Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ملالہ یوسف زئی کی نائیجریا آمد ، بوکو حرام پر سخت تنقیدیں

ملالہ یوسف زئی کی نائیجریا آمد ، بوکو حرام پر سخت تنقیدیں

MAIDUGURI, JULY 19 :- Nobel laureate Malala Yousafzai seen at the kitchen of Yerwa Girls school in Maiduguri, Nigeria July 18, 2017.REUTERS-16R

مائیدوگری ۔ 19 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : امن کا نوبل انعام حاصل کرنے والی ملالہ یوسف زئی کا شمال مشرقی نائیجریا میں درجنوں خواتین نے خیر مقدم کیا جہاں ملالہ نے بوکو حرام کے خلاف اپنے خطاب میں شورش پسند تنظیم کو زبردست تنقیدوں کا نشانہ بنایا جو نوجوان لڑکیوں کے اغواء میں ملوث رہی ہے ۔ 20 سالہ ملالہ نے دریں اثناء اسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ نائیجیریا میں خواتین کے حوصلہ اور جرات مندی کو دیکھ کر وہ بے حد خوش ہیں کیوں کہ دنیا میں بدترین انسانی بحران کے ماحول میں بھی خواتین تعلیم حاصل کرنے کے جذبہ سے سرشار ہیں ۔ ملالہ نے کہا وہ لڑکیوں کو با اختیار بنانے کی ہمیشہ سے وکالت کرتی رہی ہیں اور اس بار بھی وہ اسی مقصد سے یہاں آئی ہیں ۔ انہوں نے متعدد ممالک کا دورہ کیا ہے ۔ ملالہ نے تین سال قبل بوکو حرام کے ذریعہ متعدد مغویہ اسکولی لڑکیوں سے بھی ملاقات کی جنہیں حال ہی میں رہا کیا گیا ہے ۔ ملالہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ وہ نائیجریائی لڑکیوں کے ساتھ اظہار یگانگت کے لیے یہاں پہنچی ہیں ۔ مائیدوگری شہر کے اطراف و اکناف میں قائم پناہ گزین کیمپوں کا بھی ملالہ نے دورہ کیا جہاں بوکو حرام کے تشدد کا شکار ہزاروں افراد پناہ گزین ہیں ۔ بوکو حرام نے اب بھی اپنی پرتشدد کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے جہاں وہ اکثر خاتون خود کش حملہ آوروں کا بھی استعمال کرتے ہیں ۔ ملالہ نے اپنے اطراف بیٹھی ہوئی لڑکیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے انتہا پسندی کا عروج دیکھا ہے جہاں ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے رشتہ داروں کو ہلاک کیا گیا ۔ 2012 میں جس وقت ملالہ کو گولی کا نشانہ بنایا گیا تھا اس وقت ان کی عمر 15 سال تھی ۔ گولی ملالہ کے سر میں لگی تھی کیوں کہ ملالہ خواتین کو تعلیم حاصل کرنے کی تائید کیا کرتی تھی ۔ ملالہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہی لیکن برطانیہ میں اس کا کامیاب علاج کرتے ہوئے اس کی جان بچائی گئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT