Wednesday , October 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ملک کے دستور کو بدلنے کی کوشش سے سماج الجھنوں کا شکار

ملک کے دستور کو بدلنے کی کوشش سے سماج الجھنوں کا شکار

اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق خواتین نشانہ پر ، کڑپہ میں مسلم پرسنل لا کا جلسہ ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور دیگر علماء کا خطاب

کڑپہ ۔ /23 ڈسمبر (راست) بھارتی سماج الجھنوں سے گزر رہا ہے ۔ ملک کے دستور کو بدلنے کی کوشش ہورہی ہے ۔ لفظ سیکولرازم پر حملے ہورہے ہیں اور بہت سے قوانین جو آزادی سے پہلے سے چلے آرہے ہیں اور جن قوانین سے مختلف اقلیتوں کا تحفظ ہوتا ہے وہ بھی نشانہ پر ہیں ۔ انتشار سماج پر حکومت کی خاموشی الگ سے الجھن کا باعث ہے ۔ نسلوں کے مستقبل کا تحفظ دستوری ضمانتوں میں سے ہے لیکن سرکاری اسکولوں کو مذہبی نصاب سے آراستہ کیا جارہا ہے جو عین دستور کے خلاف ہے ۔ ایک نئی تاریخ سے خاص نقطہ نظر سے لکھا جارہا ہے وہ نصاب تعلیم کا حصہ بنانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں ۔ اسکولوں میں یوگا ، سوریہ نمسکار اور وندے ماترم کا ان لوگوں پر مسلط کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور بعض ریاستیں اس پر عمل پیرا بھی ہیں ۔ یہ تسلط کی کوشش ان لوگوں پر کی جارہی ہے جو سورج کی پوجا کے قائل نہیں ہیں اور جو ارض وطن کو ’’محبوب‘‘ تو رکھتے ہیں لیکن ’’معبود ‘‘ نہیں بناسکتے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے صدارتی خطاب بعنوان ’’ دین بچاؤ ، دستور بچاؤ‘‘ میں ان خیالات کااظہار کیا ۔

ضلع کڑپہ میں منعقدہ اس جلسہ میں جو بروز اتوار /20 ڈسمبر بمقام کمیونٹی سنٹر ہال میں مقرر تھا ان میں شرکت کرنے والے قابل ذکر علماء ، مشایخین و دانشوروں اور جماعتوں کے نمائندوں میں محمد مصطفی حسینی کڑپہ (رکن مسلم پرسنل لا بورڈ) ، مولانا جعفر پاشاہ ( امیر ملت اسلامیہ تلنگانہ) ، جناب حامد محمد خاں ، امیر جماعت اسلامی تلنگانہ ، اقبال احمد انجنیئر سکریٹری ملی کونسل تلنگانہ و آندھرا اے سمپت کمار ، نائب صدر امبیڈکر سوسائیٹی آف انڈیا ، جے وی رامنیا رائل سوسائیٹی ایس سی / ایس ٹی ہیومن رائٹس فورم (کڑپہ) اور کئی ذمہ دار نمائندے خانقاہوں کے موجود تھے ۔ مولانا نے فکر مندی کا اظہار کیا کہ آج ملک میں عدم رواداری کو فروغ مل رہا ہے اور تبلیغ مذہب کی دستوری آزادی کو ختم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں ۔ اس موقع پر مولانا جعفر پاشاہ نے عوام کو ترغیب دلائی کہ مسلمان اپنے تمام مسائل ’’دارالقضاۃ‘‘ کے ذریعہ حل کروائیں ۔ امیر جماعت اسلامی تلنگانہ حامد محمد خاں نے زور دے کر کہا ملت میں اتحاد و اتفاق قدر مشترک ’’ پرسنل لا کے تحفظ ‘‘ پر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ اقبال احمد انجنیئر سکریٹری ملی کونسل نے صدا بلند کی ۔ اب مسلمانوں کو خوف سے باہر آکر اپنے دستوری شہری حقوق کے تحفظ کے لئے دستوری ضمانتوں کو بروئے کار لانا ہے ۔ اس کے لئے سیکولر اور غیر مسلم افراد اور جماعتوں کو ساتھ لینا ہوگا ۔ محمد مصطفی حسینی رکن مسلم پرسنل لا بورڈ کڑپہ نے جمیع حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کڑپہ میں یہ جلسہ منعقد کرتے ہوئے عوامی شعور پیدا کرنے کے اقدام کو سراہا اسے ’’وقت کی ضرورت بتایا ‘‘ ، اے سمپت نے دلتوں اور مسلمانوں کے اتحاد کو ملک کی سالمیت کا ضامن بتاتے ہوئے ایک ابھرتی ہوئی طاقت کا نام دیا ۔ جے وی رامنیا نے کہا کہ دلتوں کے تحفظات اور دستوری ضمانتوں کو ختم کرنے کی موجودہ اقتدار کی کوششوں کو ناکام بنانے کا واحد راستہ ’’ مسلم دلت اتحاد ‘‘ ہے ۔ اس موقع پر ’’دینی تحفظ اور دستور بچاؤ کے اقدامات اور تعاون کے لئے ایک قرارداد ، عوامی تائید سے منظور کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT