Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کیلئے خفیہ سازش

ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کیلئے خفیہ سازش

طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج پر مرکزی حکومت کی مخالفت، جناب قاسم رسول الیاس کا ردعمل
حیدرآباد۔/8اکٹوبر، ( سیاست نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج کی مخالفت میں مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامہ کو ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کی خفیہ سازش کا حصہ قراردیا۔ بورڈ کے رکن عاملہ جناب قاسم رسول الیاس نے مرکز کے حلف نامہ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حلف نامہ توقع کے عین مطابق ہے اور اس میں بورڈ کو کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کا خفیہ منصوبہ تیار کیا ہے اور وہ دستور اور قانون کی پرواہ کئے بغیر اپنے منصوبہ کو عدالت کے ذریعہ روبہ عمل لانا چاہتی ہے۔ قاسم رسول الیاس نے کہا کہ نام نہاد افراد اور تنظیموں کے ذریعہ مسلم پرسنل لا اور شریعت اسلامی پر انگشت نمائی کی جارہی ہے تاکہ انہیں شریعت اسلامی میں مداخلت کا موقع ملے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 29 صفحات پر مشتمل جو حلف نامہ داخل کیا اس میں مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے داخل کئے گئے 68 صفحات پر مشتمل حلف نامہ میں شامل ایک بھی نکتہ کا جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا قرآن اور حدیث پر مبنی قانون ہے اور یہ کسی ملک یا حکومت کا تیار کردہ قانون نہیں لہذا اس میں کوئی مداخلت کا حکومت یا عدالت کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دستور ہند میں تمام مذاہب کو جو اختیارات دیئے گئے ہیں حکومت ان کے برخلاف کام کرنا چاہتی ہے۔ مسلمانوں میں عدم مساوات اور خواتین سے ناانصافی کا الزام عائد کرتے ہوئے شریعت کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ قاسم رسول الیاس نے کہا کہ طلاق اور کثرت ازدواج کے معاملات مسلمانوں سے زیادہ غیر اقوام میں پائے جاتے ہیں اور اسلام نے خواتین کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اقوام میں اگرچہ کثرت ازدواج کی اجازت نہیں اس کے باوجود ان کی شرح مسلمانوں سے زیادہ ہے۔ اسی طرح طلاق کے معاملہ میں دیگر مذاہب مسلمانوں سے آگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی مسلم پرسنل لا میں مداخلت کو روکنے کیلئے مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں، اپنے عائیلی مسائل عدالتوں سے رجوع کرنے کے بجائے دارالقضأ سے رجوع کریں اور جن علاقوں میں دارالقضأت نہیں ہیں وہاں علماء کی رہنمائی سے قیام عمل میں لایا جائے۔ قاسم رسول الیاس نے کہا کہ مسلمانوں کے چاروں مسالک میں طلاق ثلاثہ پر یکساں موقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ فقہاء نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ اگر کسی کی نیت صرف ایک طلاق دینے کی ہے اور اس نے تکرار کیلئے ایک سے زائد مرتبہ اس لفظ کو دہرایا تو ایک ہی طلاق واقع ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اسلامی تعلیمات سے واقف نہیں اور اس نے تین مرتبہ لفظ کا استعمال کیا تو اسے ایک ہی مانا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک مجلس میں تین طلاق کے مسئلہ پر مسلمانوں کے بعض گروہ میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے لیکن تین نشستوں میں علحدہ علحدہ تین طلاق کے مسئلہ پر تمام متفق ہیں۔ اسلام طلاق کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور اس مسئلہ کو غیر ضروری طور پر ہوا دیتے ہوئے یکساں سیول کوڈ کی طرف ملک کو لے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اور ملک کی کئی ہائی کورٹس کے فیصلے موجود ہیں جن میں عدالتوں نے مسلم پرسنل لا میں مداخلت سے گریز کیا۔ ان تمام فیصلوں کی نظیر مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے حلف نامہ میں دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قانون میں ترمیم کا اختیار عدالت کے دائرہ کار میں نہیں بلکہ یہ قانون سازوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے موقف کو سپریم کورٹ میں کامیابی حاصل ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT