Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / ملک میں مسلمانوں کی آبادی 17.22 کروڑ

ملک میں مسلمانوں کی آبادی 17.22 کروڑ

جملہ آبادی کا14.2 فیصد،ایک دہے میں 24.6 اور ہندوؤں کی آبادی میں 16.8 شرح فیصد اضافہ، مردم شماری رپورٹ

نئی دہلی ۔ 25 ۔ اگست (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی میں ایک دہے 2001 ء اور 2011 ء کے دوران 24.6 فیصد  شرح اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ 17.22 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہندوؤں کی آبادی  16.8 فیصد شرح اضافہ کے ساتھ ان کی آبادی اسی مدت کے دوران 96.63 کروڑ ہوگئی ہے۔ 2001 ء تا 2011 ء دہے میں آبادی میں اضافہ کی شرح 17.7 فیصد رہی۔ مختلف مذہبی طبقات کی آبادی میں اضافہ اس طرح رہا۔ ہندوؤں کی تعداد 96.63 کروڑ (79.8 فیصد) ہے، مسلمان 17.22 کروڑ (14.2 فیصد) ، عیسائی 2.78 کروڑ (2.3 فیصد) ، سکھ 2.08 کروڑ (1.7 فیصد) ، بدھسٹ 0.84 کروڑ (0.7 فیصد) ، جین 0.45 کروڑ (0.4 فیصد) ہیں۔ دیگر مذاہب والوں کی تعداد 0.79 کروڑ (0.7 فیصد) اور کوئی مذہب کے پیرو نہ ہونے والوں کی تعداد 0.29 کروڑ (0.2 فیصد) ہے۔ 2001-2011 ء کی مدت کے دوران جملہ آبادی میں اضافہ کی شرح 17.7 فیصد رہی۔

اسی مدت کے دوران مختلف مذہبی برادریوں کی آبادی میں اضافہ کی شرح ہندوؤں کے معاملہ 16.8 فیصد ، مسلمانوں کے لئے 24.6 فیصد، عیسائیوں کے لئے 15.5 فیصد، سکھوں کے لئے 8.4 فیصد، بدھسٹوں کے لئے 6.1 فیصد اور جین برادری کے لئے 5.4 فیصد رہی۔ ملک میں مذہبی طبقات کی آبادی کی اساس پر جاری کردہ مردم شماری ڈیٹا میں یہ تفصیلات پیش کی گئی ہے۔ اگرچیکہ مذہبی بنیاد پر مردم شماری کا کام مکمل ہونے کے چار سال بعد اسے جاری کیا گیا لیکن ذات پات کی بنیاد پر اعداد و شمار اب تک منظر عام پر نہیں لائے گئے۔ رجسٹرار جنرل اینڈ سینسیس کمشنر نے یہ ڈیٹا جاری کیا جس کے مطابق 2011 ء میں ملک کی جملہ آبادی 121.09 کروڑ تھی۔ جملہ آبادی کو 6 بڑے طبقات ہندو، مسلم ، عیسائی، سکھ ، بدھسٹ کے علاوہ ’’دیگر مذاہب‘‘ اور ’’کسی بھی مذہب کو تسلیم نہ کرنے والے‘‘ میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مردم شماری اعداد و شمار کے مطابق جملہ آبادی میں مسلم آبادی کا تناسب 0.8 فیصد پوائنٹ بڑھا ہے جبکہ ہندو آبادی میں 0.7 فیصد پوائنٹ کی کمی آئی۔ سکھوں کے تناسب میں 2001-2011 ء کی مدت کے دوران 0.2 فیصدی پوائنٹ اور بدھسٹوں کے معاملہ میں 0.1 فیصدی پوائنٹ کی کمی آئی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہندوؤں کا تناسب 80 فیصد کے نشان سے نیچے آیا ہے۔ قبل ازیں حکومت مذہب کی اساس پر آبادی کی ترکیب کا مواد جاری کیا کرتی تھی۔

اس عمل کو 2011 ء میں ترک کردیا گیا تھا کیوں کہ 2001 ء کی مردم شماری کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا۔ اُس وقت مسلم آبادی میں تیزی سے اضافہ کو بنیادی طور پر جموں و کشمیر کی آبادی کی شمولیت کے سبب سمجھا جاتا تھا۔ 1991 ء کی مردم شماری میں عسکریت پسندی کی شکار اس سرحدی ریاست کا احاطہ نہیں کیا گیا تھا۔ آج 2011 ء کے ڈیٹا میں جنس اور سکونت کے اعتبار سے بھی اعداد و شمار جاری کئے گئے۔ ملک کی موجودہ جملہ آبادی 121.09 کروڑ ہے۔2001 ء مردم شماری کے مطابق ہندوستان کی جملہ آبادی 102 کرو ڑ تھی جن میں ہندوؤں کی آبادی 82.75 کرو ڑ (80.45 فیصد) ، اور مسلمانوں کی آبادی 13.8 کروڑ (13.4 فیصد) تھی۔ جنتا دل (یو) ، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے ذات پات پر مبنی مردم شماری ڈیٹا جاری کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ سماجی و معاشی موقف پر مبنی آبادی کا مردم شماری ڈیٹا 3 جولائی کو جاری کیا جاچکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT