Tuesday , October 24 2017
Home / مضامین / ملک میں آر ایس ایس کا راج

ملک میں آر ایس ایس کا راج

محمد ریاض احمد

مرکز میں نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی کے اقتدارمیںآنے کے ساتھ ہی ملک میں سنگین صورتحال پیدا ہوگئی۔ فرقہ پرستوں کے حوصلے اس قدر بلند ہوگئے ہیں کہ وہ مذہب کے نام پر اقلیتوں بالخصوص مسلمانوںاور عیسائیوں کو نشانہ بنارہے ہیں۔ ظلم و زیادتی اور ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے دانشوروں ،ادیبوں اور شعراء کی زبانیں بند کی جارہی ہیں۔ ملک کے سیکولر کردار کی برقراری کیلئے جدوجہد کرنے والوں پر حملے کئے جارہے ہیں۔ گاؤ رکھشک کے نام پر فرقہ پرستی کی آگ بھڑکانے والوںکو تحفظ فراہم کیاجارہا ہے۔ سرِعام اقلیتی خواتین کی عصمت ریزی کی جارہی ہے۔ تعلیمی اصلاحات کے نام پر تعلیمی شعبہ کو زعفرانی رنگ میں رنگا جارہاہے۔ مخالفت کی جرات کرنے والے طلبہ کو جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جارہا ہے۔ انہیں شدید زد وکوب کرکے ان کا اغوا کیاجارہا ہے۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو فی الوقت ہندوستان میں آر ایس ایس حکومت چلا رہی ہے اور ہندوستان جیسے عظیم الشان سیکولر ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے ایجنڈے پر تیزی سے عمل کیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار بایاں بازو سے تعلق رکھنے والی طلبہ تنظیم آل انڈیااسٹوڈنٹ فیڈریشن کے قومی صدر سید ولی اللہ قادری نے سیاست کو دیئے گئے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔
نومبر 2013 میں ریاست تلنگانہ کے اہم ترین ضلع ورنگل سے تعلق رکھنے والے نوجوان اسٹوڈنٹ لیڈر سید ولی اللہ قادری کو آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن کا صدر منتخب کیا گیا انہیں ملک کی سب سے قدیم طلبہ یونین کا دوسرا مسلم صدر ہونے کااعزازحاصل ہے۔ انٹرویو کے دوران اس بات کا اندازہ ہوا کہ سید ولی اللہ قادری میں طلبہ کے مسائل کے حل اور ان کی مدد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ مسلمانوں اور دلتوں پر کئے جارہے ہیں مظالم اور ان کے ساتھ روا رکھے جارہے ناروا سلوک اور ناانصافیوںپر و ہ تڑپ اٹھتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سید ولی اللہ قادری نے بتایا کہ انہوںنے گریجویشن تک اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی اور اب کاکتیہ یونیورسٹی سے کامرس میں پی ایچ ڈی کررہے ہیں۔ آل انڈیااسٹوڈنٹ فیڈریشن کی کئی تحریکوں میں جے این یو اسٹوڈنٹ یونین کے صدر کنہیا کمار ان کے ساتھ رہے۔ اس سوال پر کہ وہ کون سے چیلنجس ہے جن کا انہوں نے اے آئی ایس ایف کے صدر کی حیثیت سے کامیاب مقابلہ کیا؟ سید ولی اللہ قادری نے بتایا کہ جب انہوں نے AISFکی صدارت سنبھالی تھی اس وقت دہلی یونیورسٹی میں FYUP کے نام پر ڈگری کورس کی مدت چار سال کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اسکے خلاف AISFنے ان کی قیادت میں تحریک چلائی جس کے باعث ڈاکٹر منموہن سنگھ کی زیر قیادت یو پی اے حکومت کو اپنا فیصلہ واپس لیناپڑا۔ 2014 کے عام انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی نے ملک میں ایک عجیب صورتحال پیدا کردی۔ فرقہ پرستوں نے قوم پرستی کے نام پر لو جہاد ، گھر واپسی کے نعرے لگائے۔ ہندوستانی تہذیب کے فروغ کے بہانے اسکولوں میں بھگت گیتا پڑھانے اور سوریہ نمسکار کو لازم قرار دینے کا بیڑہ اٹھایا گیا لیکن آل انڈیا اسٹوڈنٹ فیڈریشن نے فرقہ پرستوں کے اس خطرناک کھیل کے خلاف تحریک چلائی اور تمام ہندوستانیوں کو بتایا کہ مٹھی بھر فرقہ پرست اقتدار کے نشہ میں گنگا جمنی تہذیب کے حامل جنت نشاں ہندوستان کو یرغمال بناکر اسے مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کی دوسری ذیلی تنظیموں خاص کر ABVPنے تعلیمی اداروں میں فرقہ پرستی اور اونچ نیچ کا زہر گھولنا شروع کیا۔ ایک خفیہ منصوبہ کے تحت حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی اسکالر روہت ویملا کو موت کی نیند سلادیا۔ روہت ویملا کا سب سے بڑا قصور ان کا دلت ہونا تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ABVPکی فرقہ پرستی اور ملک دشمنی کو بے نقاب کرنا شروع کردیا تھا۔ سید ولی اللہ قادری کے مطابق آل انڈیااسٹوڈنٹ فیڈریشن نے روہت ویملا کے مسئلہ کو قومی سطح پر لایا جس کے باعث ملک کے دلتوں میں یہ احساس جگانے لگا کہ بی جے پی اور اس کی طلبہ ونگ ABVP  صرف برہمنوںکی نمائندگی کرتے ہیں۔ دلت تو صرف ان کے سیاسی مفادات کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔  AISF کے احتجاجی مظاہروںکے باعث آر ایس ایس سے لیکر بی جے پی حکومت دہل کر رہ گئی۔ دلتوں میں اپنے حق کیلئے لڑنے کا جذبہ پیدا ہوتا دیکھکر اقتدار پرفائز صرف دو فیصد برہمنوں کی نیندیں اُڑ گئیں۔ نتیجہ میں وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوکر عجیب و غریب صفائی پیش کرنے لگے۔ بحیثیت صدر AISF اپنی کارکردگی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے سید ولی اللہ قادری نے جو ایک بیٹی کے باپ ہیں بتایا کہ یو جی سی میں نان نیٹ فیلو شپ بند کرنے کی کوشش کی گئی جس سے ملک کے 45ہزار اسکالرس کو نقصان ہورہا تھا۔ اس وقت بھی وزیر فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی اسکالرشپس بند کرنے کی تیاریاں کرچکی تھیں لیکن AISF نے سو دن تک یو جی سی کے کام کو روک دیا۔ اس طرح مذکورہ مسئلہ پر مودی حکومت کو AISFکے سامے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔
جے این یو میں AISF کے عروج سے متعلق استفسار پر سید ولی اللہ قادری کا کہنا تھا کہ 2015 میں کنہیا کمار کا جے این یو اسٹیٹ یونین کے صدر کی حیثیت سے انتخاب عمل میں آیا انہیں 1372 اور ان کے مخالف کو 1200 ووٹ حاصل ہوئے تھے۔ اس سے قبل ستمبر 2014 کے انتخابات میں بہار سے تعلق رکھنے والی راحیلہ پروین نامی طالبہ کو AISFنے اپنا امیدوار بناکر میدان میں اتارا تھا لیکن ان انتخابات میں اسے صرف 260 ووٹ سے شکست ہوئی تھی تبھی ہم نے اندازہ لگایا لیا تھا کہ جے این یو میں AISF کا صدر منتخب ہوسکتا ہے۔ اس طرح کنہیا کے انتخاب کے ساتھ ہی جے این یو کی تاریخ میںپہلی بار AISF کو کامیابی ملی۔ بائیں بازو کی اس کامیابی سے سنگھ پریوار میں غم اور مایوسی کی لہر دوڑ گئی۔ اس سوال پر کہ آیا بی جے پی حکومت کی قوم پرستی پر انہیں شک کیوں ہے ؟ سید ولی اللہ قادری نے جواب دیا کہ سمرتی ایرانی نے نئی تعلیمی پالیسی کے نام پر جو مسودہ تیار کروایا تھا اسے موجودہ وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر انڈین ازم (ہندوستانیت) کا لبادہ اوڑھا کر پیش کررہے ہیں۔ اس طرح بی جے پی سیکولر ہندوستان میں ہندوستانیت کے نام پر ہندو مذہب کو زبردستی تھوپنے کی کوشش کررہی ہے۔ حالانکہ ہندو ازم ہندوستان کا نہیں بلکہ باہر سے آیا ہوا ہے۔ اب تو مودی نے معاشی نظام کو بھی تباہی کے راستہ پر ڈال دیا ہے۔ ملک کے تعلیمی نظام اور اس کے گرتے معیارپر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سید ولی اللہ قادری کا کہنا تھا کہ ہمارے ملک کا تعلیمی نظام پرائیویٹ اور کارپوریٹ سیکٹر کے ہاتھ میں چلا گیا۔ اب جو کچھ بچا ہوا ہے وہ یونیورسٹی کی سطح تک ہی محدو د ہے۔ کیرالا اور تریپورہ کو چھوڑ کر تمام ریاستوںمیں تعلیمی نظام غیر سرکاری ہوگیا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کو بھی خانگیانہ کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مودی حکومت نے تعلیمی بجٹ میں 10ہزار کروڑ کی کٹوتی کردی ہے اور یہ سب کچھ ورلڈ بنک کی ایماء پر کیا جارہا ہے۔ ملک میں ایک لاکھ سے زائد سرکاری اسکول بند کردیئے گئے ہیں صرف راجستھان میں ہی جہاں بی جے پی اقتدار میں ہے 1800 سرکاری اسکولوں کو بند کردیا گیا۔  گجرات کی ایک ولی صفت شخصیت رحیم بابا ؒ کے حالات زندگی پر مشتمل سبق پانچویں جماعت کی درسی کتاب میں شامل کیاگیاتھا لیکن بی جے پی حکومت نے اس سبق کو نکال کر بابا آسا رام کی زندگی کا سبق شامل کردیا اور اس ڈھونگی بابا آسارام کا سبق ہمارے طلبہ پڑھ رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت نیو ایجوکیشن پالیسی پر عمل کرنے تیار ہیں ۔ ٹی ایس سبرامنیم کمیٹی نے اس سلسلہ میں مسودہ پیش کیا ہے جس میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ مدرسوں کو عصری بنایا جائے ۔ ان میں سنسکرت پڑھائی جائے۔
جے این یو کے اسکالر نجیب کے اچانک غائب ہونے سے متعلق معمہ کے بارے میں سوال پر سید ولی اللہ قادری نے دعوی کیا کہ نجیب کے اغوا میں ABVPکا ہاتھ ہے۔  حیرت کی بات یہ ہے کہ نجیب کو شدید زد وکوب کرنے سے دو دن پہلے ہی ایسے پوسٹرس چسپاں کئے گئے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ جو کوئی مودی کے خلاف بات کرے گا اس کا حال نجیب جیسا ہوگا۔ ABVP دراصل تعلیمی اداروںمیں دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ ان کی دہشت گردی مدراس آئی ٹی آئی سے شرو ع ہوئی ، ایف ٹی آئی میں فروغ پائی وہاں سے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی پھر جے این یو اور الہ آبادی یونیورسٹی پہنچ کر دوبارہ جے این یو واپس ہوئی۔ جس کا نتیجہ ایک ہونہار طالب علم نجیب کے لاپتہ ہونے کی شکل میں نکلا۔ حیرت تو اس بات کی ہے کہ دہشت گردانہ حملوں کے ساتھ ہی بے قصور مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے فخر کا اظہار کرنے والی پولیس 70 یوم بعد بھی نجیب کا پتہ نہیں چلا سکی۔
سید ولی اللہ قادری کے مطابق قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے حکومت کی ایماء پر یہ بہانہ بنائے ہوئے کہ ان کیخلاف 13 فوجداری مقدمات ہے۔ پاسپورٹ ضبط کرنے کی دھمکی دی ہے ۔ ایک اور سوال پر ولی کا کہنا تھا کہ اے آئی ایس ایف کا قیام 1936 ء میں عمل میں آیا جو طلبہ کی پہلی تنظیم ہے ۔ اس نے ملک کو تین وزرائے اعظم پنڈت جواہر لال نہرو، اٹل بہاری واجپائی اور آئی کے گجرال دیئے ہیں۔ نائب صدر حامد انصاری بھی اس سے وابستہ رہے ۔ اٹل بہاری واجپائی کو AISF نے انگریزوں کی مخبری کرنے پر معطل کر دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT