Tuesday , October 24 2017
Home / سیاسیات / ملک کی معیشت کے چوکیدار خاموش کیوں ہیں؟

ملک کی معیشت کے چوکیدار خاموش کیوں ہیں؟

وزیراعظم مودی پر راہول گاندھی کا طنز، اسٹارٹ اپ انڈیا سے امیت شاہ کے بیٹے کی کمپنی کو فائدہ
کملا (گجرات) 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نائب صدر راہول گاندھی نے بی جے پی صدر امیت شاہ کے بیٹے کی کمپنی کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے پر وزیراعظم نریندر مودی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی جے پی صدر امیت شاہ کے بیٹے جئے شاہ کی کمپنی کے ٹرن اوور میں 2014 ء میں پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے بعد غیرمعمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ راہول گاندھی نے گجرات میں انتخابی مہم کے دوسرے مرحلہ کے آغاز کے موقع پر یہ مسئلہ اُٹھایا۔ وہ آج صبح احمدآباد ایرپورٹ پہونچے اور یہاں سے شہر کے ہتیجان علاقہ گئے اور خصوصی طور پر تیار کردہ بس میں اپنی انتخابی مہم شروع کی۔ نیوز ویب سائیٹ ’’دی وائر‘‘ کے حوالہ سے یہ اطلاعات میڈیا میں شائع ہوئی ہیں کہ جئے شاہ کی کمپنی کے ٹرن اوور مختصر مدت میں 16 ہزار گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ عجیب و غریب صورتحال ہے۔ 2014 ء میں کمپنی برائے نام اپنا وجود رکھتی تھی، مودی جی (2014 ء میں) اقتدار پر آئے اور ’’اسٹارٹ اَپ انڈیا‘‘ ، ’’میک اِن انڈیا‘‘ شروع کی۔ پھر اُنھوں نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی متعارف کی اس کے نتیجہ میں چھوٹے تاجرین اور کسان تباہ ہوگئے۔ لیکن اُنھوں نے جو آگ لگائی اِس سے ایک کمپنی کو توانائی مل گئی۔ 2014 ء میں یہ کچھ نہیں تھی لیکن چند ماہ میں اس کا ٹرن اوور غیرمعمولی طور پر بڑھ گیا اور یہ 80 کروڑ سے جاکر 50 ہزار کروڑ روپئے ملکیت کی حامل ایک بڑی کمپنی بن گئی۔ گجرات میں تجارتی ماحول کا تذکرہ کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہاکہ کیا گجراتی جو تجارت میں شہرت رکھتے ہیں، اس طرح کی تجارت اُن کیلئے ممکن ہے؟ اُنھوں نے نریندر مودی کے اِس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ وہ کبھی کرپشن میں ملوث نہیں رہیں گے اور نہ ایسا ہونے دیں گے۔ کانگریس لیڈر نے کہاکہ اب جبکہ امیت شاہ کے بیٹے کی کمپنی نے 16 ہزار گنا ریکارڈ اضافہ درج کیا ہے جس پر مودی جی نے خاموش ہیں۔ مودی جی نے (انتخابات سے قبل) یہ بھی کہا تھا کہ وہ وزیراعظم بننا نہیں چاہتے بلکہ ملک کی دولت کے چوکیدار ہوں گے لیکن اب یہ چوکیدار کہاں گیا؟ کانگریس نائب صدر نے معاشی صورتحال کے لئے این ڈی اے حکومت کو مورد الزام قرار دیا اور اِس بات کا مطالبہ کیاکہ جی ایس ٹی کے تحت شرحوں کو 18 فیصد سے زائد نہ کیا جائے۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکز سے بار بار درخواست کے باوجود جی ایس ٹی کے تحت 18 فیصد سے زائد شرح عائد کی جارہی ہیں۔ راہول گاندھی نے کہاکہ ٹیکسوں میں اضافہ نے کئی کاروبار ختم کردیئے ہیں۔ نوٹ بندی کے نتیجہ میں کئی چھوٹے تاجرین اپنی تجارت سے محروم ہوگئے۔ گجرات کی ترقی کا ماڈل ناکام ہوچکا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور گجرات کے عوام یہ جانتے ہیں کہ نام نہاد گجرات ترقی ماڈل ناکام ہوگیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اگر کانگریس اقتدار پر آئی تو پرانا گجرات ماڈل اختیار کیا جائے گا جس کے تحت کوآپریٹیو سوسائٹیز جیسے امول نے ترقی کی تھی۔ راہول گاندھی نے روزگار کے موقع فراہم کرنے میں ناکامی پر بھی مرکز کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

TOPPOPULARRECENT