Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک میں برہمن وادیوں کی اجارہ داری سے اقلیتیں و دیگر طبقات پسماندگی کا شکار

ملک میں برہمن وادیوں کی اجارہ داری سے اقلیتیں و دیگر طبقات پسماندگی کا شکار

سیکولرازم کو نقصان پہنچانے کی سازش، مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی کی پریس کانفرنس
حیدرآ باد۔5ستمبر(سیاست نیوز) مسلم پرسنل لاء بورڈ کی معلنہ دین بچائو دستور بچائومہم کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈمولاناخلیل الرحمن نعمانی نے کہاکہ قومی سطح پر برہمنیت کی بڑھتی اجارہ داریاں ملک کے اقلیتی اور پچھڑے طبقات کی زندگیوں سے کھلواڑ ثابت ہورہا ہے۔ آج یہاں شہر کے ایک خانگی ہاسپٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے مدھیہ پردیش ‘ مہارشٹرا کے بعد تلنگانہ اور آندھرا میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی معلنہ دین بچائو دستور بچائو تحریک کے باضابطہ آغاز کا اعلان کیا۔انہوں نے دین بچائو دستور بچائو مہم کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ قومی سطح پر انتظامیہ اور دیگر اداروں میں برہمنیت کی بڑھتی اجارہ داریوں کے متعلق مسلمانوں کے بشمول دیگر اقلیتی اور پسماندگی کاشکار دلت‘ پچھڑے اور قبائیلی طبقات کے اندر شعور بیداری مہم چلانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مرکزمیں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے اندرون ایک سال 137کرسچین اداروں کو منہدم کرنے کاکام کیا گیا۔ مولانا نے مزیدکہاکہ پچھلے ایک سال کے عرصے میں ایک مخصوص طبقے کو کھلی چھوٹ دیکر مسلمانوں کے بشمول دیگر اقلیتی طبقات کے اندر احساس کمتر ی کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے جو جمہوری ہندوستان کے لئے ایک سنگین خطرے سے کم نہیں۔مولانا خلیل الرحمن نعمانی نے کہا سکیولرازم کے ڈھانچے کو نقصان پہنچانے والی ہر سازش کے خلاف منظم تحریک چلاتے ہوئے قومی سطح پر پسماندگی کا شکار طبقات کو جوڑنے کے لئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جاری مہم کو ملک کے کونے کونے میںلے جانے کاکام کیا جائے گا۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مولانا خلیل الرحمن نعمانی نے مرکزی حکومت کے کام کاج اور اقدامات کے متعلق آر ایس ایس کو رپورٹ پیش کرنے کے واقعات کی شدت کے ساتھ مذمت کی۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک افسوس ناک اقدام ہے جس کی ہر گوشہ سے مذمت کی جارہی ہے باوجود اسکے مرکزی حکومت عوامی جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے آر ایس ایس کو حکومت کی کارکردگی کے متعلق رپورٹ پیش کرنے میں کسی بھی قسم کی شرمندگی محسوس نہیںکررہی ہے۔ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا نہ صرف مسلمان بالخصوص دیگر اقلیتی طبقات جس میںکرسچین‘ پارسی‘ سکھ‘ بدھسٹ‘ لنگایت گروپ کے علاوہ سماجی جہدکاروں سے بھی اس ضمن میں ملاقات کرتے ہوئے قومی سطح پر برہمنیت کی بڑھتی اجارہ داری جو ہندوستان کے سکیولراز م کے لئے سنگین خطرہ ثابت ہورہی ہے کے متعلق شعور بیداری مہم چلائی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ تلنگانہ اور آندھرا میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کو دین بچائو ‘ دستور بچائو مہم کا کنونیراور مولانا رحیم الدین انصاری کو جوائنٹ کنونیر مقرر کیا ہے جو مذکورہ دونوں ریاستوں میںہندوستان کے جمہوری نظام کے خلاف جاری سازشوں کے متعلق عوام میںشعور بیداری مہم چلائیں گے۔مولانا نے کہاکہ اپنے مذہب اور عقائد پر چلنا ہر ہندوستانی شہری کا مذہبی اور جمہوری حق ہے مگر چند گوشوں کی جانب سے مسلمانوں کے بشمول دیگر اقلیتی اور پسماندہ طبقات کیساتھ جبر کا معاملہ کیا جارہا ہے جس کو مسلم پرسنل لاء بورڈ ہر گز برداشت نہیں کریگا۔ اس ضمن میںانہوں نے ضرورت پڑنے پرسپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا بھی اعلان کیا تب تک انہوں نے جمہوری انداز میںعوام تک مسلم پرسنل لاء بورڈ کی معلنہ دین بچائو دستور بچائو تحریک کو پہنچانے کا اعلان کیا۔انہوں نے اسکولس میں وندے ماترم پڑھائے جانے اور نصاب کو زعفرانی رنگ دینے کی کوششوں کے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ اولیاء طلبہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہیکہ وہ ا س ضمن میںاسکول انتظامیہ سے فوری نمائندگی کرتے ہوئے وندے ماترم یا پھر زعفرانی تعلیمی نصاب کو بند کرنے کا دبائو ڈالیں اس کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا تو قانون حق معلومات کا سہارا لیکر اسکول انتظامیہ کو گھیرنے کی کوشش کریںاس کے بعد بھی اسکول انتظامیہ اس قسم کی اوچھی حرکتوں سے باز نہیں آئے تو محکمہ تعلیم اور ریاستی انتظامیہ سے اس کی تحریری شکایت کی جائے ۔ مولانا رحیم قریشی سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ‘ مولانا اکبر نظام الدین ‘مولانا ولی الرحمن‘مولانا خالد سیف اللہ رحمانی‘ مولانا جعفر پاشاہ ثانی‘ مولانا رحیم الدین انصاری بھی اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT