Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ملازمتوں کیلئے امتحانات کی کوچنگ کے تلنگانہ مینارٹیز اسٹڈی سرکل کا قیام

ملازمتوں کیلئے امتحانات کی کوچنگ کے تلنگانہ مینارٹیز اسٹڈی سرکل کا قیام

ہر ضلع میں سنٹرس کے قیام کی مساعی ، ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد۔/24ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتی طلبہ کو سرکاری اور خانگی شعبہ جات میں ملازمت کے حصول کو یقینی بنانے کیلئے تلنگانہ میناریٹیز اسٹڈی سرکل قائم کیا گیا ہے جس کے ذریعہ یونین پبلک سرویس کمیشن سے لے کر تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن اور دیگر ریکروٹمنٹ بورڈس کے تقررات سے متعلق امتحانات کیلئے کوچنگ فراہم کی جائے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے آج جامعہ نظامیہ کامپلکس گن فاؤنڈری میں اسٹڈی سرکل کا افتتاح انجام دیا۔ اقلیتوں کی تعلیمی، سماجی اور معاشی پسماندگی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت نے روزگار پر مبنی امتحانات اور کورسیس میں تربیت کی فراہمی کیلئے یہ خصوصی اسٹڈی سرکل قائم کیا ہے جس میں تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کے گروپ I تا IV امتحانات کے علاوہ یونین پبلک سرویس کمیشن، اسٹاف سلیکشن کمیشن، ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ، بینک پروبیشنری آفیسرس، مسلح افواج، سنٹرل پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگس، نیم فوجی دستے، پولیس، سنٹرل ایکسائیز، ٹیچرس، لکچررس، انجینئرس اور دیگر مسابقتی امتحانات کیلئے ماہرین کی نگرانی میں کوچنگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمد محمود علی نے عیدالاضحی سے ایک دن قبل اسٹڈی سرکل کے آغاز کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کا تناسب کافی گھٹ چکا ہے۔ آزادی کے وقت اقلیتوں کا سرکاری ملازمتوں میں تناسب 20تا 32فیصد تھا جو اب گھٹ کر 2فیصد ہوچکا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ آبادی کے لحاظ سے اقلیتوں کو ملازمتوں میں حصہ داری ملے۔ انہوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد جہاں اقلیتوں کی آبادی 30تا 40فیصد ہے حکومت نے اسٹڈی سرکل کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ضلع میں اس طرح کے اسٹڈی سرکلس قائم کئے جائیں گے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ پولیس میں 8000 کانسٹبلس کی جائیدادوں پر تقررات کئے جارہے ہیں جن میں 4000 جائیدادیں حیدرآباد کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 14سال کی طویل جدوجہد کے بعد علحدہ ریاست تلنگانہ حاصل کی گئی اور ٹی آر ایس حکومت چاہتی ہے کہ آندھرائی حکمرانوں کی ناانصافیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے تمام طبقات کی یکساں ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے چندر شیکھر راؤ کو مہان قائد قرار دیا اور کہا کہ وہ تلنگانہ کے گاندھی ہیں جنہوں نے گاندھی جی کے اصولوں پر عدم تشدد کے راستہ علحدہ ریاست حاصل کی۔ محمود علی نے کہا  کہ نظام دور حکومت کی گنگا جمنی تہذیب کا احیاء حکومت کا مقصد ہے جہاں تمام طبقات اپنے عید اور تہوار مل جل کر مناتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹڈی سرکل کیلئے حکومت نے 7کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پہلے سال نظم و نسق میں عہدیداروں کی کمی کے باعث حکومت کو اسکیمات پر عمل آوری میں کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت تلنگانہ کے اضلاع کی تعداد کو دوگنا کرنا چاہتی ہے تاکہ چھوٹے اضلاع کے قیام سے بہتر حکمرانی میں سہولت ہو۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے کہا کہ تلنگانہ پہلی ریاست ہے جہاں اقلیتوں کیلئے اسٹڈی سرکل قائم کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ورنگل اور کریم نگر میں اسٹڈی سرکلس کے قیام کی تجویز ہے۔ انہوں نے اقلیتی طلبہ سے اپیل کی کہ وہ اس سہولت سے استفادہ کریں۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر نے خیرمقدم کیا جبکہ اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور نے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن بی شفیع اللہ، منیجنگ ڈائرکٹر کرسچین فینانس کارپوریشن مسٹر وکٹر اور ڈائرکٹر اسٹڈی سرکل شریمتی ہری پریہ اور دوسرے موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT