Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / ملک کی کئی ریاستوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں

ملک کی کئی ریاستوں میں سیلاب کی تباہ کاریاں

یوپی ، مغربی بنگال، آسام اور بہار بدترین متاثر
لکھنؤ ۔ 23 اگست (سیاست ڈاٹ کام) حکومت یوپی نے آج 24 سیلاب سے متاثرہ اضلاع کے مجسٹریٹس کو ہدایت دی کہ عاجلانہ بنیادوں پر راحت رسانی اشیاء کی تیز رفتار تقسیم کو یقینی بنایا جائے کیونکہ سیلاب سے صورتحال پریشان کن ہے۔ ریاست میں 82 اموات واقع ہوچکی ہیں۔ 2855 دیہات زیرآب آگئے ہیں۔ تمام ضلع مجسٹریٹ کو ہدایت کی گئی ہیکہ 24 گھنٹے جنگی خطوط پر راحت رسانی اشیاء تقسیم کی جائیں۔ تقریباً 50 ہزار افراد پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں۔ کولکتہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب سیلاب زدہ مغربی بنگال کے شمالی علاقوں کے اضلاع میں سیلاب کی صورتحال بہتر ہورہی ہے کیونکہ پانی اترنا شروع ہوگیا ہے۔ تاحال مغربی بنگال میں 800 راحت رسانی کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔ گوہاٹی سے موصولہ اطلاع کے بموجب آسام میں سیلاب کی صورتحال میں قابل لحاظ بہتری پیدا ہوئی ہے حالانکہ مزید ایک موت کی اطلاع ملی اور تقریباً 7 لاکھ افراد ریاست کے 11 اضلاع میں ہنوز متاثر ہوئے ہیں۔ ہلاکتوں کی جملہ تعداد 155 ہوچکی ہے جس میں صرف گوہاٹی میں ہلاک ہونے والے 8 افراد بھی شامل ہیں۔

پٹنہ سے موصولہ اطلاع کے بموجب بہار میں سیلاب سے ہلاک ہونے والے افراد کی جملہ تعداد 367 ہوگئی جبکہ 26 نئی اموات کی اطلاع ملی۔ ایک کروڑ 58 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہیں۔ ریاست کے 19 اضلاع زیرآب آگئے ہیں۔ کل ہلاک ہونے والوںکی جملہ تعداد 341 تھی۔ ریاستی آفات سماوی انتظامیہ محکمہ کے بیان کے بموجب تقریباً 7 لاکھ 76 ہزار افراد محفوظ علاقوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔ چند مقامات پر پانی نکلنا شروع ہوگیا ہے۔ یہاں کے لوگ اپنے گھروں کو واپس آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ایک لاکھ 67 ہزار افراد 696 راحت رسانی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ صرف ضلع اراریاں یں 80 اموات واقع ہوئی۔ سیتامڑی اور مغربی چمپارن میں فی کس 36، کٹیہار میں 35، مدھوبنی میں 24، کشن گنج میں 23، دربھنگہ میں 22 مادھے پورہ، مشرقی چمپارن اور گوپال گنج میں سے ہر ایک میں 19، سوپوال میں 15، پورنیا میں 9، کھگاریا، سارن اور مظفرپور میں سے ہر ایک 7، شیوہار اور سہرسا میں سے ہر ایک میں چار اور ضلع سمستی پور میں ایک موت واقع ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT