Sunday , August 20 2017
Home / مضامین / ملک کے سنگین حالات اور مودی جی

ملک کے سنگین حالات اور مودی جی

 

کیپٹن سید باقر علی
حیران ہوں کہ روؤں یا بیٹیوں جگر کو میں کے مصداق سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کیا قلمبند کروں۔ کیسے کروں۔ کہاں سے شروع کروں۔ مجھے یقین ہے کہ ہزار ورق بھی میں لکھ ڈالوں تو محترم وزیراعظم کے کارناموں کا احاطہ کرنے میں ناکام رہوں گا۔ اب تک اتنے قلمکاروں نے اس موضوع پر اتنا کچھ لکھ دیا ہے کہ ان کا ایک جگہ اکٹھا کرنا بھی سمندر کو کوزے میں سمانے کی کوشش کرنے کے برابر ہے۔ اگر میں ان کارناموں کا اخباری ریفرینس دوں تو سارا مضمون صرف ان حوالوں سے ہی بھر جائے گا ۔ لہذا سرسری طور پر ذکر کرنے پر ہی اکتفا کرتے ہوئے آگے بڑھوں گے۔
امیروں کی سرکار : اس سرکار نے اقتدار حاصل کرتے ہی ڈائمند بیوپاریوں کے سالانہ ستر ہزار کروڑ روپئے کا ٹیکس برخواست کردیا ۔ ظاہر کے ہیروں کے بیوپاری مودی کا سوٹ ہراج میں چند لاکھ یا کروڑ میں خریدیں تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ اس کام نے گولڈ کے بیوپاریوں کے 15 فیصد ٹیکس کو 5 فیصد کردیا ۔ ظاہر ہے وہ بھی خوش ہیں۔ سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کو انہوں نے جو مراعات عطا کئے ہیں ، وہ بیان سے باہر ہیں۔ یہ مراعات پور ی رعایا سے وصول کئے ہوئے خون پسینہ کی کمائی سے حاصل کر کے امیروں کو عطا کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ سرمایہ داروں اور صنعتکاروں نے اپنے خزانے کے منہ کھول دیئے ۔ پورے چھوٹے بڑے نیشنل انٹرنیشنل ٹی وی چیانل خرید لئے گئے ۔ علاقائی اور نیشنل اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات مودی جی کے پر فریب اور سہانے دعوؤں سے بھر گئے ۔ ہمیں یاد ہے الیکشن کے وقت ٹی وی کے پر چیانل کے پردے سے مسکراتے ہوئے مودی جی کی تصویر نظر آتی تھی یا ان کی لن ترانیاں سنتے سنتے کان پک گئے اور دیکھتے دیکھتے آنکھیں تھک گئی تھیں۔ ڈھنڈورہ تو غریبوں کے مسیحا کا پیٹا گیا لیکن اب تینس سال کی حکومت میں امیروں کی چاندی رہی اور غریب حیران پریشان ہوگیا ۔ نوٹ بندی میں چھوٹے بیو پاریوں اور کاروباریوں پر کاری ضرب پڑی اور مزدور طبقہ کھانے پینے کو ترسنے لگا کالے دھن کا لالچ دیکر غریبوں کے ووٹ حاصل کئے گئے اور بعد میں جب لوگوں نے تنگ کیا کہ وہ پندرہ لاکھ ہر کھاتہ میں جو آئے تھے ، کہاں گئے ۔ امیت شاہ نے کہہ دیا کہ وہ تو (Election Stunt) تھا الیکشن کا ناقابل عمل وعدہ تھا ۔ یہ کہتے ہوئے ان کے منہ پر ملامت و ندامت تو دور شاطرانہ فاتحانہ مسکراہٹ کھل رہی تھی۔ ان کے بارے میں زیادہ لکھنا سورج کو چراغ دکھانے کے مصداق ہوگا۔

(3) نوٹ بندی : جب سرکاری بینکوں میں رکھا ہوا پیسہ صنعتکاروں اور بڑے بیوپاریوں نے بطور قرض وصول کر کے دودھ کے اوپر کی ملائی خود کھالی (یا سوئس بینک کو ٹرانسفر) اور باقی دودھ میں پانی ملاکر ابال آکر دودھ مٹی میں مل جانے (دیوالیہ) کا ناٹک کرکے ڈکار لئے بیٹھ گئے ۔ بینکوں نے ریزرو بینک سے مزید پیسہ طلب کیا ۔ اس وقت کے ریزرو بینک کے گورنر نے فوری منع کردیا کیونکہ اگر ریزرو مارکٹ میں پھیلایا تو بغیر ریزرو کے بینک کا وجود خطرے میں پڑجاتا ۔ پھر انہیں میعاد پوری ہونے پر بہترین کارکردگی دکھانے کے باوجود عہدہ پر نہیں رکھا گیا ۔ ایک گجراتی صاحب کو ریزرو بینک کا گورنر بنایا گیا جو حکم کے مطابق اٹھ بیٹھ کرتے ہیں۔ نوٹ بندی کے چھ مہینے کے بعد ان سے پوچھا گیا کہ کتنا پرانا پیسہ بینکوں میں جمع ہوا ، وہ بتانے کے قابل نہ تھے ۔ کالا دھن تو امیروں کے پاس ہے جن کی پہلی لسٹ حکومت کے پاس موجود ہے لیکن یہ مودی جی کو پتہ ہے کہ کیوں نہیں عوام کو بتائی گئی ہے اور تو اور سپریم کورٹ نے پوچھا کہ وہ کون صنعتکار یا تاجر ہیں جنہوں نے ہزاروں کروڑ روپئے بینکوں سے قرض حاصل کیا اور پھر دبادیا تو گورنمنٹ کا جواب تھا کہ سیکوریٹی کی وجوہات پر ان ناموں کا افشاء سپریم کورٹ پر بھی افشا نہیں کیا جائے گا ۔ اب عوام سے وصول کیا ہوا پیسہ واپس دینے سے پچھلے نو مہینوں سے پس و پیش کیا جارہا ہے ۔ جب جاؤ بینک والے پیسہ نہ ہونے کا رونا روتے ہیں ۔ اے ٹی ایمس بھی پیسہ غائب ہے یا نہ ہونے کے برابر ہے۔ لوگ نوٹ بندی کے دوران قطاروں میں کھڑے رہے ، کئی تو مر بھی گئے ۔ اب جو مڈل کلاس والوں نے اپنی ضرورتوں کیلئے پیسہ جمع کر رکھا تھا (ڈھائی لاکھ سے اوپر) اب مودی جی ان پر ٹیکس لگانے کی نوٹس بھیج رہے ہیں۔ جب اگلے دو سال میں امیر دوست یہ پیسہ بھی بطور قرض حاصل کرلیں گے اور دبا دیں گے تو ملک کا دیوالیہ ہوجائے گا ۔ پتہ نہیں تب تک مودی جی سیٹ پر رہیں گے جوابدہ کیلئے یا نہیں۔ لیکن ملک تو بھکاری ہوجائے گا جو نئے نوٹ آئے ہیں پتہ چلا ہے کہ ان کی بھی نقل بازار میں آچکی ہے ۔ اب عوام کو جعلی نوٹ کو پہچاننے کی مشق کرنی پڑے گی ۔ نصف آبادی ہندوستان کی ابھی بھی ان پڑھ ہے ، ان کو نوٹ پہچاننے کی تمیز کیونکر آئے گی ۔ یہ حکومت کی کمزوری ہے کہ جعلی نوٹوں کی روک تھام کیلئے چند سال کی سزا کے بعد چھوڑ دیتی ہے ۔ اگر قانون بنایا جائے اور گھر گھر یہ بات پھیلائی جائے کہ جعلی نوٹ کا کاروبار کرنے والے کو عمر بھر قید یعنی مرکر ہی رہائی ملے گی تو پھر دیکھئے کون پاکستان یا بنگلہ دیش سے نوٹ لینے پر تیار ہوتا ہے ۔ کیرالا میں آج سے تین دہائی قبل نکسلائٹ تحریک بڑے زوروں سے ابھری تھی۔ اس وقت کی حکومت نے پولیس پر دباؤ ڈالا اور پولیس نے ایک نکسلائیٹ لیڈر عورت کو ننگا کر کے سڑکوں پر گشت کر ایا تھا ۔ وہ دن اور آج کا دن ہے ، کیرالا میں اس تحریک کا کوئی نام بھی نہیں لیتا ہے ۔ راقم کا مطلب یہ نہیں کہ اس کو دہرایا جائے لیکن پو لیس کو ایسے معاملے میں جہاں ملک کی معیشت خطرے میں ہو پوری چھوٹ دینی چاہئے کہ وہ اپنے طریقہ سے مجرموں کا حوصلہ پست کرے ، اگر پھر بھی نہ ہو تو سخت قانون کے تحت سزا دینی چاہئے ۔ نوٹ بندی کی آڑ میں کئی امیروں کی دوکانیں چمک اٹھیں۔ ڈھائی سے تین فیصد پیسہ Airtel/Pay TM وغیرہ وغیرہ کمپنیوں کو دینا پڑے گا کیونکہ مودی جی کا حکم ہے دو ہزار سے زیادہ ۔ پھر اس کو دو لاکھ سے زیادہ کی رقم کو کریڈٹ کارڈیا چیک یا بینک ڈرافٹ سے دینا ہوگا ۔ اب دو دن پہلے خبر آئی ہے کہ اب دو لاکھ سے زیادہ بھی کیش میں دیا جاسکتا ہے ۔ سوال یہ ا ٹھتا ہے کہ بینک ہم سے چارجس Transaction Charges لیتا ہے تو پھر ہم یہ ڈھائی فیصد ان امیروں کو اور امیر کرنے کیلئے کیوں دیں۔ کیا اس حکومت نے غریبوں اور عوام کو لوٹ کر امیروں کو امیر ترین بنانے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے ؟ کیا یہ بات غریبوں کیلئے پریشانی کی بات نہیں ہے ۔ اب بیرونی سرمایہ کاروں نے بھی اپنا ہاتھ سرمایہ کاری کرنے سے تقریباً روکدیا ہے ۔ انٹرنیٹ میں یہ بات نوٹ کی جاسکتی ہے کہ منموہن سنگھ نے عالمی معاشی (Ranking) درجہ بندی کی لسٹ میں دس سال میں ہندوستان کو 25 ویں نمبر سے 8 ویں نمبر پر لایا ۔ مودی کی تین سال میں صرف ایک رینک یعنی (8 سے 7 ) ہوگیا۔ کیا یہی ترقی ڈھنڈورہ پیٹنے سے اصلیت نہیں بدل جاتی ، ایسے ہی ڈھنڈورہ واجپائی جی کے زمانے میں تھی ۔ (India Shining) یعنی ہندوستان چمک رہا ہے کہہ کر پیٹا گیا تھا لیکن جب نتیجہ نکلا تو حکومت گرگئی اور بی جے پی ہار گئی تھی ۔ اب پھر شاید تاریخ وہی دہرائے گی۔ کانگریس کے زمانے میں پیسہ باہر لے جانے کی حد چاہے کوئی وجہ ہو پچھتر ہزار تھی لیکن مودی حکومت نے اس کو بڑھاکر ڈھائی لاکھ کردیا ۔

GST : اشیا اور خدمات ٹیکس۔ یہ اس زمانہ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے ۔ اخبارات میں ٹی وی پر بڑے بڑے فل پیج کے اشتہارات دیئے گئے کہ مہنگائی کم ہوجائے گی اور غریبوں کا بھلا ہوگا وغیرہ ۔ اب پچھلے تین چار دن سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیں اس سے تو کچھ اور ہی معلوم ہوتا ہے ۔ ہول سیلر سے لیکر ریٹلر بھی چھوٹا کاروبار کرنے والے سبھی حیران و پریشان ہیں ۔ یہ پریشانی وہ صارفین یعنی عوام پر ڈال رہے ہیں۔ ظاہر ہے مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ خلیجی ملکوں میں یہ ٹیکس 5 فیصد ہے ۔ امریکہ میں 7.5 فیصد سے کینیڈا میں 15 فیصد اور روس میں 18 فیصد ہے جبکہ ہمارے ملک میں 28 فیصد تک ہے ۔ کہا تو گیا تھا ایک ملک ایک مارکٹ اور ایک ٹیکس رہے گا لیکن جب بلی تھیلی سے باہر آئی تو پتہ چلا کہ ہر ایٹم کا الگ الگ ٹیکس ہوگا جوکہ صفر سے 28/18/12/5 فیصد تک ہوگا ۔ کھانے پینے کی ہر چیز پر یہاں تک کہ بوتل والا پانی بھی 5 فیصد مہنگا ہوگیا ۔ پورا مارکٹ پریشان ہے کہ اب کیا ہوگا اور کیسے ہوگا ۔ انسپکٹروں کو لامحدود اختیارات دیئے گئے ہیں کہ جو بھی اس کو نہ مانے اس کو جیل کرے۔ کہا تو گیا تھا کہ انسپکٹر راج سے چھٹکارا ملے گا لیکن لگتا ایسا ہے کہ چھوٹے بیوپاریوں کو جی ایس ٹی کے نام پر تنگ کیا جائے گا ۔ جی ایس ٹی میں ایک سخت چیز ایسی ہے کہ وہ ہر چیز پر اپنا گھیرا ڈال دیتی ہے۔ کہا تو گیا ہے کہ شکر ، دال ، آٹا ، چاول پر ٹیکس نہیں رہے گا لیکن ان میں سے کوئی چیز برانڈیڈ ہوگی تو اس پر 5 یا 12 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا ۔ اب آپ ہی بتایئے آج کے زمانے میں کوئی چیز کھلی فروخت ہوتی ہے ۔ آٹا جو بھی سپلائی کرتا یا چاول ہر کوئی اپنی کمپنی کا نام تھیلے پر لکھ دیتا ہے پھر وہ چیز چلر بیشک بکے لیکن برانڈیڈ کے زمرے میں شامل ہوتی ہے اور ٹیکس لگ جاتا ہے اور تو اور پانی کے بوتل خرید کر جو ہم پیتے ہیں (کیونکہ حکومت کا سپلائی کیا ہوا نل کا پانی حد درجہ غلیظ ہے اور بیماریوں کی آماجگاہ ہے) پر برانڈیڈ ہونے کے نام پر ٹیکس شدہ ہوچکا ہے ۔ اس چکی میں تو غریب تو غریب مڈل کلاس کے لوگ بھی پس جائیں گے۔ اگلے سال تک پتہ چل جائے گا کہ مودی جی کی نت نئی اسکیمیں جو کہ شعبدہ بازی ہوتی تو اچھا تھا لیکن عوام کیلئے تکلیف دہ ثابت ہورہی ہیں۔ منموہن سنگھ کو بی جے پی والے مون سنگھ یعنی چپ چاپ رہنے والے کہتے تھے لیکن مودی جی ملک کی ان گاؤ رکھشکوں کے کارناموں پر منہ کھولنا مناسب نہیں سمجھتے۔ بس اپنی من کی بات کہے جاتے ہیں ۔انہیں عوام کی بات کی پرواہ نہیں۔ جب سارے ہندوستان میں مظلوم و شہید جنید کے قتل پر احتجاج ہوئے تو نیند سے جاگے اور کہا کہ یہ ناقابل قبول ہے ۔ یہ نہیں کہا کہ ان سڑک چھاپ غنڈوں اور قاتلوں کے خلاف سخت سزا کا قانون پارلیمنٹ میں پاس کریں گے۔ جب مسلمان مارے جارہے تو چپ سادہ رکھی تھی لیکن دلت کو مارنے پر چیخ ا ٹھے ، دلت بھائیوں کو مت مارو بلکہ مجھے گولی ماردو ۔ کیوں بھئی کیا مسلمان بھائی نہیں ۔ خیر بھائی نہیں لیکن آپ کی طرح انسان ہی ہیں۔ ان کیلئے دو لفظ بولنے سے آپ کی زبان رک گئی۔

TOPPOPULARRECENT