Friday , September 22 2017
Home / مضامین / ملک میںہندوستان چھوڑدو تحریک کا جذبہ پیدا کرنے مودی کی خواہش کیا بی جے پی خود تیار ہوگی

ملک میںہندوستان چھوڑدو تحریک کا جذبہ پیدا کرنے مودی کی خواہش کیا بی جے پی خود تیار ہوگی

 

سدھیندرا کلکرنی
اپنے حالیہ من کی بات پروگرام میںوزیر اعظم نریندرمودی نے ابنائے وطن سے اپیل کی تھی کہ جس طرح انہوںنے ہندوستان چھوڑ دو تحریک شروع کی تھی اسی جذبہ کے تحت وہ ذات پات ‘ فرقہ پرستی اور غربت کے خلاف بھی جدوجہد کرے۔ گذرتے وقتوںں کے ساتھ ماضی کے بڑے واقعات کی بھی اہمیت ختم ہونا فطری بات ہے ۔ ایسے واقعات جو ایک وقت میں بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں وہ آج کے تناظر میں اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔ ایک وقت میں سارے عوام میں مقبولیت رکھنے والے واقعات بعد میں صرف مورخین اور اسکالرس کی دلچسپی تک محدود ہوجاتے ہیں۔
ہندوستان ایک قدیم ملک ہے ۔ اسی طرح ہماری بہت زیادہ تاریخ ہے ۔ ہم ایک ایسی قوم ہے جو بدلتی رہتی ہے اور بڑی تیزی سے جدت پسند ہوجاتی ہے ۔ جب ایک قوم عصری بنتی ہے تو اس کی پرانی روایات ختم ہوتی جاتی ہیں اور ان کی یاد بھی بہت کم رہ جاتی ہے ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی بھی قوم اپنی تاریخ کے سنگ میل واقعات کو فراموش نہیں کرسکتی ۔ اگر تاریخ کو فراموش کردیا جائے تو کسی کی شناخت ہی ختم ہوجاتی ہے ۔ ماضی سے تعلق ختم ہوتے ہوئے مستقبل کے تعلق سے بے فکری پیدا ہوجاتی ہے ۔ موجودہ ہندوستان اسی کشیدگی سے گذر رہا ہے کہ فراموش کردیا جائے یا یاد رکھنے کی کوشش کی جائے ۔ جو چیزیں یاد رکھنے کی ہے انہے یاد رکھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کی موجودہ وقتوں میں اہمیت کو سجھا جائے ۔ جب ہم ماضی کے واقعات سے مناسب سبق حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو ہم کو ان کی یادداشتیںصرف رسمی طور پر منانی پڑتی ہیں۔ کیا یہی کچھ ہندوستان چھوڑدو تحریک کے ساتھ ہو رہا ہے ؟ ۔ اس تحریک کی 75 ویں سالانہ تقریب ہندوستان میں 9 اگسٹ کو منائی گئی ۔

تاریخی سنگ میل تحریک
8 اگسٹ 1942 کو گاندھی جی کی ایما پر یہ تحریک بمبئی میں شروع کی گئی تھی ۔ اس تحریک کا مطالبہ یہ تھا کہ برطانوی اقتدار ہندوستان میں ختم ہوجائے اور ہندوستان کی جدوجہد آزادی کو آگے بڑھایا جائے ۔ تحریک کے آگے بڑھانے میں ہزاروں لاکھو ں محبان وطن نے خود کو گرفتاری کیلئے پیش کردیا تھا ۔خود گاندھی جی کو اسی سال 9 اگسٹ کو پونے کے آغا خان پیالیس میں قید کردیا گیا تھا ۔ وہاں انہیں دو سال رکھا گیا ۔ انہوں نے کرو یا مرو کا جو نعرہ دیا تھا اس نے ساری قوم میں جوش و جذبہ بھر دیا تھا کہ بیرونی طاقتوں سے ملک کو کسی بھی قیمت پر آزاد کروایا جائے ۔ پانچ سال کے اندر برطانوی حکمرانوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا تھا اور ہندوستان حقیقی معنو میں 15 اگسٹ 1947 کو آزاد ہوگیا تھا ۔
ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں ہندوستان چھوڑ دو تحریک کی اہمیت بہت زیادہ رہی ہے ۔ اگر 1857 میں پہلی جنگ آزادی کا آغاز ہوا تھا تو 1942 میں یہ تحریک جدوجہد آزادی کی جنگ کا آخری بگل ثابت ہوئی ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستان چھوڑ دو تحریک کے 75 سال پر اس کی یاد صرف رسی طور پر ہی منائی گئی ۔ چاہے وہ حکومت ہو یا سماج ہو سب نے رسم ہی نبھائی ہے ۔ اس تحریک کو اس طرح سے یاد نہیں کیا گیا جس طرح سے یاد کیا جانا چاہئے تھا ۔ اس کی کچھ سیاسی وجوہات بھی ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ ںبی جے پی چاہے یہ ظاہر نہ کرے لیکن وہ ہندوستان چھوڑدو تحریک کو کانگریس کی وراثت سمجھتی ہے ۔ حقیقت یہی ہے کہ ہندوستان چھوڑدو قرار داد کل ہند کانگریس کمیٹی کے اجلاس ہی میں منظور کی گئی تھی جو 8 اگسٹ 1942 کو بمبئی کے گوالیا ٹینک میدان پر منعقد ہوئی تھی ۔ یہ میدان بعد میں اگسٹ کرانتی میدان قرار دیا گیا ۔
ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ اس مہم کے سلسلہ میں جتنے بھی کارکن اور قائدین گرفتار کئے گئے تھے ان میں تقریبا سبھی کانگریس کے رکن تھے ۔ ان میں آر ایس ایس کی کوئی مقبول شخصیت نہیں تھی ۔ اس وقت تک بھارتیہ جن سنگھ کا قام بھی عمل میں نہیںآیا تھا ۔ اس کے بعد بی جے پی کا قیام تو 1980 میں عمل میں آیا تھا ۔ ایسے میں سنگھ پریوار کا ہندوستان چھوڑ دو تحریک سے کوئی جذباتی تعلق نہیں ہے ۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ 1920 میں لوک مانیہ تلک کی موت کے بعد ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے اصل ہیرو گاندھی جی ہی بنے جو ہندوستان چھوڑ دو تحریک کے ہیرو تھے اور سنگھ پریوار کیلئے گاندھی جی ہیرو نہیں ہیں۔ یقینی طور پر ان میں بیشتر کیلئے وہ ویلن ہیں۔ بالکل بے بنیاد الزام کے طور پر سنگھ پریوار کے بیشتر لوگ گاندھی جی کو خوشامد کی سیاست اور ہندوستان کی تقسیم کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

سنگھ پریوار کے ہیرو ونائک دامودر ساورکر ہیں جو نظریاتی اور سیاسی طور پر گاندھی جی کے مخالف تھے ۔ سنگھ پریوار کے ہیرو ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوار ہیں ۔ ان کی کانگریس سے وابستگی معمول کی رہی ہے اور جدوجہد آزادی میں بھی ان رول معمولی رہا ہے ۔ سنگھ کے ہیرو گولوالکر ہیں جو جدوجہد آزادی کے علاوہ ہندوستان چھوڑ دو تحریک سے بھی دور رہے تھے ۔ انہوں نے 1940 میں آر ایس ایس کی قیادت سنبھالی تھی ۔ یہ بات بطور خاص یاد رکھنے کی ہے کہ ساورکر کی پارٹی ہندو مہاسبھا نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک کی سرگرمی سے مخالفت کی تھی ۔ ہند ومہا سبھا کے بنگال کے لیڈر شیاما پرساد مکرجی نے برطانوی سامراج کو یہ تیقن دیا تھا کہ بنگال میں ان کی شراکت والی مخلوط حکومت ہندوستان چھوڑ دو تحریک کو صوبہ بنگال میں شکست دینے ہر ممکن کوشش کریگی ۔ یہاں تک کہ بی جے پی کے نظریاتی گرو دین دیال اپادھیائے نے بھی ہندوستان کی جدوجہد آزادی میں کوئی بڑا رول ادا نہیں کیا ۔ ہندوستان کے سماجی سیاسی اور دانشورگوشوں کے دیگر تین حصہ داروں میں کانگریس ‘ کمیونسٹ اور امبیڈکر کو ماننے والے تھے ۔
کانگریس کی آج یہ حالت ہوگئی ہے کہ اس کے پاس ہندوستان چھوڑ دو تحریک کی یاد منانے کا نہ جذبہ ہے نہ طاقت ہے ۔ کمیونسٹو کیلئے ہندوستان چھوڑدو کا نعرہ لگانا تک الجھن کا باعث ہے کیونکہ اس وقت انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی ۔ جہاں تک امبیڈکر کو ماننے والوں کا تعلق ہے یہ لوگ بھی گاندھی جی کی پالیسیوں کو مسترد کرنے اور ڈاکٹر امبیڈکر کو اجاگر کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتے ۔ ڈاکٹر امبیڈکر نے بھی ہندوستان چھوڑ دو تحریک کی مخالفت کی تھی ۔
گاندھی جی سے بی جے پی کی دوری
اس تناظر میں یہ اچھی بات ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی گاندھی جی کا نام لیتے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے گاندھی جی کو سوچھ بھارت ابھیان کی علامت بنادیا ہے ۔ اپنے حالیہ من کی بات نشریہ میں مودی نے ایک بار پھر بابائے قوم کو خراج پیش کیا اور قوم سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان چھوڑ دو تحریک کا جذبہ پیدا کریںا ور ذات پات ‘ فرقہ پرستی ‘ کرپشن اور غربت کے خلاف جدوجہد شروع کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح 1942 سے 1947 کے پانچ سال جدوجہد آزادی میں فیصلہ کن ثابت ہوئے اگر اسی جذبہ کے تحت 207 سے 2022 تک کام کیا جائے تو ہندوستان کے مسائل حل ہونگے اور نئے ہندوستان کی تعمیر ہوگی ۔

