Sunday , September 24 2017
Home / فیچر نیوز / ملک کو زعفرانی تباہی سے بچانا وقت کی اہم ترین ضرورت کنہیا کمار سے بات چیت

ملک کو زعفرانی تباہی سے بچانا وقت کی اہم ترین ضرورت کنہیا کمار سے بات چیت

محمد مبشرالدین خرم
ہندوستانی عوام مشترکہ اقل ترین اتحاد کیلئے منصوبہ سازی کریں تاکہ ملک کے دستور  و ائین کے ساتھ اس ملک کو بچانے میں اپنا کر دار ادا کرسکیں۔ جب تک ہندوستانی شہری اقل ترین اتحاد کی بات نہیں کریں گے ، اس وقت تک اس سرزمین کو زعفرانی  سازشوں سے بچایا نہیں جاسکتا۔ جب کبھی کسی نظام کے خلاف لڑائی کا آغاز ہوتا ہے تو اس کی ابتداء تحریک کی شکل میں ہوتی ہے اور نظام کی تبدیلی تحریک کا خاتمہ نہیںہوتی بلکہ نظریاتی تبدیلیوں تک تحریکیں زندہ رہتی ہیں۔ ملک کے دستوری ڈھانچہ کو مضبوط بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ملک میں سماجی انصاف کو یقینی بنایا جائے اور ایسی طاقت تیار کی جائے جو حکومت کو بہتر حکمرانی کیلئے مجبور کرسکے۔ حکمراں طبقہ عوام کی خواہشات  کے مطابق خدمات انجام دے نہ کہ حکمراں طبقہ کی مرضی عوام پر مسلط کی جائے ۔ عوام میں وہ طاقت ہوتی ہے جو حکمراں طبقہ کو سر تسلیم خم کرنے پرمجبور کرتی ہے ۔ سوال کرنے کا حق ہر ہندوستانی کو حاصل ہیاور ہر ہندوستانی کو چاہئے کہ وہ سوال کرتے ہوئے اپنے حق کا استعمال کرے۔ ہندوستانی عوام اس غلط فہمی سے باہر آئیںکہ ان کیلئے سوال صرف سیاستداں کرسکتے ہیں ۔ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی طلبہ یونین صدر کنہیا کمار نیاپنے دورۂ حیدرآباد کے دوران روزنامہ سیاست کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا ۔ کنہیا کمار نے بتایا کہ جب تک ملک کو بچانے کیلئے اقل ترین اتحاد نہیں ہوتا ، اس وقت تک ملک کی سالمیت خطرہ میں رہے گی۔ ہندوستان جس دور سے گزر رہا ہے ، اس میں یہ ضروری ہے کہ ہندوستان میں موجود 55 کروڑ نوجوان اپنے مسائل کی بنیاد پر متحد ہوں اور ان مسائل کے حل کیلئے دباؤ ڈالیں۔ہندوستانی نوجوانوں کے جو مسائل ہیں وہ صرف ان کے اپنے مسائل نہیں ہیں بلکہ یہ مسائل اس دیش کے مسائل ہیں، جنہیں حل کرنا اس ملک کے رہنے والوں کی ذمہ داری ہے۔ کنہیا نے بتایا کہ تعلیم ، ملازمت ، گرانی ، وظائف ، بنیادی سہولتیں اور ملک کی حفاظت جیسے امور پر اگر اتحاد کیا جائے تو یقیناً جو طاقتیں ملک کے نظریات کو بکھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں شکست دی جاسکتی ہے، جب تک آر ایس ایس کے نظریات کی مخالفت کے ذریعہ مضبوط اپوزیشن تیار کرتے ہوئے آزادی کی روح کو برقرار رکھنے کی کوشش نہیں کی جاتی ، اس وقت تک ملک کی ترقی اور نوجوانوں کی بہبود کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔

تحریک آزادی کے دوران مجاہدین نے جو نظریہ تیار کیا تھا، اس نظریہ کی اس وقت بھی مخالفت کرنے والے آج آزادی کے 68 برس بعد اس نظریہ کو کمزور کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جبکہ تحریک آزادی کے دوران ان ہی لوگوں نے آزادی کے نظریہ کی مخالفت کی تھی اور غلامی کا طوق پہنے ہوئے رہے۔ کنہیا کمار نے بتایا کہ آر ایس ایس کے نظریات ملک میں بے چینی پیدا کرنے کا سبب ہیں، اسی لئے ان نظریات کی مخالفت اور ملک میں امن و امان کی برقراری کیلئے یہ ضروری ہے کہ ملک کی سب سے بڑی طاقت جو اس وقت نوجوان ہیں وہ متحد ہوتے ہوئے ملک کو بچانے ذمہ داری اپنے کندھوں پر لیں اور سیاست دانوں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے مذہب اور ذات پات کی بنیاد پر کی جانے والی تقسیم سے بالاتر ہوجائیں۔ طلبہ قائد نے مرکزی حکومت پر عائد کردہ الزامات کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت جرمن کے حالات سے سبق سیکھ کر ہندوستان کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جرمنی میں جب حالات تبدیل ہوئے اور جرمنی تباہی کے داہنے پر پہنچا ، اس تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جرمنی کی تباہی سے قبل تباہ کرنے والوں میں جو منصوبہ تیار کیا تھا ، اس کے مطابق انہوں نے سب سے پہلے منظم شعبوں کو نشانہ بناتے ہوئے انتشار کی کیفیت پیدا کی تھی۔ ہندوستان میں آج کوئی شعبہ منظم نہیں ہے کیونکہ تمام شعبۂ حیات میں یونین کا تصور بتدریج ختم ہوتا جارہا ہے اور صرف واحد شعبہ تعلیم ایسا منظم شعبہ ہے جہاں نوجوانوں کی طاقت یونیورسٹیز کے ذریعہ اپنے اتحاد کو باقی رکھے ہوئے ہیں۔ مگر موجودہ حکومت نوجوانوں کی اس طاقت کو توڑنے اور ان کے اتحاد میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔

سیاستدانوں پر تکیہ کرتے ہوئے اپنے مسائل کے حل کی توقع کرنا فضول ہے چونکہ ہم جب تک اپنے لئے خود آواز نہیں اٹھائیں گے ، اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ کنہیا کمار نے بتایا کہ ماحول کچھ اس طرح تیار کیا گیا ہے کہ اگر کوئی سوال کرتا ہے تو اس سے پوچھا جانے لگتا ہے کہ کیا تم سیاستداں ہو؟ جواب اگر نہ میں ملے تو یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا سیاستداں بننا چاہتے ہو؟ اس صورتحال میں نظریات کو تبدیل کرنے اور نوجوانوں میں جرات پیدا کرنے کی ضرورت ہے ۔ نوجوانوں کو اس بات کا احساس دلانا ضروری ہے کہ وہ کسی سے بھی سوال کرسکتے ہیں اور حکمراں طبقہ بالخصوص ملازمین ہندوستانی عوام کو جوابدہ ہیں۔ جب نوجوان نسل اس طرح تیار ہوگی تو یقیناً مقتدر طبقہ ہر طرح کی انقلابی تبدیلی کو قبول کرنے کیلئے تیار رہے گا۔ حکومت کی جانب سے کی جانے والی  نصاب میں تبدیلی کی کوششوں پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں کنہیا نے بتایا کہ جب خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو اس طرح کی باتیں کی جانے لگتی ہیں۔ اگر سوال کرنا شروع کیا جائے تو کوئی ایک مخصوص نظریہ ہندوستان پر حکومت نہیں کرسکتا بلکہ ہندوستان پر حکومت کرنے کیلئے ہندوستانی کا نظریہ اختیار کرنا حاکم کی مجبوری ہوجاتی ہے ۔ کنہیا کمار نے بتایا کہ نصاب میں تبدیلی کی کوشش کسی ایک ریاست میں کامیاب ہوتی ہے تو اسے ملک پر مسلط نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ہندوستان ایک ایسا گہوارہ ہے جہاں مختلف تہذیب و تمدن کے علاوہ زبانوں کے ماننے والے لوگ رہتے ہیں  لیکن انہیں صرف ایک ہی چیز متحد کئے ہوئے ہیں اور وہ اس ملک کا دستور ہے۔ دستور کی بقاء ملک کی بقاء کے مماثل ہے، اسی لئے ہم ان سب حرکات سے آزادی چاہتے ہیں جو دستور کی دھجیاں اڑا رہی ہیں ۔ آر ایس ایس کے نظر یہ کے مخالفت ہی دراصل ہندوستانی نظریہ ہے جو ملک کی حفاظت اور دستور پر یقین رکھتا ہے۔ آر ایس ایس کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ گاندھی کی سرزمین پر گوڈسے کے مندر کو تعمیر ہونے سے روکا جائے۔ ملک میں آر ایس ایس کے نظریات سے انحراف کرنے والوں کی اکثریت موجود ہے جو کہ فطری طور پر آر ایس ایس کے نظریہ کو قبول کرنا نہیں چاہتے مگر ایسے افراد کو متحد کرنے کیلئے ہم وہی ہتھیار استعمال نہیں کرسکتے جو ہتھیار آر ایس ایس استعمال کر رہی ہے۔

