Friday , August 18 2017
Home / عرب دنیا / ملائشیا کا قیام قربانیوں کے بعد ممکن ہوسکا : نجیب رزاق

ملائشیا کا قیام قربانیوں کے بعد ممکن ہوسکا : نجیب رزاق

قومی دن پر ٹیلیویژن پر قوم سے خطاب، عوام کو احتجاج کا راستہ اپنانے سے گریز کا مشورہ
سرکاری فنڈس میں خردبرد کے الزام کی تردید

کوالالمپور ۔ 31 اگست (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم ملائشیا نجیب رزاق ان پر لگائے گئے 700 ملین ڈالرس اسکام میں ملوث ہونے کے الزام اور عوام کے زبردست احتجاج کے باوجود اپنے عہدہ سے دستبردار ہونے تیار نہیں۔ احتجاجی سڑکوں پر نکل آئے تھے لیکن نجیب رزاق بھی اپنے موقف سے ٹس سے مس نہیں ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ملک کو مفاد پرستوں کے حوالے نہیں کرسکتے۔ یاد رہے کہ ملائشیا ایک کثیرالمذاہب والا ملک ہے اور آج یہاں قومی دن منایا جارہا ہے۔ نجیب رزاق نے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں اس نوعیت کے احتجاج کے ذریعہ عوام اپنے موقف سے حکومت کو آگاہ کرنے کا طریقہ اختیار کررہی ہے تو یہ طریقہ بالکل غلط ہے۔ اس ملک کا قیام ہمارے متعدد جانبازوں کی قربانی کے بعد ممکن ہوا ہے جنہوں نے اپنی جانیں صرف اس لئے نچھاور کردیں کہ ملائشیائی عوام امن و سکون کے ساتھ زندگی گذار سکیں۔ قومی دن کے موقع پر ٹیلیویژن سے قوم کے نام خطاب کے دوران انہوں نے یہ بات کہی۔ عام طور پر قومی دن کے موقع پر نجیب رزاق کی پہلے سے ریکارڈ شدہ تقریر ٹیلی کاسٹ کی جاتی تھی لیکن جاریہ سال انہوں نے راست طور پر تقریر کی اور کہا کہ ملک کی کرنسی کی قدر میں کمی کے باوجود وہ ملائشیا کو معاشی طور پر کمزور ہونے نہیں دیں گے اور نہ ہی مفاد پرستوں کے ذریعہ ملائشیا کو تباہ ہونے دیں گے۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ حکومت کی کارکردگی کی جانچ کے لئے بیالٹ باکس کا استعمال کریں۔ انہوں نے عوام سے پرامن اور پرسکون رہنے کی اپیل کی تاکہ وہ (نجیب) اور ان کی ٹیم ملک کو درپیش چیلنجز سے بخوبی نمٹ سکے۔ انہوں نے عوام کو تیقن دیا کہ وہ ان افواہوں پر توجہ نہ دیں کہ ملائشیا دیوالیہ ملک ہے۔ یہ افواہیں ایسے لوگ پھیلا رہے ہیں جن کا ایک مخصوص ایجنڈہ ہے۔ ہم اندرون یا بیرون ملک کسی بھی مفاد پرست کو یہ اجازت نہیں دیں گے وہ جانفشانی سے قائم کئے گئے ملک ملائشیا کو تباہ کردے۔ ہمیں یہ بات فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ جب تک ہم متحد نہیں ہوں گے اس وقت تک ہم میں یگانگت کا بھی فقدان رہے گا جس سے مسائل جوں کے توں باقی رہیں گے اور جو کچھ ہم نے محنت سے بنایا ہے وہ محنت ضائع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے احتجاج جس سے عوامی زندگی درہم برہم ہوتی ہو، اس سے آپ کی بالغ نظری ظاہر نہیں ہوتی۔ جمہوریت میں اپنے کسی مطالبہ کو حکومت تک پہنچانے کیلئے احتجاج کا راستہ انتہائی غیرمناسب ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہیکہ دو روز قبل ہزاروں افراد سڑکوں پر احتجاج کیلئے نکل کھڑے ہوئے تھے جہاں انہوں نے نجیب رزاق پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے ریاستی فنڈس سے کئی ملین ڈالرس حاصل کئے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ کم و بیش 25000 احتجاجیوں نے مظاہرہ میں حصہ لیا جبکہ مختلف این جی اوز کا کہنا ہیکہ احتجاج میں زائد از تین لاکھ افراد نے حصہ لیا۔ نجیب رزاق نے ان پر عائد کئے گئے الزام کی تردید کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT