Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / ملک کے حالاتِ حاضرہ، مسلمان کس طرح مقابلہ کریں

ملک کے حالاتِ حاضرہ، مسلمان کس طرح مقابلہ کریں

نوید حامد صدر آل انڈیا مسلم مشاورت سے بات چیت
ہندوستان کے خلاف کام کرنے میں مسلمان نہیں، آپ وضاحت کریں
مسلمانوں نے کبھی ہندوستان کے خلاف کام نہیں کیا :نوید حامد

ترجمہ : میر شجاعت علی
جناب نوید حامد آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر ہیں جو  16 اقلیتی تنظیموں کا گروپ ہے ۔ انہوں نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں موجودہ ماحول اور سیاسی سنگینیوں کے تعلق سے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ موجودہ سیاسی حالات ملک کے امن کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے ۔ جناب نوید حامد اس 50 سالہ قدیم تنظیم کے ساتویں صدر ہیں ۔ ان سے ملک کے موجودہ حالات پر ہوئی بات چیت کی تفصیل اس طرح ہے ۔
سوال :  کیا آپ محسوس کرتے ہیں کہ آج کے حالات مسلمانوں کیلئے خطرناک ہوتے جارہے ہیں ؟
جواب :  ہمیں موجودہ حکومت سے یہ سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا مسلمانوں نے ہندوستان کے خلاف کن کن موقعوں پر کام کیا ہے اور ہندوستان کے مفادات کے بغیر ان کا کیا رول رہا ہے ۔ حکومت مسلمانوں کے خلاف اگر کوئی ثبوت ہو تو اس پر ایک پیپر جاری کریں اور عوام کو آگاہ کریں ۔ یہ گمراہ کن تاثر ہے ۔ موجودہ قیادت کو قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوئل اور وزیراعظم نریندر مودی ، وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کے بشمول داخلی سلامتی سے متعلق تمام اطلاعات پر معلومات حاصل ہیں ۔ اسی قیادت میں ہی برسرعام تسلیم کیا ہے کہ ہندوستانی مسلمان دولت اسلامیہ کے ہرگز حامی نہیں ہے لیکن جب 22 مسلم نوجوانوں کو آئی ایس پروپگنڈہ نے تحریک میں شامل ہونے کیلئے اکسایا اور گمراہ کیا تو ان کے والدین نے خود حکام سے رابطہ قائم کرتے ہوئے ان سے خواہش کی تھی کہ وہ ان نوجوانوں کی رہنمائی کرتے ہوئے درست راہ پر لائیں ۔ دولت اسلامیہ کے ساتھ مسلم نوجوانوں کی وابستگی کے الزامات گمراہ کن اور من گھڑت ہیں ۔
سوال :  ماضی قریب کا جائزہ لیں تو ہندوستانی مسلمانوں پر الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ پاکستان نواز ہیں ۔ آخر اس میں کتنی سچائی ہے ؟
جواب :  دلچسپ بات تو یہ ہے کہ میں مودی حکومت سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ 1947 ء سے آج تک پاکستان کیلئے کن کن لوگوں نے کام کیا ہے ان جاسوسوں کی فہرست کو منظر عام پر لائیں ۔ ایل کے اڈوانی نے نائب وزیراعظم کی حیثیت سے مدرسوں پر الزام عائد کیا تھا کہ یہ مدرسے دہشت گردی کا گڑھ ہیں ۔ جب ان سے پارلیمنٹ میں جواب طلب کیا گیا تو انہوں نے ارکان پارلیمنٹ کو تیقن دیا تھا کہ وہ اس تعلق سے وائیٹ پیپر جاری کریں گے لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر رہے ۔
سوال :  غیر بی جے پی پارٹیوں کی جانب سے مسلمانوں کی ’’خوشامد‘‘ کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں ؟
جواب :  بی جے پی ان نام نہاد سیکولر پارٹیوں کی جانب سے گزشتہ 65 سال کے دوران انجام دی گئی پالیسیوں کا فائدہ اٹھارہی ہے ۔ بدبختی کی بات تو یہ ہے کہ ان سیکولر پارٹیوں نے ہندوستانی جمہوریت کے نظریہ کو خاموشی کے ساتھ منظم طریقہ سے اکثریتی جمہوریت کے نظریہ میں تبدیل کردیا ۔ جبکہ مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے 1947 ء میں پبلک سرویسیس میں 30 فیصد مسلمانوں کو ملازمتیں حاصل تھیں اور اس فیصد میں 1951 ء میں کمی واقع ہوئی اور یہ 29 فیصد ہوگئی لیکن آج قومی خدمات میں مسلمانوں کی نمائندگی صرف 3 فیصد رہ گئی ہے ۔ سیاسی تعصب پسندی کا سہارا لیتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف ایک منظم طریقہ سے کارروائی کی گئی اور انہیں سیاسی ، معاشی اور سماجی پسماندگی کی جانب ڈھکیل دیا گیا ۔ پارلیمانی حلقوں کو بھی مسلمانوں سے محروم کردیا گیا ۔ زائد از 80 پارلیمانی حلقے ایسے تھے جو مسلمانوں کی نمائندگی کیلئے اہم سمجھے جاتے تھے ۔ ان حلقوں کو ایس ای ایس ٹی کیلئے محفوظ کردیا گیا اور جہاں دلتوں کی آبادی ہے وہاں کے حلقوں کو عام حلقوں میں تبدیل کردیا گیا ۔ اس طرح کے ایسی کئی مثالیں آپ کو دی جاسکتی ہیں جو صرف عام آدمی کو گمراہ کرنے کیلئے سیاست دانوں نے اپنی تعصب پسندی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ ایسے میں آپ بتائیے کہ مسلمانوں کی خوشامد کا سوال کہاں اٹھتا ہے ۔ معصوم عوام الناس اور عام آدمی کو مسلمانوں کے تعلق سے غلط پروپگنڈہ کے ساتھ اپنے مقاصد حاصل کئے گئے ہیں ۔ بنیادی طور پر مسلمانوں کے ساتھ کوئی انصاف نہیں کیا گیا اور ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان سیاستدانوں سے فائدہ حاصل ہوا ہے ۔ پہلی مسلم دشمن پالیسی کو سچر کمیٹی نے بے نقاب کیا تھا ۔ مغربی بنگال کی بائیں بازو حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو بری طرح نظر انداز کردیا گیا تھا ۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کا فیصد غیرمعمولی طور پر بہت کم دکھایا گیا ۔ سیکولر پارٹیوں کی جانب سے مسلمانوں کی خوشامد کئے جانے کے الزامات پر بھی تیسرا وائیٹ پیپر جاری کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہندوستانی عوام کو پتہ چل سکے کہ ان سیاستدانوں نے مسلمانوں کے نام پر ہندوستانی عوام کو کس حد تک گمراہ رکھا ہے ۔
سوال :  کیا ان پارٹیوں نے صرف بیانات ہی دیئے ہیں ۔ بنیادی طورپر عوام کیلئے کچھ نہیں کیا ہے ؟
جواب :  سیکولر پارٹیوں نے نرم ہندوتوا پالیسیوں کو اختیار کیا ۔ ان پارٹیوں نے قوم کے سیکولر کردار کا کوئی تحفظ نہیں کیا ہے بلکہ مسلمانوں کو یکسر طور پر مسترد کردیا ۔ مسلمانوں کے ساتھ بے اعتنائی کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب اندرا گاندھی نے ڈاکٹر کرن سنگھ کی حوصلہ افزائی کی تاکہ انڈیا گیٹ نئی دہلی کے قریب بوٹ کلب کے سبزہ زار پر ویراٹ ہندو سمیلن منعقد کیا جاسکے ۔ یہیں سے سیکولر ہند کے کردار کو مسخ کرنے کا عمل شروع ہوا  اور یہ سلسلہ آج پوری طرح ابتری کو پہونچ چکا ہے ۔
سوال  :  لہذا کیا اب ہندوستان ایک ہندو راشٹریہ کی طرف بڑھ رہا ہے ؟
جواب :  دہلی میں اقتدار پر آنے کے بعد یہ حکومت عوامی زندگی کے تمام شعبوں سے مسلمانوں کو نکال باہر کرنے کیلئے کام کررہی ہے ۔

