Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ملنا ساگر پراجکٹ کے خدوخال میں تبدیلی کے نام رقمی تغلب

ملنا ساگر پراجکٹ کے خدوخال میں تبدیلی کے نام رقمی تغلب

اندرا پارک پر کانگریس کا احتجاجی دھرنا، جئے پال ریڈی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔11ستمبر(سیاست نیوز) ضلع میدک کے گجویل میں حکومت تلنگانہ کے ملانا ساگر پراجکٹ کے خلاف مری چنا ریڈی ریسرچ سنٹر کے فورم برائے گوداوری پانی کے استعمال کی جانب سے اندرا پارک دھرنا چوک پر ایک احتجاجی دھرنا منظم کیاگیا ۔ جس میںتلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے اعلی قائدین ‘ سابق مرکزی او رریاستی وزراء کے علاوہ اراکین قانون ساز کونسل نے شرکت کی ۔ مذکورہ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر جئے پال ریڈی نے ضلع میدک میں حکومت تلنگانہ زیر التواء ملانا ساگر پراجکٹ کے تحت کسانوں اور غریب دیہاتیو ںکی اراضیات کو جبراً چھیننے کا بھی حکومت تلنگانہ پر الزام عائد کیا۔انہو ں نے کہاکہ کانگریس کے دور حکومت میںملانا ساگر پراجکٹ کا تین تھائی کام تکمیل کرلیا گیا تھا اور اب ایک تھائی کام مکمل کرنے کے لئے ہزاروں کروڑ حکومت تلنگانہ کی جانب سے خرچ کئے جارہے ہیں۔ جئے پال ریڈی نے ملانا ساگر پراجکٹ کے قد وخال میںتبدیلی کے نام پر مالی تغلب کارروائیوں کا بھی ٹی آر ایس حکومت پر الزام عائد کیا۔ جئے پال ریڈی نے کہاکہ پچاس ٹی ایم سی ذخیر ہ آب کی گجویل کو ضرورت نہیں ہے باوجود اسکے ملانا ساگر پراجکٹ کے اطراف واکناف کے کسانوں کی جبراً اراضیات چھننے کاکام کیاجارہا ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ حکومتوں پر عوام کی فلاح وبہبود اورترقی کے لئے کام کرنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے مگر ٹی آر ایس حکومت میںریاست کی عوام کے ساتھ دھوکہ اور زیادتیاں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملانا ساگر پراجکٹ کے تحت پچاس ٹی ایم سی پانی کا ذخیر ہ کرنے کا دعویٰ کیاجارہا ہے جو سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ رکن قانون ساز کونسل واپوزیشن لیڈر جناب محمد علی شبیر نے ملانا ساگر کے متعلق کانگریس پارٹی کے پائور پوائنٹ پریزنٹیشن کو صحیح قراردیتے ہوئے کہاکہ پچھتر فیصد کام کانگریس کے دور میںتکمیل کرلیا گیا تھا مگر ریاست تلنگانہ میںٹی آر ایس پارٹی کے اقتدار میںانے کے بعد ملانا ساگر پراجکٹ کو تبدیل کرتے ہوئے کروڑ ہار وپئے کا بجٹ مذکورہ پراجکٹ کی تعمیر کے نام پر مختص کیاگیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر حکومت تلنگانہ کے مجوزہ ملانا ساگر پراجکٹ کی ضلع میدک کی عوام کو ضرورت ہوتی تو حکومت تلنگانہ کو مذکورہ پراجکٹ کے اطراف واکناف میںایمرجنسی کی صورت حال پیدا کرنا نہیںپڑتا۔ انہوں نے مزیدکہاکہ پچھلے پچاس دنوں سے پراجکٹ کے اطراف واکناف میںدفعہ 144نافذ ہے اور پراجکٹ کی مخالفت کرنے والوں کو جیلوں میںبند کرنے کاکام کیاجارہا ہے۔جناب محمدعلی شبیر نے ملانا ساگر پراجکٹ پر حکومت تلنگانہ سے وائٹ پیپر جاری کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ سابق مرکزی وزیر سروی ستیہ نارائنہ‘ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی‘ سابق ریاستی وزراء سبیتا اندرا ریڈی‘ ڈی کے ارونا کے علاوہ مری ششی دھر ریڈی‘ پی گوردھن ریڈی‘ اور دیگر نے بھی اس احتجاجی دھرنے سے خطاب کیا۔ واضح رہے کہ 12ستمبر کو گجویل میںملانا ساگر پراجکٹ کے خلاف کانگریس پارٹی کا ایک احتجاجی دھرنا منظم کیاجانے والا ہے جس کی تائید وحمایت کا پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT