Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک میں نیکی اور بدی کا مقابلہ ، سنگھ پریوار کی خود ساختہ قوم پرستی

ملک میں نیکی اور بدی کا مقابلہ ، سنگھ پریوار کی خود ساختہ قوم پرستی

جناوگنا ناویدیکا کی گوری لنکیش کے قتل پر گول میز کانفرنس،دانشوروں ، ماہرین تعلیم اور سماجی جہدکاروں کا خطاب
حیدرآباد ۔ 13 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے جب اپنی قوم کو سچائی کی دعوت دی تو انہیں ستایا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ محرم کا جو واقعہ ( یوم عاشورہ ) پیش آیا وہ بھی حق اور سچائی کی آواز دبانے کی کوشش تھی ۔ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھی سچائی کی آواز بلند کرنے پر ناروا سلوک اختیار کیا گیا ۔ گوتم بدھ بھی سچائی کے باعث ستائے گئے لیکن جیت ہمیشہ سچائی اور نیکی کی ہوئی ہے ۔ ان خیالات کا جسٹس چندر کمار نے سندریہ وگیان کیندرم باغ لنگم پلی میں ممتاز صحافی و سماجی جہدکار گوری لنکیش کے بنگلورو میں بہیمانہ قتل کی مذمت کے لیے منعقدہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ قتل کس نے کیا اور کیوں کیا یہ حکومتوں ، سرکاری مشنری اور پولیس سب کو پتہ ہے لیکن قاتلوں کو ابھی تک گرفتار نہیں کیا گیا ۔ جسٹس چندر کمار نے مزید کہا کہ ہماری حکومت کا حال ایسا ہی ہے جیسے کوئی نیم کے بیچ بوتا ہے اور اس تخم ریزی کے بعد جب پودا درخت کی شکل اختیار کرجاتا ہے تو اس سے کہا جاتا ہے کہ اے درخت ہمیں آم دے ۔ ایسے ہی حکومتوں اور پولیس تمام حقائق سے واقف ہے اس کے باوجود گوری لنکیش سے لے کر نریندر دابھولکر ، پنسارا ، ماہر تعلیم و اسکالر ایم ایم کلبرگی کے حقیقی قاتلوں کو آج تک گرفتار نہیں کیا گیا ۔ کانفرنس میں محترمہ سجاتا راؤ ، محترمہ چندنا ، محترمہ صغرا بیگم ، پروفیسر آدی نارائن ، سی چکرورتی ، رمیش اور دانشوروں ماہرین تعلیم اور صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ کانفرنس کا اہتمام جناوگنانا ویدیکا تلنگانہ نے کیا تھا ۔ چندنا میڈم ، صغرا بیگم اور مسز سجاتا نے اپنے خطاب میں پر زور انداز میں فرقہ پرستوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں فاشزم کو تیزی سے فروغ حاصل ہورہا ہے ۔ مذہب کے نام پر لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے ۔ کسانوں اور دلتوں و قبائلوں کو مارا جارہا ہے ۔ حکومت اور سنگھ پریوار پر تنقید کرنے والوں کو غدار قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ملک سے بغاوت کے مقدمہ دائر کئے جارہے ہیں ۔ تعلیمی نظام کو فرقہ پرستی کا رنگ دیا جارہا ہے ۔ ملک کی تاریخ مسخ کی جارہی ہے ۔ حکومت کے خلاف قلم اٹھانے والے صحافیوں ، ادیبوں و شعراء کے سینوں میں گولیاں اتاری جارہی ہیں اور ملک میں تباہی و بربادی کا کھیل جھوٹی قوم پرستی کے نام پر کیا جارہا ہے ۔ گول میز کانفرنس میں نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں کو بطور خاص مدعو کیا گیا تھا تاہم مصروفیات کے باعث ان کی نمائندگی سب ایڈیٹر سیاست محمد ریاض احمد نے کی ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ گوری شنکر کے قاتلوں کو فوری کیفرکردار تک پہنچایا جانا چاہئے ۔ ملک میں بی جے پی کی حکومت میں خاص طور پر اقلیتوں ( مسلمانوں ) اور دلتوں کو فرقہ پرست نشانہ بنا رہے ہیں ۔ فرقہ پرست مسلمانوں پر اثر انداز ہونے کی ناپاک کوشش کررہے ہیں ۔ گائے کے تحفظ کے نام پر مسلمانوں کے قتل کئے جارہے ہیں جب کہ ہندوتوا غنڈوں کو کھلی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔ محمد ریاض احمد نے مزید کہا کہ ہندوتوا دہشت گردوں نے گوری لنکیش کو اس لیے قتل کیا کیوں کہ انہوں نے روہنگیائی مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف آواز اٹھائی اور ٹیپو جینتی منانے کی تائید کی تھی جب کہ سنگھ پریوار کو قاتلوں کا ٹولہ قرار دیا تھا اور سب سے بڑھ کر انسانیت کی بات کی تھی ۔ آج ملک میں جو کچھ ہورہا ہے وہ دراصل حکومت کی ناکامیابیوں پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے ۔ مودی حکومت میں مہنگائی بڑھ گئی ہے ۔ خواتین و طالبات کی عصمتیں محفوظ نہیں ہیں ، بیروزگاری میں اضافہ ہوا ہے ۔ بلیک منی واپس نہیں لائی گئی صرف اچھے دن کے دعوے کئے گئے جب کہ ملک ایک برے دور سے گذر رہا ہے اور جب گوری لنکیش جیسے جرات مند صحافی حکومت کو آئینہ دکھاتے ہیں تو انہیں قتل کردیا جاتاہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT