Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک کو ہندو راشٹر بنانے زعفرانی طاقتوں کا خفیہ ایجنڈہ پر عمل

ملک کو ہندو راشٹر بنانے زعفرانی طاقتوں کا خفیہ ایجنڈہ پر عمل

جھوٹ کو ہتھیار بنایا جارہا ہے ، افواہوں کے ذریعہ اقلیتیں نشانہ ، پروفیسر ہرا گوپال کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 3 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : ملک کو ہندو راشٹر بنانے کے لیے زعفرانی طاقتیں جھوٹ کو ہتھیار بنا کر اپنے خفیہ ایجنڈہ پر عمل پیرا ہے ۔ اکثریتی سماج کے بڑے حصہ میں جھوٹ کے ذریعہ افواہ پھیلا کر اقلیتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ تبدیلی مذہب ، گھر واپسی ، تشدد اور پھر اب گاؤ کشی کے مسئلہ پر ملک کی سب سے بڑی اقلیت نشانہ پر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر ہرا گوپال نے کیا ۔ انہوں نے آج یہاں پریس کلب بشیر باغ میں اڑیسہ کے کنداماں ضلع میں عیسائیوں کی نسل کشی کے متعلق حقیقت پر مبنی ایک کتاب کا رسم اجراء انجام دیا ۔ اس موقع پر نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ، ہیومن رائٹس فورم کے صدر مسٹر جیون کمار کے علاوہ دیگر دانشور موجود تھے ۔ انٹرنیشنل صحافی مسٹر انٹواکرا کی جانب سے لکھی ہوئی اس کا اجلاس میں تذکرہ کیا گیا اور ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے اس کی روک تھام کے لیے دستخطی مہم کا آغاز کیا گیا ۔ مسٹر ہرا گوپال جو اجلاس کو مخاطب تھے کہا کہ ملک میں انصاف کے تقاضے بدل گئے ہیں اور جھوٹ کا بازار گرم ہے ۔ انہوں نے میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی خبر کو بغیر جانچ و تحقیق کے شائع نہ کریں چونکہ یکطرفہ بات غلط فہمیوں کا موجب بنتی ہے ۔ انہوں نے آر ایس ایس پر الزام لگایا کہ وہ اس طرح کی جھوٹ اور غلط فہمیوں کے ذریعہ سماج کو تقسیم کردیا ہے ۔ مسٹر ہراگوپال نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ گودھرا واقعہ سے لے کر کھنڈامال ہو یا پھر دادری کا واقعہ ہو صرف افواہ پھیلا دی گئی کہ ٹرین کو اقلیتی فرقہ نے آگ لگادی اور کھنڈامال میں سوامی کو عیسائیوں نے قتل کردیا اور دادری میں اخلاق کے گھر میں گائے کا گوشت رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ شور شرابہ اور جھوٹ کے بغیر آر ایس ایس کی کوئی پالیسی میں جان نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک سماج کے دوسرے لوگ ان غلط فہمیوں کو دور کرنے اور ظلم کی اس آندھی کو روکنے کی کوشش نہیں کریں گے ایسے حالات کا روکنا مشکل ہے اور ملک میں میڈیا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے اور ہر طرف جھوٹ کا بازار گرم ہے جو حقیقت سے کافی دور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ دو سال ملک میں بالخصوص سال 2018 ملک کی اقلیتوں کے لیے بڑا آزمائشی سال ہوگا ۔ انہوں نے تمام ایسی طاقتوں کو جو فسطائیت کے خلاف ہیں اور ملک کے مفاد اور انسانیت کو اولین ترجیح دیتے ہوئے ایک پلیٹ فام پر آکر جھوٹ کا مقابلہ کریں ۔ اس موقع پر جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سیاست نے کتاب کے مصنف انیٹوآکرا کی زبردست ستائش کی اور کہا کہ آج سماج میں اس جھوٹ کا مقابلہ ضروری ہے جو ملک کی سالمیت اور ترقی کے لیے خطرناک ہے ۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ زحمت کو رحمت کے طور پر یعنی سوشیل میڈیا کو فسطائیت جھوٹی سازش کے خلاف استعمال کرتے ہوئے حالات کا مقابلہ کیا جائے ۔ چونکہ سوشیل میڈیا کے ذریعہ اس قدر جھوٹ پھیلایا جارہا ہے کہ اس سے سچائی شرما رہی ہے ۔ جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ کمزور طبقات اور ایسے طبقات جنہیں انصاف حاصل ہونا چاہئے ایسے لوگ ہی ملک کی تقدیر کو بدل سکتے ہیں اور انہیں صحیح سمت و رہنمائی کی ضرورت ہے چونکہ آج اقتدار پر قابض طبقہ انصاف کرنے کی سونچ میں نہیں ہے ۔ اس پروگرام کو مسٹر جیون کمار کے علاوہ مصنف اینٹو آکرا ، وسنتا ، سنجے و دیگر نے مخاطب کیا ۔ اس اجلاس میں مکہ مسجد ، مالیگاؤں اور گجرات فسادات پر ہوئے عدالتی فیصلوں کا بھی تذکرہ کیا گیا اور دہشت گرد واقعات کی مذمت کی گئی ۔۔

TOPPOPULARRECENT