فوری طور پر تو وزیر اعظم کی اپیل کی سب کو تائید کرنی چاہئے ۔ مودی نے ہندوستان چھوڑ دو تحریک کے معنوں کو موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لیکن مسئلہ یہیں ہے ۔ نہ صرف خود ان کی اپنی پارٹی تنظیمی اعتبار سے اور نہ سنگھ پریوار کا بڑا حصہ ان کی اس اپیل کو ماننے تیار ہے ۔ بی جے پی اور سنگھ پریوارآج فرقہ وارانہ ہم آہنگی ‘ یگانگت اور تعاون کو بہت کم اہمیت دیتے ہیں۔ یہ لوگ شائد ہی ہندو ۔ مسلم اتحاد کیلئے گاندھی کے خیال سے متفق ہیں۔
بی جے پی اور سنگھ پریوار آج کچھ کر رہے ہیں تو وہ صرف ہندو ووٹ بینک کو مستحکم کررہے ہیں اور 2019 کے انتخابات میں زیادہ پارلیمانی نشستوں پر کامیابی چاہتے ہیں۔ اگر کرپشن کے خلاف اس کی لڑائی ہے بھی تو وہ محدود ہے ۔ اس کے علاوہ گاندھی جی کے طریقہ اور سنگھ پریوار کے طرز عمل میں بھی کافی فرق ہے ۔ حالانکہ گاندھی جی برائے نام کانگریس کے ساتھ تھے لیکن انہوں نے ہمیشہ غیر کانگریسی جماعتوں سے اتحاد کو ترجیح دی ۔ وہ کمیونسٹوں ‘ آر ایس ایس کے علاوہ محمد علی جناح سے ڈاکٹر امبیڈکر تک سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے تھے ۔ اپنے مخالفین کی بھی اچھی باتوں کو سراہتے تھے اورتعاون کے راستے تلاش کرتے رہتے تھے ۔ یہ سارا کچھ ہندوستان چھوڑدو تحریک سے قبل ‘ اس کے دوران اور بعد میں بھی دیکھا گیا ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بی جے پی اور سنگھ پریوار آج جو پالیسی اختیار کررہے ہیں وہ اس سے میل نہیں کھاتی ۔ اس لئے اگر وزیر اعظم مودی حقیقی معنوں میں مانتے ہیں کہ آجں ہندوستانی عوام کو ہندوستان چھوڑدو تحریک کا جذبہ پیدا کرنے کی ضرورت ہے تو انہیں اس کیلئے پہلے اپنی پارٹی اور سنگھ پریوار کو تیار کرنا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT