Sunday , July 23 2017
Home / ہندوستان / ملک کے صنعتی شعبوں میں روزگار کے بہترین مواقع پیدا کرنے اقدامات

ملک کے صنعتی شعبوں میں روزگار کے بہترین مواقع پیدا کرنے اقدامات

شمسی توانائی پارکس اور الٹرا میگا سولار پاور پراجیکٹ میں 40,000 میگا واٹ برقی پیدا کرنے کی گنجائش، مرکزی کابینہ کا اجلاس
نئی دہلی۔ 22 فروری (سیاست ڈاٹ کام) حکومت نے سولار پارکس اور الٹرا میگا شمسی توانائی پاور پراجیکٹس (سولار) میں 40,000 میگاواٹ کی گنجائش کو روکنا کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی زیرقیادت منعقدہ کابینی کمیٹی برائے معاشی اُمور کے اجلاس میں آج سولار پارکس اور الٹرا میگا سولار پاور پراجیکٹس کی ترقی کیلئے اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔ اس اسکیم کے تحت 20,000 میگاواٹ برقی پیدا کرنے والے یونٹوں کی گنجائش کو دوگنا کرتے ہوئے 40,000 میگاواٹ برقی پیدا کرنے کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے گا۔ ایک سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ برقی پیداوار کی گنجائش میں اضافہ کیلئے کم از کم 50 سولار پارکوں میں فی پارک کی برقی پیداوار گنجائش 500 میگاواٹ کی ہوگی اور ملک کے مختلف حصوں میں کام کرنے والے ان برقی پیداوار والے سولار پارکوں کو ترقی دی جائے گی۔ اسی طرح کے پارکس ہمالیاتی اور دیگر پہاڑی ریاستوں میں بھی قائم کئے جائیں گے، جہاں سطح اراضی کا حصول مشکل ہے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت یہاں پہاڑی علاقوں کی مسطح زمین کو حاصل کرے گی۔ سولار پارکس اسکیم کی گنجائش کو بڑھانے کیلئے ریاستوں سے تعلق رکھنے والے سولار پارکوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ سولار پارکس اور الٹرا میگا سولار پاور پراجیکٹس کو سال 2019-20ء تک قائم کیا جائے گا۔ اس کے لئے مرکزی حکومت 8,900 کروڑ روپئے کی مالیاتی امداد فراہم کرے گی۔

جب یہ پارکس کام کرنا شروع کریں گے تو ان کی برقی پیداوار کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ ہر سال ایک یونٹ میں 64 بلین یونٹس برقی پیداوار ہوگی اور اس کے لائف سائیکل پر ہر سال CO2 کی تقریباً 55 بلین ٹن کمی آئے گی۔ اس سے ملک کی طویل مدتی توانائی سلامتی کو بھی یقینی بنایا جاسکے گا۔ کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سولار اور اس سے مربوط صنعتوں جیسے گلاس، میٹلس، بھاری صنعتوں کے آلات میں روزگار کے راست یا بالواسطہ طور پر مواقع حاصل ہوں گے۔ سولار پارکس بنجر زمینات کے استعمال کا ذریعہ بن جائیں گے اور اس سے اطراف و اکناف کے علاقوں کو ترقی دی جائے تو یہ اراضی بھی قابل استعمال ہوگی۔ تمام ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کو اس اسکیم کے تحت فائدہ ہوگا۔ ریاستی حکومت نے بھی سولار پاور پارک ڈیولپر کو اولین طور پر نامزد کیا ہے اور اس پراجیکٹ کے لئے اراضیات کی بھی نشاندہی کرلی ہے۔ اس کے بعد ہی اس تجویز کو وزارت قابل تجدید توانائی کو روانہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد پراجیکٹ کی تفصیلی رپورٹ کی تیاری کے لئے 25 لاکھ روپئے منظور کئے جائیں گے، لہذا برقی پیداوار کے پراجیکٹ کی لاگت کا 30% یا 20 لاکھ روپئے تک مرکزی مالیاتی امداد بھی فراہم کی جائے گی جو سب سے کم ہے۔ اسکیم میں ایک سنگ میل والی تجاویز کے مطابق فنڈ جاری کئے جائے گا۔ سولار انرجی کارپوریشن انڈیا کو ایم این آر ای کی ہدیت کے تحت اسکیم پر کام ہوگا۔ سولار پارکس کو ریاستی حکومتوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں کے تعاون سے فروغ دیا جائے گا۔ وزارت برقی نے پہلے ہی 25 سولار پارکس پر ترقی کے لئے ایک اسکیم پر عمل آوری شروع کردی ہے، جہاں 20,000 میگاواٹ برقی پیداوار ہے، اس کی گنجائش کو دوگنا کیا جائے گا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT