Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / ملزم فوجی کو بچانے کیلئے معصوم لڑکے کو پھنسایا گیا

ملزم فوجی کو بچانے کیلئے معصوم لڑکے کو پھنسایا گیا

(ہندواڑہ ٹاؤن میں دست درازی کا واقعہ)
ملزم فوجی کو بچانے کیلئے معصوم لڑکے کو پھنسایا گیا
عدالت میں جھو ٹ بیانی کیلئے پولیس کا دباؤ، متاثرہ لڑکی کا دعویٰ
سرینگر ۔ 16 ۔ مئی (سیاست ڈاٹ کام) ایک رضاکارانہ تنظیم نے آج ایک نقاب پوش لڑکی کو میڈیا کے روبرو پیش کیا ہے جو کہ گزشتہ ماہ ہندواڑہ احتجاج میں تنازعہ کا مرکز بن گئی تھی جس نے یہ دعویٰ کیا کہ مجسٹریٹ کے روبرو جھوٹا بیان دینے کیلئے پولیس نے اس پر دباؤ ڈالا تھا تاکہ ایک فوجی کو دست درازی کے الزامات سے بری الزمہ قرار دیا جاسکے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس لڑکی نے مطالبہ کیا کہ 12 اپریل تا 12مئی انہیں بیجا حراست میں رکھنے اور بے رحمانہ سلوک کرنے پر اور ان کے ویڈیو بیان کی ریکارڈنگ اور سرکیولیٹنگ (گشت کروانے) کے ذمہ دار پولیس عہدیداروں اور دیگر کے  خلاف کیس درج کیا جائے۔ اگرچیکہ متاثرہ لڑکی نے 12 اپریل اور اس کے بعد پیش آئے واقعات کا تسلسل پیش کیا لیکن میڈیا کے نمائندوں کو سوالات کرنے کی اجازت نہیں دی۔ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں ہندواڑہ ٹاؤن اور متصل علاقوں میں گزشتہ ماہ اس وقت عوام کا پرتشدد احتجاج بھڑک اٹھا تھا جب ایک فوجی کی جانب سے ایک 16 سالہ لڑکی کے ساتھ دست درازی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ بعد ازاں پولیس نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا جس میں لڑکی کو یہ کہتے ہوئے سنا گیاکہ دست درازی میں کوئی فوجی ملوث نہیں اور اس واقعہ کیلئے ایک مقامی لڑکے کو مورد الزام ٹھہرایا گیا ۔ ایک غیر سرکاری تنظیم جموں و کشمیر کولیش آف سیول سوسائٹی کے نمائندہ خرم پرویز کے زیر اہتمام آج منعقدہ پریس کانفرنس میں نقاب پوش لڑکی نے پولیس پر دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا ۔ اس موقع پر لڑکی کے والدین بھی موجود تھے۔ متاثرہ لڑکی نے ادعا کیا کہ 16 اپریل کی صبح ایک پولیس عہدیدار رجوع ہوکر مجھ سے اور میرے والد سے کہا کہ اس کی ہدایت کے مطابق عدالت میں بیان دیا جائے اور مجھے یہ کہنے پرمجبور کیا گیا کہ میری پیدائش 1997 ء میں ہوئی ہے اور ویڈیو میں ریکارڈ کئے گئے بیان پر کاربند رہیں۔ لڑکی یہ بھی الزام عائد کیا کہ پولیس نے دستاویزات پر نہ صرف زبردستی دستخط حاصل کرلئے بلکہ عدالت میں جھوٹا بیان دینے کیلئے مجبور کیا گیا ۔ عدالت میں میرا اور میرے والد کا دیا گیا بیان رضاکارانہ نہیں تھا اور میں جب عدالت میں بیان ریکارڈ کروا رہی تھی کہ اس وقت میرے والد کو اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مذکورہ لڑکی نے مطالبہ کیا کہ ویڈیو کی ریکارڈنگ اور میڈیا میں تشہیر کے علاوہ ان کے خاندان کو دھمکیاں دینے والے پولیس عہدیداروں کے خلاف کیس درج کیا جائے کیونکہ مجھے اور میرے افراد خاندان کو ہماری مرضی کے خلاف تقریباً ایک ماہ تک پولیس کی حراست میں رکھا گیا جس کے دوران گالی گلوج ، ہراساں و پریشان کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT