Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک کو فسطائی ہندوتوا طاقت بنانے کا منصوبہ

ملک کو فسطائی ہندوتوا طاقت بنانے کا منصوبہ

کرنسی تبدیل کرنے کے بعد معیشت پر گجراتی گینگ قابض ہوگی : مجید اللہ خاں فرحت
حیدرآباد۔15نومبر(سیاست نیوز) ملک میں کرنسی نوٹ کی تنسیخ ملک کو فاشسٹ ہندوتوا کی سمت لیجانے کی کوشش ہے اور اس تبدیلی کے دوران جو غیر محسوب دولت ہاتھ آئے گی اس پر ’گجراتی گینگ‘ قابض ہو گی۔ جناب مجید اللہ خان فرحت صدر مجلس بچاؤ تحریک نے آج نوٹوں کی تنسیخ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہندو توا طاقتیں عیسائی مشنری کے طرز پر سماجی خدمات کو وسعت دینے کیلئے منصوبہ بند طریقہ اختیار کر چکی ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ نوٹوں کی تنسیخ کے ذریعہ غیر محسوب دولت کو جو مختلف ہاتھوں میں منقسم تھی اسے یکجا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسی منصوبہ کے تحت ایسا کیا گیا ہے۔ جناب مجید اللہ خان فرحت نے کہا کہ اگر تنسیخ کے ذریعہ ملک میں بد عنوانیوں اور بے قاعدگیوں کا خاتمہ کرنا ہوتا تو 2000کے نوٹ نہیں نکالے جاتے بلکہ ان دو ہزار کے نوٹوں کے ذریعہ جمع کی جانے والی دولت دراصل ایک مخصوص طبقہ کے ہاتھوں میں پہنچانے کی سازش ہے۔ صدر تحریک نے اسدالدین  اویسی کے بیان کو غیر دانشمندانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد نا دانستہ یا منصوبہ بند طریقہ سے سنگھ کے مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دراصل اسد اویسی ملک میں جاری سنگھ کی سازش سے نا واقف ہیں اسی لئے اس طرح کے بیانات دے رہے ہیں۔ مجید اللہ خان فرحت نے بتایا کہ’ گھر واپسی ‘ اور دیگر اسی طرح کے متنازعہ امور کی انجام دہی کیلئے سنگھ ملک میں موجود دلت طبقات کے درمیان پہنچ کر سماجی و فلاحی کاموں کی انجام دہی کے ذریعہ مختلف طبقات کو متحد کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے اور اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے انہیں کافی دولت درکار ہے جو اس عمل کے ذریعہ حاصل کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ فرحت خان نے بتایا کہ کرنسی کی تنسیخ کے پیچھے بنیادی طور پر سنگھ کے مفادات اور ان کے نظریات وابستہ ہیں‘ منسوخ کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کے لئے جو 30تا35فیصد کی معاملتیں اور حصہ داریاں ہوں گی وہ مذہبی مقامات کے توسط سے سنگھ تک پہنچا دی جائیں گی تاکہ ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانیا جا سکے۔ جناب مجید اللہ خان فرحت نے بتایا کہ اب تک علاقائی یا طبقہ واری بنیادوں پر غیر محسوب دولت جمع ہوا کرتی تھی اور مخصوص طبقہ سے تعلق رکھنے والے غیر محسوب رقومات جمع کیا کرتے تھے لیکن اب ایک ہی نظریہ کے حامل افراد کے پاس کالا دھن پہنچ جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ وقت کرنسی کی سیاہی یا کاغذ پر بحث کا نہیں بلکہ ملک میں مخالف ملک کام کرنے والی طاقتوں کی سازشوں کے انکشاف کا وقت ہے۔

TOPPOPULARRECENT