Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / ملک میں سکون و راحت ختم ، معیشت تباہ

ملک میں سکون و راحت ختم ، معیشت تباہ

نوٹ بندی کی ناکامی
ملک میں سکون و راحت ختم ، معیشت تباہ
وزیر اعظم سے معذرت خواہی اور گورنر آر بی آئی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ: کانگریس

حیدراباد /20 جنوری ( سیاست نیوز ) کانگریس کے سینئیر قائد سی ڈبلیو سی رکن انیل شاستری نے نوٹ بندی کی ناکامی پر عوام سے معذرت خواہی کرنے کا وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ۔ آر بی آئی گورنر کو مستعفی ہوجانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نوٹ بندی سے ایک لاکھ 28 کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے ۔ 70 یوم میں آر بی آئی نے 138 مرتبہ اپنے قواعد میں تبدیلی کی ہے ۔ نوٹ بندی کے خڈف آج کانگریس نے آر بی آئی کا گھیراؤ کیا ۔ کانگریس کارکن مودی ڈاؤن ڈاؤن مودی ہٹاو دیش بچاؤ کے نعرے لگا رہے تھے ۔ اے آئی سی سی کی ہدایت پر سابق وزیر ڈی ناگیندر کی قیادت میں رویندر بھارتی سے آر بی آئی تک احتجاجی ریالی منظم کرتے ہوئے آر بی آئی کا گھیراؤ کیا گیا پارٹی قیادت کی ہدایت پر کانگریس کے سینئیر قائد رکن کانگریس ورکنگ کمیٹی انیل شاستری نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے احتجاجی دھرنے میں حصہ لیا ۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی ورکنگ پریسیڈنٹ ملوبٹی وکرامارک قائدین اپوزیشن  کے جانا ریڈی ( اسمبلی ) محمد علی شبیر ( کونسل) سابق صدور تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی پنالہ لکشمیا وی ہنمنت راؤ سکریٹریز اے آئی سی سی چناریڈی ، آر سی کشٹیا سابق مرکزی وزیر سروے ستیہ نارائنا سابق رکن پارلیمنٹ انجن کمار یادو، محمد خواجہ فخرالدین صدر تلنگانہ کانگریس پارٹی اقلیتی سیل ، جنرل سکریٹریز تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی ایس کے افضل الدین، محمد مقصود احمد ، سید عظمت ، عظمی شاکر ، کانگریس کے قائدین ماجد پٹیل ، عتیق صدیقی سابق فلور لیڈر بلدیہ ایس محمد واجد حسین سابق سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی جاوید احمد صمد خان عبدالغنی سعادت حسین صدر تلنگانہ یوتھ کانگریس انیل کمار یادو ، صدر مہیلا کانگریس این شاردا ، سید یوسف ہاشمی ، سید فاروق پاشاہ قادری کے علاوہ دوسرے موجود تھے ۔ سینئیر قائد انیل شاستری نے کہا کہ وزیر اعظم کے ایک غلط فیصلے سے ملک کو بہت بڑا نقصان پہنچا ہے ۔ تمام شعبے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ نوٹ بندی کے 70 دن مکمل ہونے کے باوجود عوام کو راحت نہیں ملی اور نہ ہی سازگار ماحول بحال ہوا ہے ۔ 86 فیصد 500 اور 1000 روپئے کا چلن اچانک بند ہوجانے سے غریب اور متوسط طبقہ کسانوں ، چھوٹے کاروبار سے وابستہ افراد پریشان ہوئے ہیں ملک کی معیشت متاثر ہوئی ہے ۔ بے روزگاری میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ ان سب کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے وزیر اعظم ملک کے عوام سے معذرت خواہی کریں ۔ کیونکہ بڑے نوٹوں کے بند ہوجانے سے سارے ملک میں 120 سے زائد افراد کی موت واقع ہوئی ہے ۔ ان سب کیلئے نریندر مودی ذمہ دار ہیں ۔ کانگریس پارٹی راہول گاندھی کی قیادت میں نوٹ بندی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے عوامی مسائل کو منظر عام پر لارہی ہے ۔ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی نے کہا کہ نوٹ بندی کے بعد آر بی آئی پر سے عوام کا اعتماد ختم ہوگیاہے ۔ 70 دن میں آر بی آئی نے 138 مرتبہ اپنے قواعد میں تبدیلی کی ہے ۔ نوٹ بندی کے بعد ملک کے عوام کو نقد رقم کیلئے بنکوں کی لائینوں میں گھنٹوں انتظار کرنا پڑا ۔ ملک بھر میں 120 سے زائد افراد نے اپنی قیمتی زندگی گنوائی ہے ۔ جس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے گورنر آر بی آئی سے مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کیا ۔ نوٹ بندی سے ملک سنگین مسائل سے دوچار ہوا ہے ۔ ایک لاکھ 28 کروڑ روپئے کا سرکاری خزانے کو نقصان ہوا ہے ۔ زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے کہا کہ جن مقاصد کا بہانہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹ منسوخ کئے ہیں ۔ اس میں وہ پوری طرح ناکام ہوگئے ہیں ۔ ملک کے عوام مسائل سے دوچار ہیں اور وزیر اعظم کی خاموشی معنی خیز ہے ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ نوٹ بندی سے ملک میں غیر معلنہ معاشی بحران پیدا ہوا ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ مقاصد میں ناکامی کے بعد وزیر اعظم کیاش لیس سوسائٹی کے باتیں کرتے ہوئے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر عوامی مسائل پر وزیر اعظم کو جھنجھوڑنے کے بجائے ان کی تال پر ناچتے ہوئے پریشان حال عوام کا مذاق اڑا رہے ہیں اور ریاست تلنگانہ کو نقد رقم سے پاک لین دین کے معاملے میں سارے ملک میں سرفہرست بنانے میں جو رول ادا کر رہی ہیں وہ مسائل حل کرنے میں نہیں دکھا رہے ہیں جس سے ملک اور ریاست کے عوام نریندر مودی اور کے سی آر سے سخت ناراض ہے ۔

TOPPOPULARRECENT