سوال :  آخر یہ کس طرح ممکن ہے ؟
جواب : ان لوگوں نے ریاستی اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کو ٹکٹ دینے سے انکار کردیا ۔ ہماچل پردیش سے لے کر آندھراپردیش تک آپ کو لوک سبھا میں کوئی مسلم رکن پارلیمنٹ نہیں ملے گا ۔ صرف بہار سے دو رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں ان میں بھی کانگریس اور لوک جن شکتی پارٹی کے نمائندگی کرتے ہیں ۔ 2011 ء میں نے اس وقت کے وزیراعظم کو آگاہکیا تھا کہ اگر مسلمانوں کی نمائندگی کے تعلق سے ایسی ہی بے رخی اختیار کی جاتی رہی تو پارلیمنٹ میں مسلمانوں کی نمائندگی ایک ہندسی تک سکڑ کر رہ جائیگی اور وہ دن ہندوستانی جمہوریت کیلئے سب سے افسوسناک دن ہوگا اور اب یہی کچھ ہورہا ہے ۔ اگر یہی صورتحال آئندہ انتخابات تک برقرار رہی تو مسلمانوں کا جمہوری عمل پر سے ایقان اٹھ جائے گا ۔ کیا یہ ہندوستانی جمہوریت کا سب سے افسوسناک واقعہ نہیں ہوگا اور ہندوستان ایک قوم کی حیثیت سے بری طرح ناکام بھی ہوجائے گا اور جو اس کی سنگینیاں رونما ہوگی وہ ناقابل تصور ہوں گی ۔ اگر مسلمان قانون ساز اداروں کے حصہ نہیں ہوں گے تو اس کا کیا مطلب رہ جائے گا ؟
سوال :  آپ کوئی تبدیلی کی توقع رکھتے ہیں ؟
جواب : ہم ایک ایسے دور کی طرف پیشرفت کررہے ہیں جہاں ہندوستانی سماج کے مختلف طبقات کے درمیان تصادم کے امکانات قوی ہوتے جارہے ہیں اور اس میں اضافہ ملک میں امن و سکون کیلئے خطرناک ہوگا ۔
سوال :  عوام ایک ہندو راشٹریہ کے حق میں دکھائی دیتے ہیں اور یہ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان اگر اکثریت میں آجائیں تو یہ ملک اسلامی ملک بن جائے گا ؟
جواب :   ہوسکتا کہ 100 ، 200 آدمی اسلامی ملک کے تعلق سے خواب دیکھ رہے ہوں لیکن یہ عملی طور پر ممکن نہیں ہے ۔ ہندوستانی تناظر میں جب نام نہاد ذمہ دار لوگ برسرعام ہندو راشٹریہ کا راگ الاپنے لگتے ہیں تو وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ وہ دراصل آگ سے کھیل رہے ہیں ۔ ہندوستان کو موجودہ سیاسی سازشوں اور پیچیدگیوں سے بخوبی واقف ہونا چاہئیے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت جنہوں نے جناح کے پاکستان کے نظریہ کو مسترد کردیا تھا اور گاندھی ، نہرو ، مولانا آزاد اور مدنی کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے ہوگئے تھے ۔ ان مسلمانوں نے یہ سمجھ کر ہندوستان کو اپنا وطن تسلیم کرلیا تھا کہ یہ ملک تمام کا ہے ۔ براہ کرم آپ سینکڑوں سال پرانے اسلامیات کے طلباء کو یاد کیجئے جو صرف ریاست کے دو تصورات سے واقف تھے ۔ ایک اسلامی مملکت اور دوسری غیراسلامی مملکت ۔ یہ تو ہندوستانی مسلم علماء کی دین ہے کہ انہوں نے اسلامی ممالک کے تصور کو وسعت دیتے ہوئے دنیا کے سامنے تیسری قومیت کا تصور بھی پیش کیا  اور یہ مملکت امن کا تصور تھا ۔ اس نظریہ نے ہندوستانی مسلمانوں کی بڑی تعداد کو پرجوش بنادیا اور اسی جوش و خروش کے ساتھ مسلمانوں نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا ۔ ایک پرامن مملکت کے طور پر ہندوستان میں ٹھہرے رہنے اور یہیں پر زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ ہندوستانی مسلمانوں نے جناح کے انتشار پسندانہ ایجنڈہ کو مسترد کردیا تھا ۔ ہمیں اسی جذبہ تصور کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ یہی لمحہ مسلمانوں کیلئے فخر کا باعث بنا اور انہوں نے پوری قوت ارادی اور جذبہ خلوص کے ساتھ ہندوستان کو ایک مضبوط ملک بنانے کیلئے کام کیا ۔ ہندوستان کیلئے مسلمانوں کی قربانیاں اور ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ انہوں نے اس ملک کیلئے جو کچھ کیا ہے وہ آج کی پڑی کو واقف کروانے کی ضرورت ہے جو لوگ ہندو راشٹریہ کا پروپگنڈہ کررہے ہیں یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ان کا ایجنڈہ انتشار پسندانہ ہے ۔ اس سے ملک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائے گا ۔ دراصل یہ لوگ 21 ویں صدی کے جناح کی سیاست کو سنگھ پریوار کی سیاست سے جوڑ کر غلط نظریہ پیش کررہے ہیں ۔
سوال : آج کے حالات آپ کی نظر میں اتنے بھیانک اور سنگین دکھائی دیتے ہیں؟
جواب :  ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاسی اسلام نے مسلم طبقہ کو بڑے پیمانے پر واضح سمت عطا کی ہے کہ آیا ایک اسلامی مملکت میں ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں اور ایک غیر اسلامی مملکت میں ان کی ذمہ داریاں کیا ہونی چاہئیے ۔ اگر ہندوستان کو ایک ہندو راشٹریہ بنانے کا اعلان کردیا گیا تو یہ ملک امن کو ترستا رہ جائے گا اور مجھے اندیشہ ہے کہ سیاسی اسلامی کے بنیادی اصولوں کی رہنمائی میں یہ لوگ وہی کام کریں گے جو انہیں اس کے جواب میں کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ اس وقت یہ لوگ پوری طرح آزاد ہوجائیں گے کہ آیا وہ جلاوطنی کریں یا پھر قوم دشمنی کا سامنا کریں لیکن میں آپ کو یہ تیقن دیتا ہوں کہ ہندوستانی مسلمان ہرگز کہیں بھی ترک مقام نہیں کریں گے اور نہ ہی پاکستان کے بشمول کوئی ملک انہیں قبول کرے گا ۔  کیونکہ ہم نے پاکستان کے نظریہ کے خلاف کام کیا ہے اور یہ دو قومی نظریہ ہے ۔ یہ بھی یاد رکھیئے کہ اگر ہندوستانی مسلمانوں نے جناح کا ساتھ دیا ہوتا تو جنوبی ایشیاء کا جغرافیہ ہی مختلف ہوتا ۔

TOPPOPULARRECENT