دلت مسلم اتحاد کے فوائد اور نقصانات کے متعلق پوچھے گئے سوال کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر دلت مسلم اتحاد کی بات کہی جاتی ہے تو یہ ملک کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگا کیونکہ جن خطوط پر آر ایس ایس ہندوستانیوں کو منقسم کرنے کی سازش کر رہی ہے ، دلت مسلم اتحاد کی بات کرنے والے بھی درحقیقت صرف دو طبقات کو یکجا کرتے ہوئے آر ایس ایس کے منصوبہ کی ہی تکمیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں صرف دلتوں یا مسلمانوں کے مسائل پر گفتگو نہیں کرنی چاہئے بلکہ ایک ہندوستانی کی حیثیت ہندوستان کے ہر اس شخص کی بات کہنی چاہئے جو ظلم کا شکار ہیں۔ کنہیا کمار نے وضاحت کے ساتھ کہا کہ مظلوم طبقات میں صرف دلت یا مسلمان نہیں ہیں بلکہ پچھڑے و پسماندہ طبقات کے ساتھ کئی ایسے لوگ بھی ہیں جو مختلف ذات برادریوں میں رہنے کے باوجود مظلوم ہیں اور ان پر ظلم کیا جارہا ہے کیونکہ وہ ذات پات اور مذہبی منافرت کا شکار ہوئے بغیر ہندوستان میں ایک ہندوستانی کی طرح رہنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ جب ہم ہندوستانی کی حیثیت ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے ساتھ ملک میں موجود عوام کی حفاظت اور ان کے مسائل کے حل کیلئے آواز اٹھانے لگیں گے تو ضرور بہ ضرور تبدیلی آئے گی۔ تعلیمی اداروں و جامعات میں طلبہ کے درمیان ہونے والے بحث و مباحث ، ان کی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں اور ان میں ہر کسی سے سوال کرنے کی جرات پیدا کرتے ہیں ، اسی لئے آر ایس ایس کے ساتھ موجودہ حکومت جامعات و تعلیمی اداروں کو نشانہ بناتے ہوئے اس بات کی کوشش کر رہی ہے کہ نوجوانوں میں سوال کرنے کا جو جذبہ پیداہوتا ہے اسے ختم کیا جائے۔ نوجوان نسل اگر اس سازش کو سمجھے اور سیاست کا شکار ہوئے بغیر اپنے مسائل کو حل کرنے کیلئے آواز اٹھائے تو یقیناً کوئی طاقت ان کے آگے مقابلہ کیلئے نہیں ٹھہر پائے گی۔

مستقبل اور انتخابی سیاست میں داخلے کے سلسلہ میں پوچھے گئے سوال کاجواب دیتے ہوئے کنہیا کمار نے کہا کہ فی الحال وہ سیاسی اعتبار سے سوچنا بھی نہیں چاہتے کیونکہ سیاست نہ کرنے پر بھی یہ الزام عائد ہورہا ہے کہ طلبہ سیاست کر رہے ہیں اور ملک سے غداری کر رہے ہیں جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ طلبہ حکومت کی جانب سے عوام سے کی جارہی دھوکہ دہی والی سیاست کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ کنہیا کمار نے بتایا کہ 2014 ء سے قبل نریندر مودی نے جو خواب ہندوستانی عوام کو دکھائے تھے ، وہ خواب اندرون دو برس چکنا چور ہوچکے ہیں اور جس طرح کی سازشیں ہندوستانی سیاست میں تیار کی جارہی ہیں، ان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آر ایس ایس کے نظریات کے خلاف بننے والے عظیم اتحاد کو نقصان پہنچایا جائے۔ انہوںنے بتایا کہ اترپردیش انتخابات میں جس طرح سے بہوجن سماج کو بھاری اکثریت کی پیش قیاسی کی جارہی ہے ، وہ بھی درحقیقت ایک سازش ہے تاکہ بہوجن سماج عظیم اتحاد کا حصہ نہ رہے اور خوش فہمی میں مبتلا رہتے ہوئے زعفرانی قوتوں کو فائدہ پہنچانے والے کام سر انجام دے۔ بہار انتخابات میں جس طرح سے مذہبی خطوط پر عوامی رائے کو تقسیم کرنے کی کوشش کی گئی ، اس سے سب واقف ہیں لیکن اس کے باوجود عظیم اتحاد کو حاصل کامیابی سے یہ ثابت ہوگیا کہ ہندوستان میں آج بھی ہندوستانی نظریات رکھنے والے عوام کی اکثریت ہے ۔ طلبہ کی تحریک ملک سے آزادی کی نہیں بلکہ ملک میں ذات پات ، مذہبی منافرت ، بھوک و افلاس ، بیروزگاری، قتل و غارت گیری ، ناانصافی ، عدم مساوات اور آر ایس ایس کے نظریات سے آزادی کی تحریک ہے جسے زبردست عوامی تائید حاصل ہورہی ہے۔
@infomubashir
[email protected]

Top Stories

TOPPOPULARRECENT