Wednesday , September 27 2017
Home / سیاسیات / ملک کو مودی نے پیچھے ڈھکیل دیا

ملک کو مودی نے پیچھے ڈھکیل دیا

نئی دہلی۔21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) چینی کمیونسٹ پارٹی کے صدرنشین نے 1958 ء میں یہ حکم جاری کیا تھا کہ تمام چڑیوں کو ماردیا جائے چونکہ ایک طاقتور لیڈر کا اقدام تھا۔ لہٰذا اس وقت ہر ایک نے ستائش کی تھی۔ کسان پریشان تھے کہ چڑیا ان کے غذائی اجناس کو چگ رہے ہیں جس پر چڑیوں کو مارنے کی زبردست مہم شروع کی گئی۔ اگرجبکہ فصلوں کی حفاظت کے لئے انگنت چڑیوں کو ہلاک کردیا گیا۔لیکن اس کے الٹے نتائج بھی برآمد ہوئے۔ چڑیوں کو مارنے سے ماحولیاتی نظام اور توازن درہم برہم ہوگیا جوکہ فصلوں کو خراب کرنے والے کیڑوں مکوڑوں بالخصو تڈوں کو کھاجاتے تھے۔ لیکن چڑیوں کو ماردینے سے فصلیں تباہ و تاراج ہوگئیں جس کے نتیجہ میں قحط، بھوکمری اور فاقہ کشی سے صرف 3 سال میں 45 ملین لوگ لقمہ اجل ہوگئے۔ چونکہ یہ عظیم لیڈر مائوکا حکم تھا۔ لوگوں کو موت کا صدمہ اور مشکلات کو جھلینا پڑا اور چڑیوں کو مارنے کا حکم عوام کو موت کا پیام ثابت ہوا جس کے بعد عظیم لیڈر کے ہوش و حواس ٹھکانے پر آگئے اور اپنے منصوبہ کو ازسر نو ترتیب دینا پڑا۔ اگرچیکہ 20 ویں صدی نے ہمیں اندھادھند منصوبوں سے خبردار کیا ہے لیکن ہم نے کمیونسٹ مائو اور اسٹالن اور فاشسٹ ہٹلر سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ جبکہ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے لئے نریندر مودی کا فیصلہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ انہوں نے ناقابل تصور ہمالیائی غلطی کردی۔ کیوں کہ ان کا یہ اقدام، کوئی مقصد حاصل کرتے ہی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس کے برخلاف غریبوں کی زندگی درہم برہم اور معاشی نظام تباہ ہو جائے گا۔ گوکہ وزیراعظم نریندر مودی کا یہ دعوی ہے کہ کرپشن اور بلیک منی کے خلاف یہ قدم اٹھایا گیا ہے لیکن یہ حقیقت ہے جبکہ 4 اہم وجوہات ہیں حالیہ تجزیہ کے مطابق صرف 6 فیصد بلیک منی، نقدم رقم کی شکل میں ہے۔ دوسرے یہ کہ 2000 اور 500 روپئے کے نئے نوٹ چلن میں آگئے ہیں۔ بلیک مارکٹ میں پرانے نوٹوں کو نئے میں تبدیلی کا عمل بھی جاری ہے۔ تیسرے یہ کہ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اس طرح کے سرجیکل حملے (کارروائی) سے بلیک منی باہر نہیں آسکتی۔ کالادھن اور کرپشن کے خلاف موثر کارروائی کے لئے اس کی جڑوں پر حملہ کیا جائے۔ کرپشن اور بلیک منی کا پھیلائو دراصل عظیم اور وسیع حکومت کا نتیج میں دوسروں کے خلاف کارروائی کے لئے کوئی ایک مختار کل نہیں ہوسکتا۔ اگر نریندر مودی، بلیک منی کے مسئلہ سے نمٹنے سنجیدہ ہیں تو ادارہ جاتی تبدیلی کرتے ہوئے اقل ترین قیمتوں کی سمت پہل کریں جیسا کہ انہوں نے 2014ء کی انتخابی مہم میں دعوی کیا تھا بصورت دیگر حکومت کی توسیع، عوام پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول اور اعظم ترین حکمرانی سے مزید کرپشن پھیلتا جائیگا۔ چوتھی بنیادی وجہ اعلی قدر کی نوٹوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ کیوں کہ نریندر مودی 15 سال میں بھی محفوظ خزانوں سے پوشیدہ رقم لاتنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ غالباً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ غریب عوام، اعلی قدر کے نوٹ استعمال نہیں کرتے سابق میں 1000 روپئے کی نوٹ 1978ء میں منسوخ کردی گئی تھی اور یہ نوٹ آج قوت خرچ کے اعتبار سے 12,000 روپئے کی ہوگئی ہے۔ گوکہ دولتمند ان نوٹوں کی شکل میں بلیک منی چھپاسکتے ہیں لیکن غریب عوام استعمال نہیں کرسکتے۔ جبکہ آج کی 500 روپئے کی نوٹ کی قدر 1978ء میں 50 روپئے کے برابر ہے۔ زیرگشت رقم میں ان نوٹوں کا حصہ 85 فیصد ہے۔ چونکہ ہندوستان میں 90 فیصد لین دین نقد رقم ہوتا ہے لہٰذا 90 فیصد رقم کو بلیک منی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان حالات میں مودی کا اقدام تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔ جاریہ سال مارچ تک آر بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 53 فیصد ہندوستانیوں کے پاس بینک کھاتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ دیگر 600 ملین لوگ اپنی رقومات پوشیدہ رکھ سکتے ہیں۔ 300 ملین شہریوں کے پاس سرکاری شناخت نامہ نہیں ہے جبکہ کروڑہا لوگ ، اپنی محنت کی کمائی کو تبدیل کرنے سے قاصر ہیں۔ کیوں کہ ان کے پاس بینک اکائونٹ نہیں ہیں اور مطلوبہ کرنسی نوٹوں کی طباعت کے لئے حکومت کو مزید 6 ماہ درکار ہوگا لیکن ہر روز مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ، دیہاتوں میں کسان مصیبت میں گھیرا ہوا اور عوام غم و غصہ میں نظر آرہے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نریندر مودی ایک دائیں بازو کے رجعت پرست لیڈر ہونے کے باوجود کمیونسٹ نظریہ پر عمل پیرا ہیں جہاں پر عوام کو حق جائیداد نہیں ہوتا۔

TOPPOPULARRECENT