Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / مقننہ کمیٹی اقلیتی بہبود کا آئندہ ماہ دورہ دہلی و اجمیر شریف

مقننہ کمیٹی اقلیتی بہبود کا آئندہ ماہ دورہ دہلی و اجمیر شریف

سیول سرویس کوچنگ کا جائزہ لیا جائے گا ، جناب عامر شکیل چیرمین کمیٹی کی صدارت میں اجلاس
حیدرآباد ۔ 20۔ جولائی (سیاست نیوز) اقلیتی بہبود سے متعلق مقننہ کمیٹی 9 اور 10 اگست کو دہلی اور اجمیر کا دورہ کرے گی۔ دہلی میں ہمدرد اسٹڈی سرکل کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو سیول سرویسز کی کوچنگ کا جائزہ لیا جائے گا اور حیدرآباد میں سنٹر کے قیام کی خواہش کی جائے گی۔ اقلیتی بہبود کمیٹی کا اجلاس آج صدرنشین عامر شکیل کی صدارت میں اسمبلی کے کمیٹی ہال میں منعقد ہوا۔ اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے سیول سرویسز میں مسلم نمائندگی میں اضافے کیلئے ہمدرد اسٹڈی سرکل کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے ارکان حیدرآباد میں ہمدرد اسٹڈی سرکل کی شاخ کے قیام کی درخواست کریں گے اور حکومت کی جانب سے تمام سہولتوں کی فراہمی کا تیقن دیا جائے گا۔ تلنگانہ حکومت کے میناریٹی اسٹڈی سرکل کے ذریعہ ہر سال 100 اقلیتی طلبہ کو سیول سرویسز کی کوچنگ دی جارہی ہے لیکن نتائج حوصلہ افزاء نہیں ہے، لہذا ہمدرد یونیورسٹی کے کوچنگ اور اسٹڈی سرکل سے تعاون حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہر سال اس اسٹڈی سرکل کے کئی طلبہ سیول سرویسز کیلئے منتخب ہوتے ہیں۔ مقننہ کمیٹی 10 اگست کو اجمیر کا دورہ کرے گی جہاں حیدرآبادی رباط کے قیام کیلئے اراضی کی نشاندہی کی جائے گی۔ تلنگانہ حکومت نے حیدرآبادی رباط کے قیام کیلئے 5 کروڑ روپئے جاری کئے ہیں اور راجستھان حکومت سے ایک تا دو ایکر اراضی الاٹ کرنے کی خواہش کی گئی۔ درگاہ شریف کے قریبی علاقہ میں اس قدر اراضی دستیاب نہیں لہذا کمیٹی کسی موزوں مقام کا تعین کرے گی۔ کمیٹی کے صدرنشین عامر شکیل نے بتایا کہ حکومت کو کئی سفارشات پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جن میں اہم اسکیمات کے بجٹ کو گرین چیانل میں رکھنے کی سفارش شامل ہے۔ کمیٹی حکومت سے سفارش کرے گی کہ شادی مبارک، اسکالرشپ، فیس ری ایمبرسمنٹ ، اوورسیز اسکالرشپ اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے قرضہ جات کو گرین چیانل میں رکھا جائے تاکہ بجٹ کی اجرائی میں کوئی دشواری نہ ہو۔ ان فلاحی اسکیمات کے بجٹ کے خرچ میں محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔

 

عہدیداروں نے بتایا کہ بجٹ کی اجرائی کے اعتبار سے اسکیمات پر عمل آوری کی جاتی ہے۔ کرسچن اقلیت کیلئے وقف بورڈ کی طرح علحدہ بورڈ کی تشکیل اور ان کے تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اوورسیز اسکالرشپ کے تحت ایس سی ، ایس ٹی طلبہ کی طرح اقلیتی طلبہ کو بھی فیس 10 لاکھ سے بڑھاکر 25 لاکھ کرنے کی حکومت سے سفارش کی جائے گی۔ اقلیتی طلبہ کو ایس سی ، ایس ٹی کے مطابق اسکالرشپ کی ادائیگی کیلئے حکومت سے نمائندگی کی جائے گی۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اوورسیز اسکالرشپ سے متعلق طلبہ کو ویزا کے حصول میں حکومت تعاون کرے اور حکومت کی جانب سے سفارتخانہ کو مکتوب روانہ کیاجائے۔ کمیٹی نے اس اسکیم کے تحت موجودہ پانچ ممالک کے علاوہ سعودی عرب ، قطر اور متحدہ عرب امارات کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی تاکہ اقلیتی طلبہ وہاں کی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرسکیں۔ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی نے حج ہاؤز سے متصل زیر تعمیر عمارت کو جلد از جلد لیز پر دینے کی ہدایت دی تاکہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ کمیٹی نے اقلیتی اداروں میں دینیات کے علاوہ اخلاقیات کو شامل کرنے اور اقامتی اسکولس میں اسکل ڈیولپمنٹ کورسس کے آغاز کی سفارش کی ہے۔ تمام اقلیتی اداروں سے کارکردگی رپورٹ طلب کی گئی۔ اجلاس میں محمد سلیم، فاروق حسین ، ونئے بھاسکر ، اسٹیفنسن ، الطاف حیدر اور اکبر اویسی کے علاوہ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل ، اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور اور دوسروں نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT