Wednesday , April 26 2017
Home / Top Stories / ملک میں 83 فیصد آبادی اسمارٹ فون سے محروم

ملک میں 83 فیصد آبادی اسمارٹ فون سے محروم

انگریزی زبان سے ناواقفیت بھی اہم مسئلہ، انٹر نیٹ کی عدم سہولت
کیش لیس لین دین

حیدرآباد۔21ڈسمبر(سیاست نیوز) ملک میں کرنسی کے بغیر لین دین کے فروغ کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ ہندستان کی 83فیصد آبادی ابھی تک اسمارٹ فون سے محروم ہے ۔ الکٹرانک اور کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کے فروغ کی کوششیں کس حد تک کامیاب ہو ں گی یہ کہا جانا مشکل ہے کیونکہ ہندستانی شہریوں کو نہ صرف اسمارٹ فون بلکہ انگریزی کا بھی مسئلہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک کے شہری علاقوں میںاسمارٹ فون کے استعمال کا کلچر زیادہ ہے جبکہ دیہی آبادی میں ابھی تک اسمارٹ فون کے چلن میں کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے۔ ناسکام انڈیا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے بموجب ملک بھر میں2015تک بھی صرف 330ملین انٹرنیٹ کے استعمال کرنے والے تھے۔ 2020تک ملک کی 56فیصد آبادی انٹرنیٹ کی سہولت سے لیس ہونے کے امکان ظاہر کئے جا رہے ہیں۔ موجودہ آبادی کا 56فیصد حصہ اگر انٹرنیٹ کی سہولت 2020تک استعمال کرنے کا متحمل ہو پائے گا تو کیا صورتحال ہوگی اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ٹیلیکام ریگولیٹری اتھاریٹی آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2016تک انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد 342ملین ریکارڈ کی گئی ہے اور 912ملین آبادی اب تک بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔موجودہ اسمارٹ فون کی تعداد نقد کے بغیر لین دین کے فروغ کیلئے کافی نہیں ہے اس کے باوجود حکومت کی جانب سے اخبار و ٹیلی ویژن کے علاوہ ڈیجی شالہ کے ذریعہ نقد رقم کے بغیر لین دین کے فروغ کیلئے شعور بیداری مہم چلائی جارہی ہے۔ ہندستان میں استعمال کی جانے والی انٹرنیٹ کی رفتار بھی ڈیجیٹل ادائیگی میں مسئلہ بننے کا خدشہ ہے۔ عالمی سطح پر جو انٹرنیٹ کی رفتار استعمال کی جاتی ہے اس کے مقابلہ میں ہندستانی انٹرنیٹ کی رفتار کافی کم ہے۔ ہندستان میں جتنے لوگ انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں ان میں صرف 15فیصدموبائیل صارفین ایسے ہیں جو براڈ بینڈ رفتار کی انٹرنیٹ سہولت سے استفادہ کرتے ہیں جبکہ مابقی انٹرنیٹ صارفین عام موبائیل انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جس کی رفتار بہت کم ہوا کرتی ہے۔

 

پے ٹی ایم ۔ فائدہ میں ،چھوٹے تاجرین کو خسارہ
عصری سہولیات حاصل کرنے سے بھی قاصر ، عوام کو مشکلات

حیدرآباد۔21ڈسمبر (سیاست نیوز) حکومت نے الکٹرانک ادائیگی کے فروغ کا جو اعلان کیا ہے اس کے ذریعہ

PAYTMجیسی ای۔والیٹ کمپنیوں کے کاروبار میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ 8نومبر کو کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے فوری بعد ملک کی 86فیصد کرنسی جو 1000اور 500کے کرنسی نوٹوں میں تھی منسوخ کردی گئی لیکن اس تنسیخ کے عمل کے دوران حکومتکی جانب سے الکٹرانک اور کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کے رجحان کو فروغ دینے کے فیصلہ سے جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس کے بڑی کمپنیوں کو فوائد حاصل ہو رہے ہیں لیکن چھوٹے تاجرین بالخصوص کرانہ شاپس ابھی اس عصری سہولت کو اختیار کرنے سے قاصر ہیں جس کے سبب انہیں کاروباری نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ PAYTMکے ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک میں کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے بعد PAYTMکے ذریعہ ادائیگی میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور 50فیصد استعمال کنندگان کا تعلق ملک کے چھوٹے شہروں اور مواضعات سے تعلق رکھنے والے ہیں جنہوں نے الکٹرانک ادائیگی کے طریقہ کار کو اختیار کرنا شروع کردیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ملک کے کئی شہروں میںصارفین اور گاہک PAYTM اورای ۔والیٹ کے متعلق دریافت کرنے لگے ہیں اور تاجرین کی بڑی تعداد اس طرز ادائیگی کو قبول کرنے پر مجبور ہوتی جا رہی ہے۔ بگ باسکٹ نامی آن لائن کرانہ و ترکاری کی سربراہی کرنے والی کمپنی نے کرنسی تنسیخ کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے متعلق بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلہ کے بعد کاروبار میں50فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کمپنی کے سی ای او کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنی کو جو صارفین ملے ہیں وہ شہری علاقوں کے ہی ہیں کیونکہ فی الحال کمپنی دیہی علاقوں میں اپنا وجود نہیں رکھتی۔ ہندستان دیہی علاقوں میں رہتا ہے یہ بات عام ہے اور آج بھی ملک کی بڑی آبادی دیہی علاقوں کی رہنے والی ہے اس لئے انہیں فوری اثر کے ساتھ نقدی کے بغیر لین دین اور تجارت کی سمت لایا جانا دشوار ہے لیکن جو حالات پیدا ہو رہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے لوگ الکٹرانک اور کارڈ کے ذریعہ ادائیگی کے طریقہ کار کو اختیار کرنے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔
جس کے مثبت اثرات کی حکومت توقع کررہی ہے جبکہ تجارتی برادری ان حالات سے مختلف خدشات کا شکار ہوتی جا رہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT