Monday , October 23 2017
Home / بچوں کا صفحہ / ملا نصرالدین کو پیسوں کا لالچ

ملا نصرالدین کو پیسوں کا لالچ

ایک دن مال نصرالدین گھومتے گھماتے ایک آبادی میں جا پہنچے وہاں قطار در قطار ناریل کے درخت تھے جن پر بڑے بڑے ناریل لگے ہوئے تھے۔ وہ جھٹ سے ایک درخت پر جا چڑھے اور لگے ناریل توڑنے۔ جیسے ہی زور لگایا تو پھسل گئے اور درخت سے لٹک گئے۔ اب عالم یہ تھا کہ کئی فٹ  بلند درخت کے اوپر ملا کسی ناریل کی طرح پتوں کو مضبوطی سے پکڑے لٹکے ہوئے تھے اور مدد کیلئے  پکاررہے تھے۔
اتنے میں ادھر سے ایک اونٹ والے کا گذر ہوا۔ اس نے ملا کو جو اس حال میں دیکھا تو اونٹ کو درخت کے نیچے لے آیا اور پھر اس کی پیٹھ پر کھڑے ہوکر ملا کی ٹانگیں پکڑنے کی کوشش کی۔ اچانک اونٹ کو تازہ گھانس نظر آئی اور وہ ادھر چل دیا۔ اونٹ والا بے چارہ ملا کی ٹانگوں کو پکڑے لٹکا رہ گیا اور شور مچانے لگا اور سب سے اوپر ناریل، ناریل سے چمٹے ہوئے ملا اور ملا کے پیروں سے لٹکا اونٹ والا۔ دونوں مل کر خوب شور مچانے لگے اور ’’مدد مدد‘‘ پکارنے لگے۔ ذرا دیر بعد ایک ہاتھی سوار ادھر سے گذرا، ملا نے اسے مدد کیلئے پکارا، ہاتھی والا بھی ہاتھی لے کر درخت کے نیچے آیا اور احتیاط سے اونٹ والے کی ٹانگیں پکڑ کر نیچے کھینچیں۔ اتنے میں ہاتھی نیچے سے نکل گیا۔ اب تو عالم یہ تھا کہ ملا اور اونٹ والے کے ساتھ ہاتھی والا اس ناگہانی آفت میں مبتلاء ہوگیا۔ وہ چیخ کر ملا سے بولا ’’اے شخص! ناریل مت چھوڑنا، نیچے آ کر میں تمہیں ایک ہزار اشرفیاں دوں گا‘‘۔ ملا سن کر بڑے خوش ہوئے۔ اونٹ والا بولا ’’جناب! ناریل کو مضبوطی سے پکڑے رہئے گا، نیچے اتر کر میں آپ کو شہد کے مرتبان اور تین ہزار اشرفیاں دوں گا‘‘۔ یہ سن کر ہاتھی والا بولا ’’میں چار دوں گا‘‘۔ ’’پانچ ہزار‘‘ اونٹ والے نے کہا۔ ’’چھ ہزار‘‘ ہاتھی والے نے کہا۔ ’’سات ہزار‘‘ ۔ ’’نوہزار‘‘ بولی بڑھتی گئی تو ملا کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ انہوں نے ناریل چھوڑتے ہوئے دونوں ہاتھ پھیلا کر کہا ’’پھر میں اتنا امیر ہوجاؤں گا‘‘۔ ہاتھ چھوڑ کر بازو لہراتے ہی شاخ ہاتھ سے چھوٹی اور سب کے سب پٹاپٹ کٹے آم کی طرح نیچے آ رہے۔

TOPPOPULARRECENT