Monday , October 23 2017
Home / اے پی ڈائری / ملت کے نام کی دیگ کا نمک…

ملت کے نام کی دیگ کا نمک…

تلنگانہ ؍ اے پی ڈائری        خیر اللہ بیگ
ریاست تلنگانہ میں ٹی آر ایس کی مقبولیت اور طاقت کو دیکھ کر اور گذشتہ لوک سبھا میں ضمنی انتخابات ورنگل میں بدترین ناکامی کا شکار ہونے کے بعد کئی پارٹیوں نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات کے لئے اپنی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ بعض پارٹیوں نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا ہی فیصلہ کیا ہے۔ سابق چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے فرزند وائی ایس جگن موہن ریڈی کی پارٹی وائی ایس آر کانگریس اپنے قیام کے بعد سے شاندار مظاہرہ کرنے کی جدوجہد کے ساتھ آگے بڑھ رہی تھی لیکن قیام تلنگانہ کے بعد یہ پارٹی صرف آندھرا تک محدود رہ گئی اور اب اس نے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں حصہ نہ لینے کا ہوشمندانہ فیصلہ کرلیا ہے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ خود کو مضبوط بنائے بغیر انتخابات میں حصہ لینا احمقانہ فیصلہ ہوگا، اس لئے سب سے پہلے تلنگانہ میں وائی ایس آر کانگریس کو مضبوط بنایا جائے۔ جی ایچ ایم سی کے 150وارڈس کے لئے 2فبروری کو ہونے والے انتخابات میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے قائدین حصہ لینے کے خواہاں تھے اور انہیں کم از کم 10نشستوں پر کامیابی کا یقین تھا لیکن جگن موہن ریڈی نے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔ دیگر پارٹیاں جیسے کانگریس، تلگودیشم، بی جے پی نے ٹی آر ایس کی آندھی کی پرواہ نہ کرکے خود کو مشکلات میں ڈالنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انتخابی مہم شروع کی ہے۔ کانگریس کے لئے یہ انتخابات ریاست خاص کر حیدرآباد میں اپنی بقاء کی جنگ کے مترادف ہوں گے۔ تلگودیشم کے صدر اور چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ ضرور کیا ہے لیکن انہیں بھی اندازہ ہے کہ وہ ٹی آر ایس کی مقبولیت اور طاقت کو شکست نہیں دے سکتے۔ اس لئے گذشتہ منگل کو شہر میں منعقدہ تلگودیشم ۔ بی جے پی کے پہلے جلسہ عام میں چندرا بابو نائیڈو نے حکمراں پارٹی ٹی آر ایس کے خلاف کوئی خاص ریمارکس یا شعلہ بیان تقریر نہیں کی۔ اسٹیج پر موجود بی جے پی کے قائدین کو یہ امید تھی کہ چندرا بابو نائیڈو تلنگانہ کے چیف منسٹر کے سی آر اور ان کی پارٹی کے قائدین کے خلاف زبردست تنقید کرتے ہوئے کچا چٹھا پیش کریں گے،

لیکن بی جے پی قائدین کو مایوسی ہوئی۔ چندرا بابو نائیڈو نے اپنی تقریر میں کے سی آر کا نام تک نہیں لیا بلکہ وہ ان انتخابات کو صرف  اپنی حکمرانی کے دور میں حیدرآباد کی ترقی کے لئے کئے گیء کاموں کے تذکرے کی بنیاد پر ووٹ مانگنے تک ہی محدود رکھا ۔ چندرا بابو نائیڈو ایک دور اندیش اور موقع شناس لیڈر ہیں، وہ جانتے ہیں کہ کے سی آر کی ہوا کے سامنے فی الحال کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔ اس کے علاوہ انہیں انٹلیجنس کی رپورٹ کا بھی اندازہ ہے کہ شہر میں ٹی آر ایس کے حق میں لہر چل رہی ہے۔ شہر میں مقیم آندھرائی باشندے بھی کے سی آر سے دشمنی مول لینا نہیں چاہیں گے، وہ بھی ٹی آر ایس کے حق میں ووٹ دیں گے۔ ٹی آر ایس اور اس کے سربراہ کی قوت کا اندازہ رکھنے والے سیاسی قائدین میں یہ احساس ضرور ہے کہ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی کے ٹی راما راؤ کے دعویٰ کے مطابق ٹی آر ایس 100 نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی مگر کانگریس کے قائدین کو اپنی پارٹی کی طاقت و مقبولیت اور قومی شناخت کی وجہ سے ووٹ حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ مقامی سطح پر عوام کی رائے یہ بتاتی ہے کہ کانگریس کے لئے ان کے نزدیک کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ خاص کر مسلمانوں کو کانگریس سے کوئی سروکار نہیں اور نہ ہی تلگودیشم سے کوئی دلچسپی ہے کیونکہ تلگودیشم نے بی جے پی سے اتحاد کرکے خود کو مسلمانوں سے دور کرلیا ہے تو کانگریس نے مخالف مسلم اقدامات کیلئے بدنام ہے۔ ایسے میں شہر کے اندر صرف دو ہی پارٹیاں ہیں جو انتخابات میں بلا مقابلہ منتخب ہونے کا یقین رکھ سکتی ہیں۔ مجلس کے گڑھ والے حلقوں میں ناکامی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوگا تاہم حلقوں کی حد بندی اور نشستوں کو محفوظ قرار دینے اور خواتین کیلئے وارڈس مختص کردینے سے مجلس کے لئے کچھ وارڈس پر آزمائش سے دوچار ہونا پڑسکتا ہے۔ بہرحال کامیابی کا دارومدار اعمال اور کارکردگی پر ہے۔ مقامی جماعت کے قائدین کی نیت کچھ بھی ہو کام کیسا بھی ہو ووٹ دینے کے دن عوام کا فیصلہ ایک ہی ہوتا ہے۔ اب کانگریس اور تلگودیشم ، ٹی آر ایس پارٹیاں ہیں جو کامیابی کی منزل تک پہونچنے کیلئے ایک سے زائد راستے تلاش کرررہی ہیں۔ جب یہ قائدین رائے دہندوں کے سامنے پہونچیں گے تو پتہ چلے گا کہ عوام نے ان کے حق میں کیا رائے قائم کرلی ہے۔ شہریوں کے شعورکو دیکھ کر اندازہ ہورہا ہے کہ اس مرتبہ عوام خالص کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ دیں گے۔ خاص کر نئے شہر کے رائے دہندوں کا ووٹ فیصلہ کن ہوگا۔ پرانے شہر کے عوام اپنی قدامت پسندی اور مسائل کا شکار رہنے کی عادت سے مجبور ہیں اس لئے یہاں تبدیلیوں کی بہت کم توقع ہے۔ دیگر علاقوں میں جہاں محلہ واری سطح پر سوسائٹیاں کام کررہی ہیں وہاں عوام کی رائے منقسم ہوتی ہے۔

اس طرح شہر کے ایک علاقہ سری لکشی نگر کے مکینوں نے ایک منفرد قدم اٹھایا ہے، انہوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ ایسے امیدوار کو ووٹ نہیں دیں گے جو کالونی کی دیواروں اور گھروں کو نعروں، پوسٹرس سے خراب کردیتے ہیں، بیانرس لگاکر تکلیف پہنچاتے ہیں۔ ریزیڈنس ویلفیر اسوسی ایشن نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے امیدواروں کو ووٹ نہیں دیا جائے جو درختوں، برقی کھمبوں اور دیواروں پرپوسٹرس، ہورڈنگس اور بیانرس آویزاں کرکے لوگوں کو اپنے امیدوار کی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اس ایک سوچھ حیدرآباد کی مہم کے حصہ کے طور پر کئی محلوں کی سوسائٹیوں نے اپنے محلوں کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے پوسٹروں، بیانرس اور دیگر تشہیری حربوں سے پاک رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مگر یہ محلے والے اپنے فیصلہ پر کس حد تک ڈٹے رہیں گے یہ تو رائے دہی کے دن اور نتائج سے معلوم ہوگا۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق کوئی بھی سیاسی پارٹی یا انتخابی مقابلہ کرنے والے امیدوار عوام کی جائیداد کو استعمال نہیں کرسکتے اور نہ ہی کسی کے گھر اور دیوار کو خراب کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی امیدوار ایسا کرتا ہے تو اس کے لئے سزا بھی رکھی گئی ہے، تین ماہ کی جیل اور 2000 روپئے جرمانہ یا دونوں ایک ساتھ دیئے جاسکتے ہیں۔ لیکن دیکھا یہ جاتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں اور ان کے امیدوار کھلم کھلا قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور ضابطہ اخلاق کو توڑ کر عوام کو پریشان کرتے ہیں۔خاص کر پرانے شہر میں تشہیری اور انتخابی مہم کا تکلیف دہ مظاہرہ ہوتا ہے۔ عوام جو کرنا ہے کرلو ہم تو اپنی عادت سے باز نہیں آئیں گے کی سوچ کے ساتھ یہ قائدین پرانے شہر پر برسوں سے مسلط ہیں۔ عوام کو بے وقوف بنانے کی اپنی چالاکیوں سے باز نہیں آئیں گے ۔ اب حکمراں ٹی آر ایس سے ہاتھ مل چکا ہے تو دیگر اپوزیشن پارٹیوں کی ساری حکمت عملیاں ضائع ہوں گی۔ یہ سوال اکثر چیونٹی کی طرح کاٹتا ہے کہ حیدرآباد کے ایک حصہ میں معاشرتی زندگی کا مقدر کب بدلے گا؟ آخر شہر کے دیگر محلہ جات اور بستیاں بھی ہیں ، آخر پرانا شہر کب تبدیل ہوگا۔ یہاں برسوں سے عوام کی آرزوؤں اور اُمنگوں کی آنچ پر پکتی ملت کے نام کی دیگ کا نمک ، مرچ چکھ کر توانا ہونے والے قائدین نے ملت کے کمزور ڈھانچے کو نظرانداز کرنے کا اصول بنالیا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملت کے نام پر بے وقوف بنانے والوں کو ملت کے لوگوں نے حضرت علیؓ کے قول سے لیکر کئی اکابرین، بزرگوں اور محسنوں کے اقوال بھی فراموش کردیا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا تھا کہ ’’ کوئی معاشرہ کفر کے ساتھ تو قائم رہ سکتا ہے مگر ظلم اور ناانصافی کے ساتھ نہیں، اور پھر یہ کہ اقتدار، اختیار اور دولتملنے کے بعد انسان بدلتے نہیں بے نقاب ہوجاتے ہیں۔‘‘
[email protected]

TOPPOPULARRECENT