Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / ملزمین کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینے کے معاملہ میں میڈیا کا منفی رول

ملزمین کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینے کے معاملہ میں میڈیا کا منفی رول

مسلم طبقہ کے ساتھ بالخصوص جانبداری ، سماج میں غلط تاثر پیش کرنے کی کوشش، صحافتی ذمہ داری سے فرار
نئی دہلی۔3 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) مدھیہ پردیش میں پیر کو 8 زیر دریافت قیدیوں کو گولی ماردی گئی اور میڈیا میں جو تفصیلات پیش کی جاتی رہیں وہ قابل غور ہیں۔ ابتداء میں یہ خبر دی گئی کہ سیمی کے 8 ارکان نے مبینہ طور پر بھوپال سنٹرل جیل کے گارڈ کو ہلاک کردیا اور فرار ہوگئے۔ اس کے فوری بعد پھر یہ اطلاع آئی کہ پولیس ٹیم نے جیل سے چند کیلو میٹر دور جنگلاتی علاقہ میں ان کا پتہ چلالیا اور انکائونٹر میں ہلاک کردیا۔ شام تک ایسے ویڈیو کلپس اور خبریں منظر عام پر آئیں جس میں واضح طور پر بتایا گیا کہ یہ انکائونٹر فرضی تھا۔ سوشل میڈیا میں مسلسل یہ بحث جاری تھی کہ یہ انکائونٹر حقیقی تھا یا فرضی۔ ان سب کے علاوہ ایک اور قابل غور پہلو یہ بھی رہا کہ میڈیا نے اپنی صحافتی ذمہ داری کو بری طرح نظرانداز کرتے ہوئے 8 زیر دریافت قیدیوں کو ’’دہشت گرد‘‘ کا نام دے دیا۔ حالانکہ ان میں سے کسی کا بھی جرم ثابت نہیں ہوا۔ یہ ملزمین یقیناً قتل، لوٹ مار، ملک سے غداری اور جیل توڑ نے کے سنگین الزامات کا سامنا کررہے تھے۔ اس کے علاوہ ان کا تعلق ممنوعہ تنظیم سیمی سے بھی تھا۔ لیکن ان سب کے باوجود وہ مجرم نہیں تھے کیوں کہ ان کا جرم اب تک ثابت نہیں ہوسکا۔ اس کے باوجود میڈیا کے ایک گوشے نے انہیں ’’دہشت گرد‘‘ قرار دے دیا۔

اس ضمن میں مختلف نیوز چینلوں، اخبارات اور خبروں کا جائزہ لیا جاسکتا ہے جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جو انکائونٹر میں ہلاک ہوئے وہ دہشت گرد تھے۔ ہندوستانی میڈیا کی جانبداری یا پھر اپنی ذمہ داری سے لاپرواہی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ جب معاملہ کسی مسلم زیر دریافت قیدی کا ہوتا ہے تو اسے جرم ثابت ہونے سے پہلے ہی ’’دہشت گرد‘‘ کا لیبل لگادیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایسے کئی غیر مسلم ملزمین بھی ہیں جن پر دہشت گردی سے متعلق سنگین مقدمات چل رہے ہیں لیکن انہیں کبھی دہشت گرد نہیں کہا جاتا۔ ایک نیوز چینل نے بھوپال انکائونٹر کے حوالے سے بتایا کہ تمام 8 ملزمین اگرچہ سنگین الزامات کا سامنا کررہے تھے لیکن کسی بھی عدالت نے انہیں سزاء نہیں سنائی یا مجرم بھی قرار نہیں دیا تھا۔ اس معاملہ میں چینل نے کئی مثالیں پیش کیں اور بتایا کہ بے شمار ایسے مسلم افراد ہیں جنہیں سنگین دہشت گردی کے الزامات کے تحت جیلوں میں رکھا گیا۔ اس ضمن میں ایک مثال خاص طور پر پیش کی گئی جہاں ایک نوجوان نے 23 سال جیل میں گزاردیئے اور عمر کا ایک بڑا حصہ پورا ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اسے باعزت بری قرار دیا۔ یہ جس وقت جیل میں تھا نوجوان تھا

اور اب عمر ڈھل چکی تھی۔ اس کے باوجود میڈیا اسے مسلسل ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتا رہا۔ جب یہ شخص جیل سے باہر آیا اس وقت تک اس کے والد کا بھی انتقال ہوچکا تھا۔ وہ اپنے اوپر لگے اس داغ دھونے میں عمر کا ایک بڑا حصہ یوں ہی ضائع کرچکا تھا۔ اس کے برعکس سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو مالے گائوں دھماکے میں ملزم قرار دیا گیا ہے۔ اس پر بھی دہشت گردی کا الزام ہے لیکن اسی نیوز چینل نے مختلف سرکردہ اخبارات کی سرخیوں کو نمایاں کیا جس میں اس کا نام لکھا گیا لیکن کہیں بھی اسے دہشت گرد نہیں کہا گیا۔ میڈیا کی اس جانبدارانہ پالیسی نے مسلمانوں میں ایک طرح کی بے چینی اور عدم اطمینان کی کیفیت پیدا کررکھی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو پورے انصاف کے ساتھ ادا کرے اور تمام زیر دریافت قیدیوں کے لئے ایک ہی اصطلاح استعمال کی جائے۔ اگر الزامات ثابت ہونے سے پہلے ہی کسی کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیا جاتا ہے تو پھر یہ اصول تمام ملزمین کے لئے یکساں ہونا چاہئے۔ یا پھر جانبداری کی یہ روش ختم کی جانی چاہئے۔ میڈیا کو حساس معاملات میں ذمہ دارانہ و غیر جانبدارانہ رول ادا کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT