Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے کیلئے سیول سرویسیس سے وابستہ ہونے کا مشورہ

ملک کی تعمیر و ترقی میں حصہ لینے کیلئے سیول سرویسیس سے وابستہ ہونے کا مشورہ

چیالنجس سوشیل سرویس اکیڈیمی کا افتتاح، جناب اے کے خاں کی تقریر
حیدرآباد۔ 9 مئی (راست) کارپوریٹ سیکٹر کی پرکشش تنخواہوں کے مقابلہ میں نوجوان سیول سرویسیس کو ترجیح دے رہے ہیں، کیونکہ سیول سرویسیز ملک کی تعمیر و ترقی کے لئے اپنی صلاحیتوں کے استعمال کا سب سے بہترین اور موثر ذریعہ ہے۔ یہ انکشاف ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن بیورو جناب عبدالقیوم خاں آئی پی ایس نے کیا۔ وہ کل شام آر ٹی سی آڈیٹوریم میں چیلنجس سیول سرویسیس اکیڈیمی کا افتتاح کے بعد مخاطب تھے۔ مسٹر اوماپتی آئی پی ایس ریٹائرڈ آئی جی پی، جناب سید انیس الدین سی ای او سہائتا ٹرسٹ، مسٹر مکیش سہائے ڈائریکٹر چیلنجر سیول سرویسیس اکیڈیمی اور جناب حیدر غوری کے علاوہ جاوید سکندر ٹرسٹی سہائتا ٹرسٹ شہ نشین پر موجود تھے۔ جناب فاروق حسین ایم ایل سی، ڈاکٹر محمد یوسف اعظم، جناب عبدالقدیر چیرمین شاہین گروپ بیدر، ڈاکٹر محمد رفیق، جناب ولی محمد ٹرسٹی سہائتا ٹرسٹ کے علاوہ مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہان اکیڈیمک فیکلٹی ممبرس طلباء اور ان کے سرپرستوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ جناب اے کے خاں آئی پی ایس نے بتایا کہ ان سے ایک ایسے نوجوان نے ملاقات کی جسے کارپوریٹ سیکٹر میں سالانہ پونے 2 کروڑ تنخواہ تھی تاہم وہ سیول سرویسیز سے وابستہ ہونا چاہتا تھا۔ اس کی وجہ سے اس نے یہی بتائی کہ وہ چاہتا ہے کہ ملک کے پالیسی سازوں میں اس کا شمار ہو، ملک کی تعمیر و ترقی میں اس کا نصاب تبدیل ہوتا جاتا ہے، اگر سخت محنت کی جائے تو انتخاب ناممکن نہیں۔ اس کے لئے اگر انٹرمیڈیٹ کی سطح سے تیاری کی جائے تو عین سیول سرویسیس امتحان کے وقت بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر مسرت کا اظہار کیا کہ چیالنجر سیول سرویسیز اکیڈیمی نے انٹرمیڈیٹ کی سطح سے سیول سرویسیس کیلئے اینٹی گریٹیڈ کوچنگ کا پروگرام تیار کیا ہے۔ کوئی بھی بچہ پیدائشی ذہین نہیں ہوتا۔ سخت محنت، جستجو سے اس کی ذہانت میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے سچن تنڈولکر کی مثال دی جو اپنے کیریئر کے آغاز سے لے کر ریٹائرمنٹ تک سخت محنت کرتے رہے اور دنیا کے عظیم ترین کھلاڑی بنے۔ انہوں نے کئی سائنس دانوں کی مثالیں دیں، جو ناکامیوں کے بعد کامیاب ہوئے۔ سیول سرویسیس کے لئے روزانہ کم از کم 8 تا 10 گھنٹے کی محنت ضروری ہے۔ کامیابی کے بعد بھی یہ سلسلہ ختم نہیں ہوتا بلکہ ہر روز ایک نیا چیلنج ہوتا ہے۔ سوسائٹی کو درپیش مسائل سے نمٹنے کیلئے سیول سرویسیس کا رول اہم ہوتا ہے۔ انہوں نے جناب سید انیس الدین سی ای او کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔ مسٹر اوماپتی جنہوں نے چیلنجر سیول سرویسیس اکیڈیمی کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے سے اتفاق کیا ہے، امید ظاہر کی کہ چیالنجر سیول سرویسیس اکیڈیمی سے ہر سال کئی امیدوار کامیاب ہوںگے، کیونکہ یہاں منفرد انفراسٹرکچر اور بہترین فیکلٹی فراہم کی گئی ہے۔ جناب سید انیس الدین سی ای او نے چیالنجرس سیول سرویسیز اکیڈیمی کی غرض و غایت سے واقف کروایا۔ جناب جاوید سکندر نے انڈین مسلم چیاریٹی ریلیف اور سہائتا ٹرسٹ کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ مسٹر مکیش سہائے نے بھی جنہیں سیول سرویسیس کی کوچنگ کا 20 سالہ تجربہ ہے، خطاب کیا۔ انٹرمیڈیٹ میں 40% ، ڈگری میں 30% تیاری ممکن ہے۔

TOPPOPULARRECENT