Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / ملک میں لاقانونیت، صدرجمہوریہ سے مداخلت کی اپیل، پٹیالہ ہاؤز کورٹ تشدد ملک کے وقار پر ’’داغ‘‘

ملک میں لاقانونیت، صدرجمہوریہ سے مداخلت کی اپیل، پٹیالہ ہاؤز کورٹ تشدد ملک کے وقار پر ’’داغ‘‘

نئی دہلی ۔ 18 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) جواہر لال نہرو یونیورسٹی تنازعہ اور پٹیالہ ہاؤز کورٹ تشدد پر احتجاج کرتے ہوئے راہول گاندھی نے آج ان واقعات کو ہندوستان کے وقار پر ’’داغ‘‘ قرار دیا اور صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے پرزور اپیل کی کہ وہ ملک میں بڑھتی لاقانونیت کا پتہ چلا کر فوری مداخلت کریں اور جمہوری حقوق کو سلب کرنے والی طاقتوں کے خلاف سخت ترین نوٹ لیں۔ انہوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تعلیمی اداروں کو تبہ کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔ تمام طلباء کے اظہارخیال کی آزادی کو سلب کرنا بھی حکومت کو اختیار حاصل نہیں ہے۔ پورے ملک میں آر ایس ایس ملک کے طلباء پر اپنے نظریہ کو مسلط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔          )

صدرجمہوریہ سے ملاقات کیلئے پہنچنے والے کانگریس قائدین کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر نے بی جے پی پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ پارٹی نے مجھ پر ’’قوم دشمنی‘‘ کا الزام عائد کیا ہے جبکہ میرے رگ رگ میں قوم پرستی پائی جاتی ہے۔ اس قوم کیلئے میرے خاندان نے کئی قربانیاں دی ہیں اور قربانیاں کئی بار دی جاچکی ہیں۔ اس وقت ملک شدید بحران سے دوچار ہے۔ لاقانونیت کا ننگا ناچ دیکھا گیا ہے اور یہ کوشش ملک کے جمہوری اقدار اور اصولوں کو تہہ و بالا کرنے کی حرکت ہے۔ صدرجمہوریہ سے ملاقات کرتے ہوئے کانگریس وفد نے انہیں ایک یادداشت بھی پیش کی۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد کے علاوہ کانگریس کے وفد میں پارٹی لیڈر لوک سبھا ملکارجن کھرگے، ڈپٹی لیڈر راجیہ سبھا آنند شرما کے علاوہ پارٹی کے سینئر قائدین شیلاڈکشٹ، رندیپ سورج والا، اجئے میکن اور منیش تیواری بھی شامل ہیں۔ اس وفد نے صدرجمہوریہ سے کہا کہ پٹیالہ ہاؤز عدالت کے باہر مناسب سیکوریٹی فراہم کرنے کو یقینی بنانے سپریم کورٹ کے احکام کے باوجود حکومت صحافیوں اور طلباء پر حملوں کو روکنے میں ’’ناکام رہی‘‘ ہے۔ سپریم کورٹ نے صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ایک پیانل تشکیل دیا تھا۔ اس پیانل کے ارکان کو بھی زدوکوبی، گالی گلوچ کا سامنا کرنا پڑا۔ دو مواقع پر سپریم کورٹ کے احکام و ہدایات کی سراسر خلاف ورزی کرتے ہوئے لاقانونیت پیدا کردی۔ احتجاج کرنے والوںکا زیادہ سے زیادہ تعلق حکمران پارٹی سے ہے اور ان لوگوں کو حکومت کی سرپرستی ملے بغیر ایسا کام کریں گے یہ کہنا مشکل ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی واقعہ پر اظہارتشویش کرتے ہوئے کانگریس قائدین صدرجمہوریہ سے فوری مداخلت کی خواہش کی۔

TOPPOPULARRECENT