اپنی سفارش حکومت کو پیش کردی ہے ۔ اسمبلی و کونسل کی اقلیتی کمیٹی سدھیر کمیشن کی رپورٹ وصول نہ ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کررہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT