Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / ملک میں غیرروادار شہریوں کی گنجائش نہیں

ملک میں غیرروادار شہریوں کی گنجائش نہیں

گرمہر کے احتجاج کا حوالہ ،یونیورسٹیوں کو کھلے مباحث کا مشورہ،صدرجمہوریہ ہند کا خطاب
کوچی ۔ /2 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اس ملک میں غیرروادار ہندوستانیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور طلباء کو چاہئیے کہ یونیورسٹیوں میں معقول تبادلہ خیال اور مباحث منعقد کئے جائیں ۔ بے چینی کے کلچر کی تشہیر نہ کی جائے ۔ صدرجمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے آج کہا کہ ہندوستان میں متعصب ہندوستانیوں کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہئیے ۔ وہ کے ایس راجہ مونی چھٹویں یادگار لکچر کے سلسلے میں کیرالا کے ضلع کوچی میں خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یونیورسٹیوں میں ہیں انہیں چاہئیے کہ معقول تبادلہ خیال اور مباحث کریں ۔ بے چینی کے کلچر کی تشہیر نہ کریں ۔ یہ دیکھنا ایک سانحہ ہے کہ یونیورسٹیاں تشدد اور شور شرابہ میں ملوث ہورہی ہیں ۔ حالانکہ مکرجی نے رامجس کالج کے تنازعہ کا حوالہ نہیں دیا لیکن ان کا تبصرہ بائیں بازو اور دائیں بازو کے گروپس کے درمیان تلخ بلکہ پرتشدد مباحث میں ملوث ہونے کی جانب تھا ۔ انہوں نے کہا کہ آزادیٔ تقریب قوم کی محبت کے خلاف ہے ۔ اس کے بارے میں کھلے مباحث ہونے چاہئیے ۔ صدرجمہوریہ نے کہا کہ آزادیٔ تقریب و اظہار کی دستور ہند میں ہر ہندوستانی کو طمانیت دی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جائز تنقید اور ناراضگی کی گنجائش ہونی چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ عہد قدیم سے ہندوستان آزاد خیالی ، آزادیٔ تقریب و اظہار کا گہوارہ رہا ہے ۔ ہمارے سماج کی خصوصیت متنوع مکاتب فکر کے بارے میں کھلے تبادلہ خیال یا مباحث ہیں ۔ آزادیٔ تقریب اظہار انتہائی اہم بنیادی حق ہے جس کی طمانیت دستور ہند میں دی گئی ہے ۔ وہ واضح طور پر دہلی یونیورسٹی کی طالبہ گرمت کور کی جانب سے آر ایس ایس کی حمایت یافتہ اکھل بھارتیہ ودیارتھی  پریشد (اے بی وی پی) کا حوالہ دے رہے تھے ۔ پرنب مکرجی نے کہا کہ خواتین اور بچوں کے ساتھ کس طرح سلوک کیا جاتا ہے یہ معاشرے کی تیزابی آزمائش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی سماج یا مملکت کو غیر مہذب ہونے کی صورت میں مہذب قرار نہیں دے سکتا ۔ اگر خواتین کے ساتھ غیرمہذب سلوک کیا جاتا ہو ، جب ایک عورت پر بے رحمی روا رکھی جاتی ہو تو اس سے ہمارے تمدن اور تہذیب کی روح زخمی ہوتی ہے ۔ معاشرے کی تیزابی جانچ خواتین اور بچوں کے ساتھ سماج کا رویہ ہے ۔ انہوں نے ہندوستانی سیاستدانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ انہیں عوام کی تائید کو یقینی نہیں سمجھنا چاہئیے ۔ سیاسی کارکنوں کو عوام کی آواز سنی چاہئیے ۔ ان کے ساتھ ربط قائم کرنا چاہئیے ۔ ان سے سیکھنا چاہئیے ۔ اور ان کی ضروریات کی تکمیل اور ان کے اندیشوں کا ازالہ کرنا چاہئیے ۔ ہمارے قانون سازوں کو عوام کی تائید ہمیشہ ان کے لئے برقرار رہنے کا یقین نہیں کرنا چاہئیے ۔ انہیں قانون سازی کی بنیادی مہم پر توجہ مرکوز کرنی چاہئیے اور عوام کے لئے فکر مندی کے مسائل اٹھانے چاہئیے ۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے تاہم حب الوطنی کی خوبی کو مسترد نہیں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ہم قومی مقصد اور حب الوطنی کے جذبہ کا احیاء کرنے کیلئے اجتماعی کوشش کریں ۔ قومی مقصد اور حب الوطنی ہی ہمارے ملک کو اوپر اٹھاسکتی ہے اور مستقل ترقی و خوشحالی کی راہ پر ڈال سکتی ہے ۔ ملک اور اس کے عوام کو ہمیشہ اولین ترجیح دی جانی چاہئیے ۔

TOPPOPULARRECENT