Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / ملائیشیا میںدینی مدرسہ میں آتشزدگی،24 جاں بحق

ملائیشیا میںدینی مدرسہ میں آتشزدگی،24 جاں بحق

 

کوالالمپور ۔ 14 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) 24 افراد جن میں سے بیشتر بچے تھے، آتشزدگی کی یہ واردات ایک دینی مدرسہ میں پیش آئی تھی جس میں خوابگاہ کی کھڑکیوں کی دھاتی جالی نے آگ پکڑ لی۔ شاگرد اور استاد جو اندر پھنس گئے تھے اور مدد کیلئے چلا رہے تھے لیکن بے بس پڑوسی انہیں صرف دیکھتے رہنے پر مجبور تھے۔ 22 بچوں جن کی عمریں 13 اور 17 سال کے درمیان ہے، ایک دوسرے پر ڈھیر کی شکل میں پڑی ہوئی تھیں، جس سے ظاہر ہوتا ہیکہ آگ لگتے ہی طلبہ میں بھگدڑ مچ گئی تھی۔ یہ سانحہ علی الصبح پیش آیا۔ آتش فرو عملہ فوری مقام حادثہ پر پہنچا اور آگ ایک گھنٹے میں بجھا دی گئی لیکن اس سے پہلے ہی اس نے ہولناک تباہی کی داستان اپنے پیچھے چھوڑی تھی۔ مقامی اخبارات نے جل کر خاکستر کمروں کی تصویریں شائع کی گئی ہیں۔ خوابگاہ کے بستر راکھ میں تبدیل ہوگئے تھے اور پلنگ آگ کی شدت سے کالے پڑگئے تھے۔ فجر کی اذان کے وقت تک آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ 46 سالہ نورحیاتی عبدالحلیم نے جو اسکول کے روبرو مقیم ہے، کہا کہ اس نے چیخنے چلانے کی آوازیں سنی تھیں اور سمجھا تھا کہ لوگ باہم لڑ رہے ہیں۔ اس نے اپنے مکان کی کھڑکی کھولی اور اسکول کو جلتے دیکھا۔ وہ مدد کیلئے چلایا لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکا۔ آتش فرو عملہ کی آمد تک دارالقرآن اتفاقیہ دینی مدرسہ جو دارالحکومت کے قلب میں واقع ہے، سے اٹھنے والی چیخوں کی آواز بند ہوگئی تھی۔ مرکزی زیرانتظام علاقوں کے وزیر ٹینگ کو عدنان، ٹینگ کو منصور نے کہا کہ جو بچے اسکول میں مقیم تھے، وہ مایوسانہ انداز میں شعلوں سے بچ کر فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے لیکن دھاتی حفاظتی جالیاں خوابگاہ کی کھڑکیوں پر لگائی گئی تھیں، جو انہیں فرار سے روک رہی تھی۔ سرکاری عہدیداروں کے بموجب وہ روانہ نہیں ہوسکے۔ خوابگاہ کا ایک ہی دروازہ تھا جو شعلہ پوش ہوگیا تھا۔ خیرالدین درہمن ڈائرکٹر کوالالمپور آتشزدگی و بچاؤ محکمہ نے کہا کہ یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں 20 سال میں ایک بار بدترین آتشزدگی کا واقعہ پیش آتا ہے۔

آتش فرو عملہ کے ارکان نے کہاکہ انہیں شبہ ہیکہ آتشزدگی کی وجہ برقی شاٹ سرکٹ تھا یا پھر مچھر بھگانے والا آلہ تھا۔ عہدیداروں نے ابتداء میں کہا تھا کہ 23 طلبہ اور دو اساتذہ آگ لگنے کی واردات میں ہلاک ہوگئے بعدازاں پولیس نے اس میں ترمیم کے ہلاکتوں کی تعداد 22 طلبہ اور دو اساتذہ بتائی۔ 6 بچے ہاسپٹل میں نازک حالت میں زیرعلاج ہیں۔ صرف چند ہی محفوظ فرار ہوسکے۔ وزیرٹینگ کو عدنان نے کہاکہ اسکول میں مقامی عہدیداروں کی جانب سے جاری کردہ کارروائی کا ضروری لائسنس نہیں ہے۔ اس تبدیلی سے ظاہر ہوتا ہیکہ ملک کے دینی مدرسوں میں جدیدکاری پر توجہ نہیں دی جاتی۔ مسلم ملائے اپنے بچوں کو قرآن کی تعلیم کیلئے دینی مدرسوں کو روانہ کرتے ہیں۔ یہ دینی مدرسے مذہبی عہدیداروں کے زیرانتظام ہیں، محکمہ تعلیمات کے نہیں۔ ان پر حالیہ برسوں میں تنقید میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کیونکہ کئی مدرسے غیرمحفوظ ہیں اور غیرقانونی طور پر چلائے جارہے ہیں۔ ایک 11 سالہ لڑکا مبینہ طور پر گذشتہ سال شمالی ریاست جوہور کے ایک دینی تعلیمی ادارہ میں زدوکوب کی وجہ سے فوت ہوگیا تھا جس کی وجہ سے ان پر نگرانی کے مطالبات میں اضافہ ہوگیا تھا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کی خبر کے بموجب آتشزدگی اور بچاؤ محکمہ نے حال ہی میں آتشزدگی کے حفاظتی اقدامات کے بارے میں غیرمسلمہ اور خانگی تحفیظ مدرسوں میں اظہارتشویش کیا تھا۔ 211 آتشزدگی کی وارداتیں 2015ء سے اب تک دینی مدارس میں ہوچکی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT