Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / ملک میں تحفظات نظام کو برقرار رکھنے کی ضرورت : بھاگوت

ملک میں تحفظات نظام کو برقرار رکھنے کی ضرورت : بھاگوت

سماج میں امتیازی سلوک اور فرسودہ روایات کا خاتمہ ضروری : آر ایس ایس سربراہ کا خطاب
ناگپور 17 ڈسمبر( سیاست ڈاٹ کام ) کوٹہ نظام پر نظر ثانی سے متعلق اپنے سابقہ بیان سے مکمل انحراف کرتے ہوئے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ تحفظات کو ملک میں اس وقت تک جاری رہنا چاہئے جب تک سماجی امتیاز برقرار رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس تحفظات نظام کی برخواستگی کے حق میں نہیں ہے ۔ بھاگوت نے یہاں ایک لیکچر کے دوران کہا کہ آر ایس ایس کا یہ مستحکم خیال ہے کہ تحفظات نظام کو ختم کرنے کاکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ جب تک ملک میں اور ہندوستانی سماج میں سماجی امتیاز کی لعنت رہے گی اس وقت تک تحفظات نظام کو برخواست نہیں کیا جاسکتا ۔ اتفاق کی بات یہ ہے کہ سابق میں بہار اسمبلی انتخابات سے عین قبل موہن بھاگوت نے تحفظات نظام پر از سر نو غور کرنے پر زور دیا تھا جس پر ایک تنازعہ پیدا ہوگیا تھا ۔ بعض گوشوں کا بیان ہے کہ بھاگوت کا بیان ہی بہار اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شکستکی ایک اہم وجہ ہے ۔ سماجی انجذاب کے مسئلہ پر موہن بھاگوت نے کہا کہ اس کا آغاز خود سے ہونا چاہئے اور اس کو اپنے افراد خاندان تک وسعت دی جانی چاہئے ۔ خاندان کے بعد سماج پر توجہ دی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ سماج میں کثرت کا احترام کرتے ہوئے کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ ہندو ازم کے جذبہ میں جو فلسفہ اور اقدار ہیں ان کا خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔ سماجی ہم آہنگی اور یکجہتی کے نظریہ پر تفصیل پیش کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ کسی بھی مذہب ‘ طبقہ ‘ سماجی مصلح یا سنت نے انسانوں کے مابین کسی امتیاز کی تائید نہیں کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر طبقہ کی بنیادوں میں مساوات شامل ہے جسے بعد میں ذات پات اور طبقات میں ہم نے ہی تقسیم کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ امتیاز بھی افراد کے سلوک اور طریقہ کار سے پیدا ہوا ہے ۔ بھاگوت نے تاہم کہا کہ یہ ضروری ہے کہ امتیاز کا خاتمہ کیا جائے اور جو روایات بیکار ہیں ان سے دوری اختیار کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ روایت کے نام پر اس امتیاز کو برقرار رہنے کا موقع نہیں دیاجانا چاہئے ۔ ہزاروں سال سے جو لوگ متاثر ہوئے ہیں ان کے جذبات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ سماج کے کچھ طبقات نے ایک طویل عرصہ سے امتیاز اور ناانصافی کو برداشت کیا ہے ۔ اب ہمیں ان کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور کچھ تحمل کی ضرورت ہے تاکہ ہم سماج میں درکار تبدیلیاں لائیں۔
جھارکھنڈ ‘ ضمنی انتخاب میں کانگریس کی جیت
لوہار ڈگہ17 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جھارکھنڈ میں ایک سال قدیم بی جے پی حکومت کو پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے امیدوار نیرو شانتی بھگت کو لوہارڈگہ اسمبلی حلقہ کے ضمنی انتخاب میں کانگریس امیدوار سکھدیو بھگت نے 23,228 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دیدی۔ کانگریس امیدوار کو جملہ 73,859 ووٹ حاصل ہوئے جبکہ نیرو شانتی بھگت کو جو این ڈی اے امیدوار تھے 50,571 ووٹ ملے ۔ سابق جھارکھنڈ وزیر بندھو ترکی کو تیسرا مقام حاصل ہوا ہے ۔ الیکشن کمیشن نے ایک اعلامیہ میں یہ بات بتائی ۔

TOPPOPULARRECENT