Monday , August 21 2017
Home / اداریہ / ملک کی فضا مکدر کرنے کی کوشش

ملک کی فضا مکدر کرنے کی کوشش

چمن میں بجلیاں منڈلا رہی ہیں
کہاں لے جائوں شاخِ آشیانہ
ملک کی فضا مکدر کرنے کی کوشش
اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ ملک میں اگر عام انتخابات ہونے والے ہوں یا پھر ملک کی کچھ ریاستوں میں اور خاص طور پر اتر پردیش جیسی اہمیت کی حامل ریاست میں اگر انتخابات ہونے والے ہوں تو پھر ملک میں ماحول کو پراگندہ اور فضا کو مکدر کرنے کی کوششوں میں شدت پیدا ہوجاتی ہے ۔ فسطائی عزائم رکھنے والوں کی زبانیں مختلف راگ الاپنے لگ جاتی ہیں اور بطور خاص مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے سلسلے شروع ہوجاتے ہیں۔ مختلف طریقوں سے سماج کے دو بڑے طبقات کے مابین دوریوں کو بڑھاوا دیا جاتا ہے اور نفرت کا بازار گرم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اب بھی جبکہ آئندہ سال اتر پردیش کے علاوہ پنجاب اور گجرات جیسی ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں ملک میں ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوششیں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ آئی ایس کے نام پر مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور دوسرے نوجوانوں پر نظر رکھی جا رہی ہے ۔گذشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد سے کچھ مذہبی اسکالرس کو راڈار پر رکھا گیا ہے اور اس سلسلہ میں جتنی بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں ان سے زیادہ ان کارروائیوں کی تشہیر اور ایک قسم کا خوف کا ماحول پیدا کرنے کیلئے کی جا رہی ہے ۔ اگر ملک میں کوئی گمراہ نوجوان غلط راہ پر چل پڑتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے اور یہ سب کچھ واضح ثبوتوں کے ساتھ اور قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کیا جانا چاہئے ۔ قانون کی خلاف ورزیاں کرنے کی یا قانون کی آڑ میں تعصب برتنے کی نفاذ قانون کی ایجنسیوں کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ جن افراد کے خلاف کارروائی ہو تی ہے یا ہو رہی ہے ان کے تعلق سے قطعی فیصلہ ملک کی عدالتیں کرینگی اور وہی اس کی مجاز ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ میڈیا اپنے طور پر ٹرائیل چلانے میں مصروف ہوگیا ہے اور وہ سماج کو درپیش مختلف مسائل پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے اسی ٹرائیل کو اپنا فرض سمجھنے لگا ہے ۔ میڈیا میں چلائی جانے والی کہانیاں سماج میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن رہی ہیں اور ان کہانیوں میں ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو میڈیا کیلئے مناسب نہیں ہے اور یہ میڈیا یا ذرائع ابلاغ کی پیشہ ورانہ دیانت داری کے تقاضوں کے یکسر مغائر ہے ۔
مختلف گوشوں سے مختلف شوشے چھوڑے جا رہے ہیں۔ نت نئے انداز سے معنی خیز تبصرے کئے جا رہے ہیںاور ان کے نتیجہ میں سماج میں ایک طرح کی بے چینی پیدا ہو رہی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ملک کو اور ملک کے عوام کو درپیش مختلف سنگین مسائل سے توجہ ہٹائی جارہی ہے ۔ ایسی مہم ملک کی ترقی اور سماجی اطمینان کو درہم برہم کرنے کا باعث بن رہی ہے ۔ ملک کو ترقی کی راہ پر لانے کیلئے سماج کے ہر طبقہ کو حکومت کے ساتھ اپنا رول ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملک میں مختلف طبقات کے عوام کو جو مسائل درپیش ہیں ان کا کوئی قابل قبول ‘ دیرپا اور ایسا حل دریافت کیا جاسکے جن کے بعد مسائل کم ہونے لگیں لیکن ایسا کرنے کی بجائے سماج میں نفرت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے اور یہ کوشش ہو رہی ہے کہ ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایا جائے ۔ اس کے نتیجہ میں سماج کے دو بڑے طبقات کے مابین دوریاں بڑھنے لگیں گی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد میں اضافہ ہوگا ۔ یہ اندیشے بے بنیاد نہیں ہوسکتے کہ یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے اور اس کے سیاسی عزائم سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ جو گوشے اور خاص طور پر میڈیا کا ایک گوشہ جو ایسی مہم چلا رہا ہے اس کو اپنی ترجیحات پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہر ایک کیلئے ملک کا پرامن ماحول اور سماجی ہم آہنگی مقدم ہونی چاہئے ۔ کوئی بھی گوشہ جو ملک کے ماحول کو پراگندہ کرتا ہے اور ملک کی فضا کو مکدر کرتا ہے تو وہ ملک کا بہی خواہ اور ہمدرد ہرگز نہیں ہوسکتا ۔ ایسی کوششیں اور مہم ملک کی خدمت نہیں بلکہ ملک اور ملک کے عوام کی بدخدمتی کہی جاسکتی ہیں۔
نفاذ قانون کی ایجنسیاں جو کام کر رہی ہیں انہیں اس میں اپنی پیشہ ورانہ دیانت اور مہارت کو استعمال کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان ایجنسیوں کو مختلف گوشوں سے ہونے والے تبصروں کو خاطر میں لانے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ثبوتوں اور شواہد کی بنیاد پر واقعتا قانون نافذ کرنے کیلئے قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہی کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ حساس نوعیت کے مسائل پر مختلف گوشوں سے ہونے والے من مانی اور من گھڑت یاقیاس آرائیوں پر مبنی تبصروں کا جائزہ لے اور انہیں روکنے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔ ایسا ہونا ملک اور ملک کے عوام کیلئے ضروری ہے ۔ جب تک ملک میں پرسکون ماحول اور سماجی ہم آہنگی نہیں ہوگی اس وقت تک مل کو حقیقی معنوں میں ترقی کے سفر پر گامزن کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT