Sunday , April 30 2017
Home / Top Stories / ملک میں 10 ویں دن بھی معاشی بحران جیسی صورتحال برقرار

ملک میں 10 ویں دن بھی معاشی بحران جیسی صورتحال برقرار

بینکوں اور اے ٹی ایمس پر عوام کی طویل قطاریں ، چھوٹے بڑے کاروبار متاثر ، مزدور و محنت کش بے روزگار
نئی دہلی ۔ /18 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک کے تقریباً تمام بینکوں اور اے ٹی ایمس پر ہنوز افراتفری کے مناظر دیکھے جارہے ہیں جہاں لاکھوں افراد اپنی روزمرہ کی ضروریات کے مصارف سے نمٹنے جائز کرنسی نوٹوں کے حصول کے لئے کئی گھنٹوں تک طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہیں جبکہ حکومت نے منسوخ شدہ نوٹوں کی تبدیلی کی حد کو گزشتہ روز گھٹادیا ۔ علاوہ ازیں کھاتوں سے رقومات نکالنے پر عائد چند پابندیوں میں رعایت دی گئی ہے ۔ نوٹوں کی منسوخی کے بعد 10 دن گزرچکے ہیں لیکن تمام بینکوں کی شاخیں اور اے ٹی ایمس بھاری ہجوم سے نمٹنے کیلئے ہنوزجدوجہد میں مصروف ہیں ۔ اس دوران کئی اے ٹی ایمس یا تو ناکارہ ہوگئے ہیں یاپھر ان میں نقد رقم ختم ہوگئی ہے جس سے عوام کی مصبیتیں دوبالا ہوگئی ہیں ۔ محض 2500 کی معمولی رقم نکالنے کیلئے ایک سے دو گھنٹے تک قطاروں میں ٹھہرنا پڑرہا ہے ۔ قبل ازیں اے ٹی ایمس سے 4500 روپئے نکالنے کی اجازت تھی لیکن حکومت نے گزشتہ روز اس کو گھٹاکر 2500 روپئے کردیا تھا ۔

بینک ذمہ داروں نے کہا ہے کہ تمام اے ٹی ایمس کو نئے نظام سے ہم آہنگ کرتے ہوئے انہیں 500 اور  2000 روپئے کے جدید کرنسی نوٹوں کی اجرائی کے قابل بنانے کیلئے مزید 10 تا 15 دن درکا ہوں گے ۔ اقتدار کے گڑھ پارلیمنٹ ہاؤز ، وزارت فینانس اور دیگر وزارتوں کے اے ٹی ایمس پر بھی رقومات نکانے کے خواہشمند افراد کی طویل قطاروں سے اس مسئلہ پر ملک کی اصل صورتحال کی حقیقی جھلک دیکھی جارہی ہے ۔ اس کے برخلاف وزیر فینانس ارون جیٹلی نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ بینک برانچ پرعوام کے ہجوم میں قابل لحاظ کمی دیکھی گئی ہے اور اب پریشانی یا سنسنی کی قطعی ضرورت نہیں ہے ۔ ایک ایسے وقت میں ریزرو بینک آف انڈیا ( آر بی آئی) اور حکومت نقد رقم کی دستیابی کو آسان بنانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ جس کے باوجود سبزی فروشوں ، دھابوں ، چھوٹی ہوٹلوں ، کرانہ کی دوکانات جیسے چھوٹے کاروبار میں افراد بدترین متاثر ہوئے ہیں جو نقدی کے ذریعہ ہی اپنا کاروبار کرتے ہیں ۔ عوام کو دؤدھ ، ترکاریوں ، ادویات اور روزمرہ کی ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء کی خریدی میں سخت دشواریاں پیش آرہی ہیں ۔
ملک کے مختلف دواخانوں میں مریضوں اور ان کے ارکان خاندان کو ٹرانسپورٹ، ادویات ، اور غذا کے حصول میں تکالیف پیش آرہی ہیں ۔ریتی ، سمنٹ اور دیگر تعمیراتی ساز و سامان کی سربراہی ٹھپ ہوجانے کے سبب روزمرہ کی آمدنی پر گزارہ کرنے والے تعمیراتی مزدور عملاً بیروزگار ہوگئے ۔ ہزاروں لاری ڈرائیورس شاہراہوں پر پھنس گئے ہیں ۔ کیونکہ ان کے پاس کرنسی ختم ہوچکی ہے ۔ لاریوں کی آمد و رفت متاثر ہونے کے سبب ملک کے مختلف حصوں میں ضروری اشیاء کی سربراہی پر بھی اثر پڑا ہے ۔ شادی بیاہ کے ضمن میں عوام کو دشواریوں سے بچانے کیلئے حکومت نے شادیوں کے لئے ہر خاندان کو 2.5 لاکھ روپئے بینکوں سے نکالنے کی اجازت دی تھی ۔ کسانوں کو 50,000 روپئے نکالنے کی سہولت دی گئی ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی نے /8 نومبر کو ان نوٹوں کی منسوخی کا اچانک اعلان کرتے ہوئے سارے ملک کو حیرت میں ڈال دیا تھا جس کے بعد سے بینکوں ، ڈاک خانوں اور اے ٹی ایمس پر عوام کی طویل قطاروں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے جو ممنوعہ نوٹوں کی تبدیلی یا پھر روزمرہ کے گزر بسر کے لئے کھاتوں سے رقومات نکالنے کے خواہاں ہیں ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT