Sunday , July 23 2017
Home / مضامین / ملک میں انتقامی سیاست کا رجحان

ملک میں انتقامی سیاست کا رجحان

غضنفر علی خان

ہر جمہوریت میں اپوزیشن اور حکمراں پارٹی میں ہمیشہ سے چپقلش رہی ہے لیکن یہ صرف اُصولی اختلافات کی حد تک محدود رہتی ہے۔ خود ہماری جمہوریت میں بھی جہاں تقریباً 4 دہے کانگریس حکمران رہی یہی روایت قائم رہی۔ البتہ گذشتہ دو ڈھائی دہوں سے ساری جمہوری روایات دم توڑ رہی ہیں، اب اپوزیشن اور حکمران پارٹی ایک دوسرے کے صرف حریف اور دشمن سمجھے جارہے ہیں۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ صرف اس وقت برسر اقتداربی جے پی اور اس کی حلیف جماعتیں اپوزیشن پارٹیوں خاص طور پر کانگریس کے ساتھ معاندانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں کیونکہ کانگریس نے اپنے دورِ اقتدار میں اپوزیشن کے ساتھ یہی رویہ رکھا تھا۔ آج ملک کا حکمراں گروہ وہی کچھ کانگریس کو لوٹا رہا ہے جو کانگریس نے اس کو دیا تھا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ’’ کیا خوب سودا نقد ہے۔ اس ہاتھ لے اور اُس ہاتھ دے‘‘ فرق صرف یہ ہے کہ موجودہ مرکزی حکومت اپوزیشن پارٹیوں اور خاص کر کانگریس کو نشانہ بنارہی ہے یہ جمہوریت کے لئے کسی بھی صورت میں صحت مند روایت نہیں ہوسکتی کیونکہ اس جمہوری نظام میں اپوزیشن اور حکمراں پارٹیاں کارکرد اور کامیاب حکومت یا حکمرانی کیلئے لازمی ہے۔ اپوزیشن کو یہ سمجھنا چاہیئے کہ حکومت کی ہر پالیسی اور ہر فیصلہ غلط نہیں ہوتا، اور حکومت کو یہ معلوم ہونا چاہیئے کہ اس کی کسی پالیسی یا فیصلے پر اپوزیشن کی تنقید ضروری نہیں کہ غلط ہو، افہام و تفہیم کی جو روش تھی  وہ تقریباً ختم ہوچکی ہے۔ اب سیاست ’’مقصود بالذات ‘‘ ہوگئی ہے۔ شخصی اور نجی مفادات مقدم و مکرم ہوگئے ہیں۔ قومی اور اجتماعی مفادات کی کسی کو پرواہ نہیں رہی، اب تو سیاسی لیڈر صاف طور پر کہتے ہیں کہ ہم تو وہی کریںگے جو ہماری ذات اور بعد میں ہماری پارٹی کے ہت ( حق ) میں ہو ۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹیوں کو ملک و قوم کی کوئی فکر نہیں رہی وہ تو صرف اپنے مفادات کی تکمیل کی نئی نئی راہیں تلاش کرتی ہیں ۔ اس معاملہ میں کسی ایک سیاسی پارٹی کے ہی ملوث ہونے کی بات غلط ہے۔ انحطاط اور بے حد بے اصول سیاست نے اصول کو پراگندہ کردیا ہے۔ ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنا ،ایک دوسرے کی پگڑی سے کھلواڑ کرنا گویا معمول بن گیا ہے۔ سیاست دانوں میں اب ایسے شریف النفس لوگ عنقا ہوگئے ہیں جن کے اپنے اُصول ہوا کرتے تھے۔ اب تو کس کو کب اور کیسے نیچا دکھایا جاسکتا ہے اس کے لئے مقابلہ آرائی ہورہی ہے۔ انتقام کی آگ ہر طرف دہکی ہوئی ہے اور ہر پارٹی دوسرے گروہ کو کم تر سمجھتی ہے اور جب کبھی موقع ملتا ہے اس سے انتقام لینے کی کوشش کرتی ہے جیسا کہ آج کل ہورہا ہے۔ بی جے پی حکومت اپنے تحت کام کرنے والی سی بی آئی ( سنٹرل انٹلیجنس بیورو ) کو آلۂ کار بناکر اپنے مخالفین کے گھروں کی تلاشی لے رہی ہے اور ان کے خلاف مقدمات دائر کئے جارہے ہیں۔ یہ بھی نہیں دیکھا جارہا ہے کہ گڑھے مردے اُکھاڑنا کسی زندہ قوم کی عادت نہیں۔ سابق یو پی اے حکومت کے وزیر فینانس منسٹر پی چدمبرم اور ان کے صاحبزادے کی فرمس اور ان کی رہائش گاہوں پر دھاوے کئے گئے ۔ چدمبرم خود بھی ایک تجربہ کار وکیل ہیں، انہوں نے ان دھاوؤں سے متعلق کوئی رائے ظاہر نہیں کی نہ ان کے بیٹے نے کچھ کہا۔ بہار کے سابق چیف منسٹر اور آر جے ڈی کے سربراہ لالو پرساد یادو کے چار ہ گھوٹالے اور ان کے بیٹے کی جانب سے ہزاروں ایکڑ اراضی کو کوڑیوں کے مول خریدنے کا الزام لگایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر لالو پرساد کے صاحبزادہ نے یہ سودا کیا تھا تو ابھی تک کیوں خاموشی اختیار کی گئی اور اب اچانک لالو پرساد کے بیٹے کا یہ کارنامہ کیسے منظر عام پر آیا، کیوں اقتدار پر آنے کے 3 سال تک بی جے پی کی مودی سرکار خاموش رہی اور کیوں اب اچانک خوابِ خرگوش سے بیدار ہوگئی۔ آج بی جے پی یہ کہتی ہے کہ2024 تک مودی کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ اگر بی جے پی اور سارے سنگھ پریوار کو اس بات کا یقین ہے کہ مودی ناقابل تسخیر سیاسی لیڈر بن گئے ہیں تو پھر اپوزیشن لیڈروں کے خلاف کارروائیاں کیوں کی جارہی ہیں۔ دراصل بات یہ ہے کہ اپوزیشن اپنی پے درپہ شکستوں سے گھبراگئی ہے اور اس کو یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ مودی سے مقابلہ کرنے کی کسی ایک اپوزیشن پارٹی میں طاقت نہیں ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور بی جے پی حکومت کو اندیشہ ہوگیا ہے کہ اگر اپوزیشن جماعتوں کا کوئی محاذ تیار ہوجاتا ہے تو 2019 اور 2024 تک اقتدار پربرقرار رہنے کا خواب پورا نہیں ہوگا۔ اپوزیشن کو پریشان اور کمزور کرنے ان کے امکانی اتحاد کو اس کے قیام سے پہلے ہی ختم کردینے کیلئے اپوزیشن کو تنگ کیا جارہا ہے ۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اپوزیشن کے خلاف بی جے پی حکومت کی ان کوششوں کے نتیجہ میں اپوزیشن شاید عملی طور پر بھی متحد ہوجائے گی کیونکہ پوزیشن کو یہ اندازہ ہوتا جارہا ہے کہ حکومت بطور انتقام ایسی کارروائیاں کررہی ہے ۔ یہ بات ان کی سمجھ میں آرہی ہے کہ ہمارا اتحاد بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنے کے لئے بی جے پی حکومت کی یہ انتقامی سیاست عین ممکن ہے کہ خود اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہو لیکن آج کل اگر موجودہ حکومت میں کسی چیز کی کمی ہے تو وہ ’’ فکر صحیح ‘‘ کی کمی ہے۔ حکومت ابھی تک اپنی ترجیحات تک طئے نہیں کرسکی ، اس کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ کونسا کام ترجیحی بنیادوں پر کیا جائے۔ ملک کو درپیش مسائل کا صحیح فہم بھی بہت اہم ہوتا ہے اور اس نعمت عظمیٰ سے بی جے پی بالکل عاری اور خالی ہے ۔ اقتدار بے شک بی جے پی نے حاصل کرلیا ہے وہ ملک کی ایک طاقتور پارٹی بن گئی ہے، لیکن اقتدار کو برقرار رکھنے اور اپنی عوامی مقبولیت کو باقی رکھنے اور اس کو بڑھانے کی صلاحیت بی جے پی کے کسی لیڈر میں دکھائی نہیں دیتی۔ انتقامی سیاست ان نئی نسلوں میں جمہوری نظام کے لئے سخت نقصاندہ ہوگی بلکہ اس میں عقل و دانش کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور یہ صورتحال بڑی تیزی سے بی جے پی میں نمودار ہورہی ہے۔ ایسے غیر اہم مسائل کو جنہیں Non-Issues کہا جاسکتا ہے بی جے پی اپنے اقتدار کی توانائی ضائع کررہی ہے۔ اصل اور اہم مسائل جوں کے توں ہیں ان پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے۔ صرف سیاسی دشمنوں سے بدلہ لینے کا منفی جذبہ کارفرما ہے۔ مسائل کونہ تو ان کے صحیح پس منظر میںسمجھا جارہا ہے اور نہ ان کی یکسوئی کی طرف توجہ دی جارہی ہے۔ کب یہ صورتحال قابو سے باہر ہوجائے گی کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اپوزیشن کے فی الحال کچھ زیادہ داؤ پر لگا ہوا نہیںہے لیکن بی جے پی کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔بڑی مشکل سے پہلی مرتبہ اقتدار ملا ہے ، اپنی غلطیوں اور نادانیوں سے یہ موقع بی جے پی تیزی سے اپنے ہاتھوں سے کھورہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT