Saturday , August 19 2017
Home / دنیا / ملا منصور کی ہلاکت اہم سنگ میل : اوباما، پاکستان کا توثیق سے انکار

ملا منصور کی ہلاکت اہم سنگ میل : اوباما، پاکستان کا توثیق سے انکار

جنگ پسند منصور نے ہمیشہ امن مذاکرات سے گریز کیا ، شدت پسند نیٹ ورک کیخلاف کارروائی جاری رکھنے کا اعلان

ہنوئی ۔ 23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر بارک اوباما نے کہا ہے کہ افغان طالبان کے سربراہ ملا محمد اختر منصور کی ہلاکت افغانستان میں قیامِ امن کی دیرینہ کوششوں کے سلسلے میں ’اہم سنگِ میل‘ ہے۔ ویتنام کے دورے کے دوران صدر اوباما کی جانب سے جاری کیے گئے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ ان تمام شدت پسند نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرتا رہے گا جو امریکہ کو نشانہ بناتے ہیں۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بارک اوباما کا کہنا تھا کہ ملا منصور کی موت سے ایک ایسی تنظیم کے سربراہ کا خاتمہ ہوا ہے جو امریکی اور اتحادی افواج پر حملوں کی منصوبہ بندی کرتی اور انھیں سرانجام دیتی رہی ہے اور اس نے افغان عوام کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس سے قبل امریکی محکمہ دفاع نے کہا تھا کہ امریکی فوج نے افغان طالبان کے سربراہ پر فضائی حملہ کیا ہے اور اس بات کا ’غالب امکان ہے کہ ملا منصور اس حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘ ملا محمد اختر منصور ہفتہ کو مبینہ طور پر پاکستان کے صوبے بلوچستان میں ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ نوشکی کے علاقے احمد وال کے علاقے میں ہونے والے اس مبینہ حملے میںافغان طالبان کے امیر کی ہلاکت کی تصدیق افغان خفیہ ادارے اور اب امریکی حکام کی جانب سے کی گئی ہے تاہم پاکستانی حکام نے فی الحال اس تصدیق سے انکار کیا ہے کہ اس واقعہ میں مرنے والا شخص ملا منصور ہی تھا۔

اتوار کو لندن پہنچنے کے بعد پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملے کے مقام سے ولی محمد نامی ایک شخص کا شناختی کارڈ ملا ہے جو قلعہ عبداللہ کا رہائشی ہے، البتہ افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوئی۔ انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے ملا اختر منصور کے بارے میں ڈرون حملے کے بعد آگاہ کیا تھا، اور امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے اس سلسلے میں ہفتے کی رات ساڑھے دس بجے ان سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی۔ اس سے قبل پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ امریکہ نے صوبہ بلوچستان میں مبینہ طور پر افغان طالبان کے سربراہ ملا اختر منصور کو نشانہ بنانے کے بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اب تک جو معلومات اکٹھی کی گئی ہیں ان کے مطابق 21 مئی کو ولی محمد ولد شاہ محمد نامی شخص جس کے پاس پاکستانی پاسپورٹ اور شناختی کارڈ موجود تھا اور وہ تفتان سرحد سے پاکستان میں داخل ہوا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’ولی محمد کے پاسپورٹ پر ایرانی ویزا موجود تھا، اور وہ تافتان سے ٹرانسپورٹ کمپنی سے کرائے پر لی ہوئی گاڑی پر سفر کر رہا تھا۔‘ دفتر خارجہ کہ مطابق گاڑی پاک افغان سرحد کے قریب کوچاکی کے مطابق پر تباہ حالت میں ملی ہے۔ ’ان کے ڈرائیور کا نام محمد اعظم تھا جس کی نعش شناخت کے بعد ان کے رشتہ داروں کے حوالے کر دی گئی ہے۔ جبکہ وہاں سے ملنے والی دوسری نعش کی شناخت اس مقام سے ملنے والے شواہد اور دیگر معلومات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔

افغانستان میں طالبان تحریک کے سربراہ ملا محمد اختر منصور کی پاکستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق جہاں افغان اور امریکی حکام کی جانب سے کر دی گئی ہے وہیں افغان طالبان اور پاکستان کی جانب سے تاحال اس بارے میں شک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسحاق زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملا منصور کا تعلق افغانستان کے صوبے قندھار سے تھا جس کی سرحد پاکستان کے صوبے بلوچستان سے ملتی ہے۔ وہ’افغان جہاد‘ کے دوران خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں جلوزئی کے مقام پر ایک مہاجر کیمپ میں دینی مدرسے کے طالب علم بھی رہے۔ طالبان ذرائع کے مطابق ملا اختر منصور نے سابق سویت یونین کے خلاف ایک مختصر عرصے تک جہاد میں حصہ لیا اور اس وقت وہ افغان جہادی پارٹی حزب اسلامی افغانستان (یونس خالص) گروپ سے منسلک تھے۔ وہ سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب کی سوویت یونین نواز حکومت کے خلاف بھی لڑتے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 90 کی دہائی کے آخر میں جب افغانستان میں ملا عمر کی سربراہی میں تحریک طالبان کا ظہور ہوا تو ملا اختر محمد منصور نے بھی اس تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔ وہ طالبان دور حکومت کے دوران سول ایوی ایشن کے وزیر اور کچھ عرصہ تک قندہار ایئرپورٹ کے انچارج بھی رہ چکے ہیں۔ان سب خوبیوں کو مدنظر نہ رکھتے ہوئے اوباما نے ملامنصور کو جنگ پسند شخص شاید اس لئے قرار دیا ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر کبھی نہیں آئے۔

TOPPOPULARRECENT