Tuesday , July 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک میں بدلتے منظر نامہ اور سیاسی جماعتوں کے رول پر آج مذاکرہ

ملک میں بدلتے منظر نامہ اور سیاسی جماعتوں کے رول پر آج مذاکرہ

قومی و علاقائی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں اور سینئیر صحافیوں کی شرکت
حیدرآباد۔14اپریل(سیاست نیوز) ’’ملک کے تبدیل ہورہے منظر نامہ اور علاقائی سیاسی جماعتوں کا رول‘‘کے عنوان سے کامن ویلتھ جرنلسٹس اسوسیشن کا ایک اہم مذاکرہ 11تا 1بجے دن بھاسکر آڈیٹوریم‘ بی ایم برلا سائنس سنٹر میں 15اپریل بروز ہفتہ منعقد ہوگا۔ کامن ویلتھ جرنلسٹس اسوسیشن کی جانب سے منعقد کئے جا رہے اس مذاکرہ کی نگرانی سابق ریسیڈنٹ ایڈیٹر و سینئر صحافی مسٹر کنگشک ناگ کریں گے جبکہ اس مذاکرہ میں مختلف سیاسی جماعتوں کے سرکردہ قائدین شرکت کریں گے۔ ملک کے تبدیل ہو رہے منظر نامہ میں علاقائی جماعتوں کے کردار کو حاصل ہو رہی اہمیت اور علاقائی جماعتوں کے درپیش خطرات کے علاوہ ملک کے سیاسی نظام میں علاقائی سیاسی جماعتوں و قومی سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد جیسے امور پر اس مذاکرہ کے دوران تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ جناب عامر علی خان نیوز ایڈیٹر روزنامہ سیاست و نائب صدر کامن ویلتھ جرنلسٹس اسوسیشن انڈین چیاپٹر نے بتایا کہ اس مذاکرہ کے انعقاد کا مقصد ہندستانی سیاست کے تبدیل ہو رہے منظر نامہ سے ہندستانی عوام بالخصوص نوجوانوں کو واقف کروانا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مذاکرہ میں مسٹر مہندر وید صدر کامن ویلتھ جرنلسٹس اسوسیشن‘ جئینت رائے چودھری اعزازی سکریٹری اسوسیشن کے علاوہ قومی و علاقائی سیاسی جماعتوں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ سی جے اے کی جانب سے منعقد کئے جانے والے اس مذاکرہ میں صدر پردیش کانگریس کیپٹن اتم کمار ریڈی‘ مسٹر اے ریونت ریڈی تلگو دیشم پارٹی‘ مسٹر کونڈا وشویشور ریڈی رکن پارلیمنٹ ٹی آر ایس ‘ مسٹر آر چندر شیکھر ریڈی تلگو دیشم‘ مسٹر ایم سرینواس ‘ جناب سید عزیز پاشاہ سی پی آئی کے علاوہ مسٹر کرشنا ساگر راؤ بی جے پی اورمسٹر جی کشن ریڈی بی جے پی شرکت کریں گے۔اس مذاکرہ کے دوران علاقائی سیاسی جماعتوں کی ملک کے سیاسی نظام میں اہمیت اور علاقائی سیاسی جماعتوں کے موقف کے علاوہ تہذیبی و ثقافتی اصولو ں کے علاوہ لسانی بنیادوں پر تشکیل دی گئی جماعتوں کے مستقبل پر غور کیا جائے گا اور اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ ملک کے جمہوری نظام کی بقاء میں علاقائی جماعتیں کس حد تک اپنا کردار ادا کر سکتی ہیں اور علاقائی جماعتوں کے قومی جماعتوں کے ساتھ اتحاد یابالواسطہ طور پر قومی جماعت کو فائدہ پہنچانے میں کیا رول ادا کرسکتی ہیں اس بات پر غور کیا جائے گا علاوہ ازیں مذاکرہ کے دوران ملک کے سیکولر جمہوری ڈھانچہ کو مستحکم بنانے کے لئے حکمت عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس مذاکرہ میں شرکت کیلئے داخلہ کی عام اجازت رہے گی۔مذاکرہ کے شرکاء کو ممنتظمین کی جانب سے مذاکرہ کے حالات اور موضوع کے مطابق سوالات کی اجازت دی جاسکتی ہے تاکہ عوام کے ذہنوں میں ابھرنے والے سوالات کے جوابات انہیں میسر آسکیں۔کامن ویلتھ جرنلسٹس اسوسیشن کے عہدیداروں نے بتایا کہ اس مذاکرہ سے اخذ کئے جانے والے نتائج ملک کی ترقی اور جمہوریت کے استحکام میں معاون ثابت ہو سکیں گے کیونکہ عوام کے بغیر جمہوریت نہیں ہوتی اور جمہوری نظام کا تحفظ عوام کی ہی ذمہ داری ہوتی ہے۔صحافت جمہوریت کا چوتھا ستون ہے اور اسی لئے کامن ویلتھ جرنلسٹس اسوسیشن کی جانب سے اس مذاکرہ کا اہتمام عمل میں لایا جارہا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT