Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / ملک کے سیکولر اقدار زندہ ، مسلمانوں کو ڈرنے و گھبرانے کی ضرورت نہیں

ملک کے سیکولر اقدار زندہ ، مسلمانوں کو ڈرنے و گھبرانے کی ضرورت نہیں

ملک کے سیکولر اقدار زندہ ، مسلمانوں کو ڈرنے و گھبرانے کی ضرورت نہیںاکثریتی طبقے کے صد فیصد لوگ مسلمانوں کو مساوی حقوق دینے کے حامی ، ’ ہندوستان آزادی کے بعد ‘ سمینار سے ممتاز صحافی ونود دواء کا خطابl نائب صدر جمہوریہ حامد انصاری کی تقریر پر  وزیراعظم مودی کا ردعمل افسوسناکl اکثریتی طبقہ موجودہ حالات پر فکر مند ،مسلمانوں کے  جمہوری حقوق کے ساتھ کھلواڑ ناقابل برداشتlگجرات راجیہ سبھا انتخاب میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ  جمہوری ہندوستان کی شاندار مثالl ادارہ سیاست کی بنیاد سیکولرازم پر قائم  ،اس پر  آخری سانس تک کام کرنے جناب زاہد علی خاں کا عزم
حیدرآباد۔19اگست(سیاست نیوز) ہندوستان ہمہ لسانی تہذیب کا علمبردار ملک ہے ‘ یہاں پر ایک سونچ اور ایک نظریہ عوام پر نافذ کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہی رہیں گی۔ ملک میں اکثریتی طبقہ کہلائے جانے والے افراد کی آبادی کا بڑا حصہ ملک کے موجودہ حالات پر فکر مند ہے۔ وہ اقلیتی اور پسماندہ طبقات کی جمہوری حقوق کے ساتھ کھلواڑ کو کبھی برداشت نہیں کرسکتے ‘ یہ او ربات ہے چند لوگ ایک سونچ اور نظریہ قائم کرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر جب تک عظیم ہندوستان کے جمہوری اقدار محفوظ ہیں تب تک اس ملک میں ایک مخصوص طبقے کی سونچ وفکر کا فروغ پانا ممکن نہیں ہے۔آج یہاں میڈیا سنٹر آڈیٹوریم گن فاونڈری میں دی فریڈم پریس انگریزی روزنامہ کے زیر اہتمام ’ ہندوستان آزادی کے بعد‘ کے عنوان پر منعقدہ سمینار سے بین الاقوامی شہرت یافتہ ممتاز صحافی ونود دواء نے ان خیالات کا اظہار کیا۔مدیر اعلی روزنامہ سیاست جناب زاہد علی خان‘ صدر جماعت اسلامی ہندتلنگانہ واڈیشہ مولانا حامد محمد خان ‘ سابق رکن پارلیمنٹ راجیہ سبھا جناب سیدعزیز پاشاہ ‘ جناب الماس خان‘ جناب اکبر علی خان کے علاوہ دیگر نے بھی سمینار میںشرکت کی ۔ قبل ازیں ونود دواء کی صحافتی کیریر پر مشتمل ایک مختصر ڈاکیومنٹری فلم بھی دکھائی گئی۔ مسٹر ونود دواء نے اپنے سلسلے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے سابق صدر جمہوریہ ہندحامد انصاری کی وداعی تقریب کے موقع پر کی گئی تقریر پر وزیراعظم نریندر مودی کے تبصرے کو بھی قابل افسوس قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ جب حامد انصاری ایک سونچ کی شخصیت ہیںتو نریندر مودی بھی ایک منفرد سونچ او رنظریہ کی وجہہ سے پہچان میں ائے ہیں ۔ اگر حامد انصاری کو اس قسم کا بیان نہیںدینا تھا تو کیانریندر مودی کااس بیان پر ردعمل پیش کرنا درست ہے۔ مسٹر ونود دواء نے کہاکہ میںحامد انصاری کے بیان سے اتفاق کرتا ہوں اور میںان کو بہت ہی قریب سے جانتا ہوں وہ کبھی بھی چھوٹے قسم کی سیاست کے حمایتی نہیںرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پچھلے ستر سالوں میںہم نے جو وراثت تنکا تنکا جوڑ کر جمع کی ہے اس کو کسی کے ہاتھوں برباد ہوتا ہوا نہیںدیکھ سکتے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جب تک اس ملک کے سکیولر اقدار زندہ ہیں تب تک ہماری وارثت کو کوئی نقصان نہیں ہے مگر جس قسم کے حالات پچھلے تین سال میںپیدا ہوئے ہیں ان پربھی اگر ہم خاموش بیٹھے رہیں گے تو پچھلے 70 سالوں میں ہمہ لسانی ‘ ثقافتی تہذیب کا جو گلدستہ ہم نے سجایا ہے اس کو نقصان ضرور پہنچے گا۔انہوں نے کہاکہ اقلیتیں بالخصوص مسلمانوں کو ڈرنے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس ملک کی اکثریتی طبقے سے تعلق رکھنے والے صدفیصد لوگ اقلیتوں کو جمہوریت کی مناسبت سے مساوی حقوق کے حمایتی ہیں۔ مسٹر دواء نے ہندوستان کی ترقی کی تین حصوں میںتقسیم کرتے ہوئے کہاکہ ایک وہ طبقے ہیں جو نہایت پسماندہ اور پریشان حال ہیں جبکہ دوسرا طبقہ میڈل کلاس کہلایاجاتا ہے وہ بھی فی الحال پریشانیوں کا سامنا کررہا ہے اور تیسرا طبقہ امیر لوگو ں کا ہے اور جن کا اس ملک پر کنٹرول بھی ہے۔ مسٹر دواء نے کہاکہ پریشانیوں اور مصیبتوں کے باوجود غریب طبقے کے ساتھ ووٹ کا ایسا ہتھیار ہے جس کے استعمال سے وہ انقلاب برپا کرسکتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آزادی نے ہمیں سکیولرزم ‘ آزادنہ سونچ‘جمہوری حقوق فراہم کئے ہیں ‘ کنویں کے مینڈک بن کر سونچنے کے بجائے اپنے جمہوری حقوق سے استفادہ اٹھانے کے راستے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے چند دن قبل گجرات میںپیش آئے راجیہ سبھا انتخابات کی مثال پیش کی اور کہاکہ مذکورہ انتخابات میںچیف الیکشن کمیشن کا فیصلہ جمہوری ہندوستان کی ایک شاندار مثال بن سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ کانگریس کے مطالبہ پر ویڈیو دیکھنے کے بعد چیف الیکشن کمشنر نے اپنے دستوری اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کے دوووٹ مسترد کردئے ۔انہوں نے کہاکہ مکمل نہیںبلکہ عدلیہ کا کچھ حصہ اب بھی جمہوری اقدار کی پاسبانی کررہا ہے اور سارے کے سارے ابھی تک درباری نہیں بنے ہیں۔ مسٹردواء نے کہاکہ 2019کے بجائے موجودہ حکمران 2022کی بات کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ دعوی اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ وہ اندرونی طور پر خوفزدہ ہوگئے ہیں انہیںیقین ہے کہ دوبارہ وہ اقتدار پر نہیں آئیں گے اس لئے پروپگنڈوں کا سہارا لیکر حالات کو اپنے قابو میںکرنے کی کوشش کررہے ہیں جو ممکن نہیں ہے ۔ مسٹر ونود دواء نے میڈیا ہاوزس پر سرمایہ کاروں کی بڑھتی اجارہ داری کو وقت کی مجبوری قراردیا او رکہاکہ دولت ‘ شہرت اور رتبہ کے لئے صحافی حکمرانوں کے نرغے میں پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چند ایک اداروں کو چھوڑ کر بیشتر سنٹرس پر آج مکیش امبانی کی اجارہ داری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اکثر اینکرس یا تو سرکاری بن گئے ہیں یا پھر درباری اس کی وجہہ چھوٹے شہروں سے بڑے حسین خواب دیکھ کر صحافتی اداروں میںان لوگو ں کی شمولیت ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایک دور وہ تھا جب نیوز کو ایڈیٹرس بناتے تھے مگر اب صحافتی اداروں کے اشاروں پر نیوز تیارہورہی ہے ۔مذہب سماج اور ذات پات کے نام پر یکسانیت کے بجائے جمہوری حقوق کی فراہمی میں یکسانیت کو فروغ دینا کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے مزیدکہاکہ ویسے تو کئی مرتبہ میںپاکستان کا دورہ کرچکا ہوں ‘ وہاں کی تقاریب میں شرکت کی اور ایک مرتبہ سال 2003میںجنا ب زاہد علی خان صاحب کے ساتھ بھی پاکستان جانے کا مجھے موقع ملا ہے ۔ انہوں نے اُردو جرنلزم کے مستقبل کے متعلق کہاکہ اُردو کو کسی ایک مذہب سے جوڑ کر دیکھنا غلط بات ہے ‘ اُردو ہندوستان کی زبان ہے اور اُردو بولنے والوں میںصرف مسلمان نہیںہیں ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ جہاں تک اُردو صحافت کی بات ہے تو ہمیں چاہئے کہ ہم اُردوکے فروغ کے لئے جدید ٹکنالوجی کا سہارا لیں ۔انہوں نے مزیدکہاکہ وائیر کا اُردو ورـژن کی بھی شروعات عمل میںلائی جاچکی ہے۔ مدیراعلی سیاست جناب زاہد علی خان نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے ونود دواء کو حیدرآباد منتقل ہونے کی دعوت دی اور کہاکہ دواء جیسے سکیولر شخصیت کی جگہ حیدرآباد میں ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ ونود دواء جیسے ہم خیال او رسکیولر ذہن کے حامل اینکرس کے ایک پلیٹ فارم کی تشکیل موجودہ دور میںدرپیش مسائل کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔جناب زاہد علی خان صاحب نے کہاکہ ونود دواء نہ صرف پدم شری ایوارڈ یافتہ ہیںبلکہ ایک سیکولر ذہن کے مالک شخصیت بھی ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ خبروں کی اشاعت میںتسلسل کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہو ںنے مزید کہا کہ جنا ب عابد علی خان صاحب مرحوم اور جناب محبو ب حسین جگر صاحب مرحوم نے ادارے سیاست کی بنیادوں میںجو سیکولرازم قائم کیا ہے اسی پر میں اپنی آخری سانس تک کام کرتا رہوںگا۔ بعد ازاں ایڈیٹر انگریزی روزنامہ فریڈم پریس محمد عبداللہ خان نے ونود دواء اور جنا ب زاہد علی خان کو تہنیت اور مومنٹوز پیش کئے ۔ مدیر اعلی روزنامہ سیاست جنا ب زاہد علی خان نے بھی ادارے سیاست کی زیر اشاعت ’’مطبق آصفیہ‘‘ کا ونود دواء کو بطور تحفہ پیش کیا۔

TOPPOPULARRECENT