Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش

ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش

کوئی مسلمانوں کے نام تو کوئی ہندوؤں کے نام لے کر دلالی کررہا ہے
محمد نعیم وجاہت
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اکٹوبر ـ ۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ترقی کے نعرہ پر اقتدار حاصل کرنے والی بی جے پی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے منظم سازش کے تحت اقلیتوں پر حملے کررہی ہے اور سارے ملک میں نفرت کا زہر پھیلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سر پر ٹوپی اور بدن پر شیروانی زیب تن کرنے سے کوئی بھی مسلمانوں کا ہمدرد نہیں ہوجاتا، سیاسی مفادات کیلئے اویسی نے اتحادالمسلمین کو انتشار المسلمین میں تبدیل کردیا ہے۔ روز نامہ ’سیاست‘ کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ ہندوستان میں 100سے زیادہ ایسے پارلیمانی حلقے ہیں جہاں پر مسلمانوں کا موقف فیصلہ کن ہے، ان حلقوں پر مسلمان کامیابی حاصل نہیں کرسکتا لیکن کسی بھی سیاسی طاقت کو شکست دینے میں اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بات دہرا رہا ہوں کہ مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے کا نعرہ لگاتے ہوئے شہر کے ایک رکن پارلیمان ملک کے چپہ چپہ کا دورہ کرتے ہوئے سیکولر جماعتوں کی کامیابی کو ناکام بناتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس کا آلہ کار بن گئے ہیں۔ کانگریس پارٹی نے ہمیشہ فرقہ پرستی کی مخالفت کی ہے چاہے وہ کسی بھی طبقہ کی جانب سے ہو، آزادی کے بعد سے اس کے خلاف لڑائی لڑ رہی ہے۔ کانگریس پارٹی نے کبھی بھی سیکولرازم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اور نہ ہی فرقہ پرست طاقتوں سے ہاتھ ملایا ہے۔ چند مٹھی بھر عناصر اپنے ذاتی اور سیاسی اغراض و مقاصد کی تکمیل کیلئے ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوریاں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر یہ عناصر ہندوستان کے مزاج کو بھول رہے ہیں کیونکہ ملک کے 90فیصد عوام گنگا جمنی تہذیب کے حامی ہیں اور امن وامان پر یقین رکھتے ہیں اور انتشار، تشدد، عدم رواداری اور نفرت کو کبھی پروان چڑھنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے ملک کے عوام کو ڈیولپمنٹ کا نعرہ دیا اور بہت سارے خواب دکھائے جیسے 100دن میں کالا دھن واپس لانے اور ہر شہری کے بینک اکاؤنٹ میں 15لاکھ روپئے جمع کرتے ہوئے ’ اچھے دن ‘ لانے کا وعدہ کیا لیکن بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کو اقتدار میں آئے 16ماہ مکمل ہوچکے ہیں مگر عوام کیلئے اچھے دن نہیں آئے صرف ہندوتوا طاقتوں کیلئے اچھے دن آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی اپنی ان ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے سرکاری طور پر فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی سرپرستی کررہے ہیں۔ کبھی مسلمانوں کو پاکستان چلے جانے کی دھمکی دی جارہی ہے تو کبھی مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے، کبھی لوجہاد، کبھی گھر واپسی کے نام پر ہراساں و پریشاں کیا جارہا ہے

اور ان پر حملے کئے جارہے ہیں۔ مظفر نگر، دادری اور اس طرح کے دیگر واقعات اس کا ثبوت ہیں۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت کا ریموٹ کنٹرول آر ایس ایس کے ہاتھ میں ہے اور نریندر مودی وہی کررہے ہیں جو آر ایس ایس چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیف کا تنازعہ بناتے ہوئے اس کو مذہبی رنگ دیا جارہا ہے اور جب سے نریندر مودی وزیر اعظم بنے ہیں تب سے ملک میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ ملک کے عوام میں اتنی غلط فہمیاں پیدا کردی گئی ہیں کہ ہر کوئی اپنے اور اپنے مذہب و ذات کے بارے میں سوچ رہا ہے جس سے ملک میں خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ مسٹر ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ تمام سیکولر نظریات رکھنے والی جماعتیں متحد ہوکر فرقہ پرستی کا مقابلہ کریں اس ضمن میں کانگریس پیش پیش رہے گی۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اپنے آپ کو مسلمانوں کا چمپین ہونے کا دعویٰ کرنے والے صدر مجلس اسد الدین اویسی کو اس نفرت سے بھرے ماحول میں کانگریس فرقہ پرست اور بی جے پی سیکولر نظر آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس اور آر ایس ایس کے نظریات میں کوئی فرق نہیں ہے بلکہ دونوں ہی نفرت کے سوداگر ہیں، ہندوؤں اور مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہوئے اپنے اپنے ذاتی مفادات کی تکمیل کررہے ہیں، اس لئے میں نے صدر مجلس اسد الدین اویسی اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھگوت کے نصف چہروں والی تصویر کو سوشیل میڈیا پر پوسٹ کیا ہے۔ اسد الدین اویسی کی جانب سے انہیں قانونی نوٹس دینے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ابھی تک کوئی نوٹس وصول نہیں ہوئی ہے اور اگر نوٹس ملتی بھی ہے تو وہ اس کا جواب نہیں دیںگے کیونکہ انہیں مرکزی وزیر نتن گڈکری اور آر ایس ایس نے بھی نوٹس دی ہے لیکن انہوں نے ان نوٹسوں کا کوئی جواب نہیں دیا ہے بلکہ ان کے خلاف قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسد الدین اویسی بی جے پی کو فائدہ پہنچارہے ہیں جسے وہ ثابت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ماضی میں مجلس کی کانگریس کی جانب سے تائید کرنے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ مجلس کو سیاسی طور پر طاقتور بنانے میں کانگریس نے مکمل ساتھ دیا ہے اور اس کی وجہ یہ تھی کہ کانگریس مسلمانوں کو ملک کی ترقی میں حصہ دار بنانا چاہتی تھی۔

اس طرح مسلمانوں کے مفادات کیلئے کام کرنے والی رضاکارانہ تنظیموں اور جماعتوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے مجلس اور مسلم لیگ کی طرح کی پارٹیوں کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن مجلس احسان فراموش ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سارے ملک میں کانگریس اور دوسری سیکولر جماعتوں کو نقصان پہنچاتے ہوئے فرقہ پرست جماعتوں کیلئے سازگار ماحول تیار کرنے میں مجلس مددگار ثابت ہورہی ہے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ سیماآنچل کے علاوہ دوسری ریاستوں کی پسماندگی کا حوالہ دیتے ہوئے اسد الدین اویسی سے وہ استفسار کرتے ہیں کہ انہیں حیدرآباد کے پرانے شہر کی پسماندگی کیوں نظر نہیں آتی؟ کیا لمبے عرصہ سے پرانے شہر میں مجلس کا راج نہیں ہے؟ پھر کیا وجہ ہے کہ پرانا شہر پسماندگی کا شکار بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیماآنچل کی پسماندگی پر مگرمچھ کے آنسو بہانے والے اسد الدین اویسی حیدرآباد کے پرانے شہر کی پسماندگی پر اپنی نااہلی کو تسلیم کریں۔ کانگریس پارٹی بہت جلد پرانے شہر میں ایک بہت بڑا جلسہ عام منعقد کرے گی جس میں مجلس کی اصلیت پر سے پردہ اُٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی مذہبی منافرت پھیلانے والوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ کانگریس پارٹی کیلئے کامیابی اور شکست کوئی معنی نہیں رکھتی  بلکہ کانگریس پارٹی کو ملک کے عوام کے مفادات عزیز ہیں۔

TOPPOPULARRECENT