Saturday , October 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ملنا ساگر پراجکٹ پر ششی دھر ریڈی کا پاور پریزنٹیشن قابل ستائش

ملنا ساگر پراجکٹ پر ششی دھر ریڈی کا پاور پریزنٹیشن قابل ستائش

آبپاشی پراجکٹس پر چیف منسٹر کے سی آر کی ڈیکٹیر شپ ، صدر تلنگانہ پی سی سی اتم کمار ریڈی
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے سابق وزیر مسٹر ایم ششی دھر ریڈی کی جانب سے ملناساگر پر پیش کردہ پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کی ستائش کرتے ہوئے 23 جولائی کو کانگریس کی جانب سے آبپاشی پراجکٹس پر پاور پوائنٹ پریزنٹیشن پیش کرنے کا اعلان کیا ۔ آج گاندھی بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آبپاشی پراجکٹس کے معاملے میں چیف منسٹر کے سی آر ڈیکٹیر شپ کی طرح کام کرتے ہوئے من مانی کرہے ہیں ۔ پراجکٹس کی تعمیرات میں تکنیکی پہلووں کو نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ دن بہ دن پراجکٹس کی تعمیری قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ ری ڈیزائن کے نام پر پراجکٹس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کرتے ہوئے 1.8 لاکھ کروڑ روپئے کردیا گیا ہے ۔ چیف منسٹر نے اسمبلی میں آبپاشی پراجکٹس کے تعلق جو بھی اعداد و شمار پیش کئے ہیں وہ سب جھوٹے ہیں ۔ ملناساگر سے 2 ہزار فیٹ پانی لفٹ کر کے 250 کیلو میٹر تک پہونچانے کا فیصلہ غلط ہے ۔ ملنا ساگر کو بیالسنگ ذخیرہ آب کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر پلان سے اس کو نکال دیا گیا تو 25 ہزار کروڑ کی بچت ہوگی ۔ سابق ریاستی وزیر مسٹر ایم ششی دھر ریڈی نے کہا کہ چیوڑلہ پرانہیتا پراجکٹ کو ری ڈیزائن کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ نے کالیشورم لفٹ اریگیشن پراجکٹ تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ 160 ٹی ایم سی پانی ذخیرہ کرنے کے لیے بڑے بڑے ذخیرہ آب تعمیر کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ ماہر آبپاشی مسٹر ہنمنت راؤ نے لفٹ آریگیشن کے لیے اس طرح ذخیرہ آب تعمیر کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے ہریانہ میں موجود راجیو گاندھی ذخیرہ آب کا حوالہ دیا ہے ۔ جس کے ذریعہ وہاں 4 لاکھ ایکڑ اراضی کو چھوٹے چھوٹے کنال اور نہرو کے ذریعہ سیراب کیا جارہا ہے ۔ ہم نے ہریانہ پہونچکر اس کا معائنہ کیا اور اس سے مطمئن بھی ہوئے ہیں ۔ نہر اور باولی کی چوڑائی اور گہرائی بڑھاتے ہوئے پمپنگ کے ذریعہ اونچے مقامات کو پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے ملنا ساگر کی ضرورت نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر ماہرین کی رائے حاصل کیے بغیر ملنا ساگر اور دوسرے پراجکٹس کے لیے بڑے بڑے ذخیرہ آب تعمیر کرتے ہوئے وقت اور پیسہ دونوں برباد کررہے ہیں ۔ پینے کے پانی اور صنعتوں کے لیے استعمال ہونے والے پانی کو جمع کرنے کے لیے ذخیرہ آب کی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن ان ذخائرآب کے لیے حکومت بڑے پیمانے پر غریبوں اور کسانوں سے زبردستی اراضی حاصل کررہی ہے ۔ جس کی ہرگز ضرورت نہیں ہے ۔ ہم نے ملنا ساگر پہونچکر اس کا جائزہ لیا ہے ۔ مقامی عوام اس کے مخالف ہیں ۔ چیف منسٹر عوام کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔ مسٹر ایم ششی دھر ریڈی نے کہا کہ زیادہ رقم خرچ کرنے سے سنہرا تلنگانہ ریاست نہیں بنے گا بلکہ تلنگانہ کا مستقبل تاریک ہوجائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT