Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / ملک میں یکساں معاشرتی نظام کے قیام کی کوشش نہ کی جائے

ملک میں یکساں معاشرتی نظام کے قیام کی کوشش نہ کی جائے

ہندوستان کی تیز رفتار معاشی ترقی سال دو سال کی کوشش کا نتیجہ نہیں ‘ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کا خطاب

گاندھی نگر 23 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے کہا کہ ہندوستان کو اپنے تکثیری و کثیر ثقافتی معاشری نظام کا جشن منانا چاہئے اور اسے ایک ہی تہذیب پر مبنی واحد طبی معاشرہ میں تبدیل کرنے کی مصنوعی کوششیں نہیں ہونی چاہئیں۔ یہ واضح کرتے ہوئے کہ ہندوستان کی معیشت بہت تیز رفتار سے ترقی کر رہی ہے پرنب مکرجی نے کہا کہ یہ کوئی حادثہ یا ایک یا دو سال کی کامیابی نہیں ہے ۔ صدر جمہوریہ نے سینئر کانگریس لیڈر شنکر سنہہ واگھیلا کی جانب سے چلائے جانے والے کالج میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم 1.25 بلین لوگ ہیں۔ ہمارے ملک میں روز مرہ کی زندگی میں 200 زبانیں استعمال کی جاتی ہیں۔ ہمارے ملک میں سات مذاہب ہیں اور تین بڑے نسلی گروپس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب ہماری ثقافتی فراخدلی کا نتیجہ ہے یہ سب کچھ ہمارے جذبہ کا نتیجہ ہے اور ہمیں اپنے تکثیری نظام کا جشن منانا چاہئے ۔ ہمیں اس تکثیریت کو ختم کرنے اور یکسانیت والے معاشرہ کی تشکیل کی مصنوعی کوششیں نہیں کرنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی ہمارے قدیم سنتوں ‘ فلسفیوں اور قائدین کی تعلیمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستور ہند کے معماروں سے کئی سوال کئے گئے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ یہ ایک غریب ‘ ناخواندہ ‘ بیماریوں والا ملک ہے اور یہاں کس طرح سے عصری پارلیمانی دستوری میکانزم قائم کیا جاسکتا ہے ۔

تاہم دو عام انتخابات کے کامیاب انعقاد کے بعد انہیں افراد نے کہا تھا کہ دستور ہند انتہائی اہمیت کا حامل ‘ بہترین ہے اور اس کے ذریعہ سماجی و معاشی تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان سماجی و معاشی تبدیلی کی راہ پر دستور کی وجہ سے گامزن ہوسکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور یہ کوئی اتفاق یا حادثہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ ایک دو سال کی کاوش کا نتیجہ ہے ۔ یہ ایک بے تکان اور مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشرہ میں نوجوانوں کو روزگار حاصل کرنے کی صلاحیتوں کا فراہم کرنا بہت اہمیت کا حامل ہے ورنہ اس کے منفی اثرات ہوسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT